انا مدینۃ العلم

سوال

مفتی صاحب قبلہ ذرا رہنمائی فرمائیں اس مسئلہ میں کہ آیا حدیثِ "انا مدینۃ العلم۔۔۔۔ الخ” پر اعتبار رکھنا چاہیئے یا نہیں اس صورت میں کہ بعض محدثین کے نزدیک موضوع تک حکم لگایا گیا ہے۔ جب کہ اہلسنت کے درمیان یہ روایت مشہور ہے۔ اور کیا اسے فضائل کے باب میں قبول نہیں کیا جانا چاہیئے۔

محمد نورانی نظامی

جواب

اعتبار رکھنا چاہیے.

محدثین کا ایک جم غفیر اس حدیث کی متعدد سندوں کی وجہ سے اسے اصطلاحی اعتبار سے "حسن” درجے کی حدیث مانتا ہے.

مگر اس کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ شہرِ علم ذاتِ مصطفی علیہ التحیۃ و الثناء کا صرف ایک ہی دروازہ ہے. امام طیبی نے شرح مشکاۃ میں لکھا ہے شہرِ جنت, شہرِ علم (سینۂ مصطفی) سے کشادہ نہیں. جب اس کے آٹھ دروازے ہیں تو شہرِ علم کا صرف ایک دروازہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟

قاضی ابو بکر بن العربی (تلمیذ امام غزالی) نے احکام القرآن میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے صحابہ ابوابِ علم ہیں (اپنے اپنے مراتب کے مطابق).

ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکاۃ میں لکھا ہے کہ اس حدیث میں "علی بابہا” کا مطلب ہے : باب من أبوابہا یعنی اس کے دروازوں میں سے ایک دروازہ.

پیر مِہر علی شاہ گولڑوی نے "تصفیہ ما بین سُنی و شیعہ” میں اس حدیث پر عمدہ گفتگو کی ہے. اور انھوں نے اس حدیث میں علم سے علمِ باطن مراد لیا ہے. یعنی باطنی علوم ذاتِ مصطفی سے امت تک بذریعۂ مولا علی پہنچے. اسی کے قریب بات شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک رسالے میں لکھی ہے جسے امام اہل سنت نے اپنی کتاب "مجتلی العروس” میں نقل کیا ہے.

مگر یہ بھی اکثر کے اعتبار سے ہے. بالکل عام نہیں ہے. کیوں کہ سلسلۂ نقشبندیہ وغیرہ میں باطنی علوم کا جو جہاں آباد ہے وہ شہرِ علم ذاتِ مصطفی علیہ التحیۃ و الثناء سے حضرتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ذریعے امت تک پہنچا ہے.

#مجیب

حضرت مفتی نثار احمد مصباحی صاحب قبلہ

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.