مشاہداتِ معراج

معراج النبی ﷺ تاریخ نبوت ‘ تاریخ انسانیت حتیٰ کہ پوری کائنات میں ایک محیّر العقول واقعہ ہے ‘جس کی کوئی اور نظیر نہیں ملتی ‘یہ ذاتِ پاکِ مصطفی ﷺ کا اعجاز اور بے پایاں اعزاز ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیۂ مبارکہ میں صراحت کے ساتھ اور سورۃ النجم کی ابتدائی اٹھارہ آیات میں اشارات وکنایات کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا ‘مگر یہ اشارات ایسے ہیں ‘ جن کے بارے میں علم المعانی میں کہا گیا ہے :”اَلْاِشَارَۃُ اَبْلَغُ مِنَ التَّصْرِیْح‘‘یعنی اشارہ صراحت سے زیادہ بلیغ ہوتا ہے اور اس کا پیغام زیادہ واضح اور موثر ہوتا ہے ‘پھر اس کا بیان احادیثِ مبارکہ میں آیا ۔ تیس سے زائد صحابۂ کرام نے واقعہ معراج کو بیان کیا ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع کی طرح ‘جسے مختلف روایات کی روشنی میں ایک لاکھ سے زائد صحابۂ کرام نے سنا ‘واقعۂ معراج بھی از اول تا آخر کسی ایک روایت میں ترتیب کے ساتھ بیان نہیں ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ کا شِعار تھا کہ کسی واقعے کے مختلف گوشوں کو مختلف مواقع پر مخاطَبین کی ذہنی استعداد کے مطابق حسبِ ضرورت بیان فرماتے ؛ چنانچہ حدیث کی کسی کتاب میں یہ واقعہ ایک ترتیب کے ساتھ مروی نہیں ہے ۔ شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں مختلف روایات میں منطقی اور واقعاتی ربط پیدا کر کے انہیں ایک ترتیب کے ساتھ یکجا بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ہر نبی کو کسی نہ کسی امتیازی شان سے نوازا ہے ‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ”اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کے اسرار ورموز دکھائے ‘‘(الانعام:75)۔شاعر نے کہا تھا: 

ہرکس بقدر خویش بجائے رسیدہ است

آنجا کہ جائے نیست تو آنجا رسیدہ ای 

یعنی ہر صاحبِ کمال اپنے مرتبے اور استعداد کے مطابق رفعتوں کی کسی منزل پر پہنچا ‘ لیکن یارسول اللہ! آپ وہاں پہنچے جہاں زمان ومکان کی حدود ختم ہوجاتی ہیں ‘ امام احمد رضا قادری رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک نعت میں رسول اللہ ﷺ کی رفعتوں کو اپنے ذوق اور علمی شان کے مطابق بیان کیا ‘ لیکن آخر میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے:

وہی لامکاں کے مکیں ہوئے ‘سر ِعرش تخت نشیں ہوئے

وہ نبی ہے جس کے ہیں یہ مکاں‘ وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں

لوگ کہتے ہیں :نبی کو حد سے بڑھا دیتے ہیں اور وہ اسے شرک سے تعبیر کرتے ہیں؛حالانکہ زمان ومکان کی حدود مخلوق ہی کیلئے ہوتی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کی ذات زمان ومکان کی حدود سے ماورا ہے ‘ابدی ہے ‘ ازلی ہے ‘ لا متناہی ہے ‘ صمدی ہے ‘ سرمدی ہے‘ امامِ اہلسنت نے لکھا:کسی علم کی حضرت عزوجل سے تخصیص اور اس کی ذات پاک میں حصر اور اس کے غیر سے مطلقاً نفی چند وجہ پر ہے:

(۱) علم کا ذاتی ہونا کہ بذاتِ خود بے عطائے غیر ہو‘(۲) علم کا غِنا کہ کسی آلۂ جارحہ‘تدبر‘ فکر ونظر اوراِلتفات واِنفعال کا اصلاً محتاج نہ ہو‘ (۳) علم کا سرمدی ہونا کہ ازلاً ابداً ہو‘ (۴) علم کا وجوب کہ کسی طرح اس کا سلب ممکن نہ ہو‘ (۵) علم کا اثبات واستمرار کہ کبھی کسی وجہ سے اس میں تغیر‘ تبدل‘ فرق اور تفاوت کا امکان نہ ہو‘ (۶) علم کا اَقصیٰ غایتِ کمال پر ہونا کہ معلوم کی ذات‘ ذاتیات‘ اَعراض‘ احوالِ لازمہ‘ مُفارقہ‘ ذاتیہ‘ اِضافیہ‘ ماضیہ‘ آتِیہ (مستقبَلہ) موجودہ‘ ممکنہ سے کوئی ذرہ کسی وجہ سے مخفی نہ ہوسکے‘ ان چھ خصوصیات پر مطلق علم حضرتِ اَحَدِیَّت جَلَّ وَعَلَا سے خاص اور اس کے غیر سے مطلقاً منفی‘ یعنی کسی کو کسی ذرہ کا ایسا علم جو ان چھ وجوہ سے ایک وجہ بھی رکھتا ہو‘ حاصل ہونا ممکن نہیں ہے جو کسی غیر الٰہی کے لیے عقولِ مفارقہ ہوں ‘خواہ نفوس ناطقہ ایک ذرے کا ایسا علم ثابت کرے‘ یقینا اجماعاً کافر مشرک ہے‘‘ (الصمصام‘ص:6)۔

معراج النبی ﷺ کا واقعہ بے شمار معجزات ‘رفعتوں اور عظمتوں پر مشتمل ہے ‘ ہمارے ہاں بالعموم معراج النبی ﷺ کے موقع پر واعظین اورخطبا ء اپنی اپنی استعداد اور فنِ خطابت کے مطابق انہی عظمتوں کا بیان کرتے ہیں ‘کیونکہ اس سے سامعین کو روحانی سرور نصیب ہوتا ہے ‘ اُن کے دلوں میں عظمتِ مصطفی کی جوت جگائی جاتی ہے اور شمع فروزاں کی جاتی ہے اور یہ بھی اپنی جگہ ایک اعلیٰ واَولیٰ مقصد ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس روش سے ہٹ کر معراج النبی ؐ کے اُن شعبوں اور جزئیات کو بیان کیا جائے ‘جو ہماری اصلاح کے لیے ضروری ہیں ‘سبق آموز ہیں ‘ ان سے خیر کے حصول کی ترغیب ملتی ہے اور شر سے بچنے کے لیے تخویف وترہیب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے‘ اُن میں سے سب سے اہم عالَمِ برزخ ‘ثواب وعقاب اور جزاوسزا کے تمثیلی مشاہَدات ہیں اور سطورِ ذیل میں ہم انہی کا بیان کر رہے ہیں‘اس سے اپنی اور اپنے دینی بھائیوں کی اصلاح مقصود ہے ‘ ہم اس کا آغاز اپنے طبقے سے کرتے ہیں:

(1)”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شبِ معراج کو میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جارہا تھا ‘میں نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ جبریلِ امین نے کہا: یہ دنیا دار خطیب ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھلا دیتے تھے ‘ حالانکہ وہ کتابِ الٰہی کی تلاوت کرتے تھے (اور جانتے تھے کہ احکامِ شرعیہ سے کسی کو استثنا نہیں )‘پس کیا وہ عقل نہیں رکھتے ‘‘(مسند احمد:12856)۔

امام بیہقی نے بیان کیا ہے: ”آپ ﷺکا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کی زبانیں اور ہونٹ لوہے کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے ‘ جونہی زبانیں اورہونٹ کٹ جاتے ‘پھر وہ پہلی صورت پر بحال ہوجاتے اور اُن میں کوئی کمی نہ ہوتی ‘ نبی کریمؐ نے پوچھا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں‘ جبریلِ امین نے کہا: یہ فتنہ پرور خطیب ہیں‘‘۔

(2)”آپ ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جس نے لکڑیوں کا ایک گٹھا جمع کر رکھا تھا ‘ وہ اُسے اٹھا نہیں پاتا تھا ‘ لیکن حِرص کے سبب اُس میں اور لکڑیاں ڈالتا جاتا ‘ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: جبریل! یہ کون ہے ‘ جبریلِ امین نے عرض کیا: یہ آپ کی امت کا وہ شخص ہے جس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہیں ‘ اُن کو ادا نہیں کرپاتا اور مزید امانتیں جمع کرتاجاتا ہے‘‘۔

(3)پھر آپﷺ کا گزر ایک پتھر کے پاس سے ہوا جس سے ایک بڑا بیل نکلتا ہے ‘وہ دوبارہ اس میں داخل ہونا چاہتا ہے ‘ لیکن داخل نہیں ہوپاتا ‘نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جبریل! یہ کیا ہے‘ جبریلِ امین نے کہا: یہ شخص شہر میں (فتنہ برپا کرنے والی )کوئی بات کرتا ہے ‘ پھر (اُس کے نتائج دیکھ کر)اس پر شرمسار ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ اُسے واپس لے لے (تاکہ فتنہ فرو ہوجائے )‘ لیکن ایسا کر نہیں پاتا‘‘(دَلَائِلُ النُّبُوَّۃ لِلْبَیْہَقِی‘ج:2ص:397)۔ اس کے مظاہرہم آئے دن اپنے گِردوپیش میں دیکھتے رہتے ہیں ‘ سیاسی رہنما ترنگ میں آکر کوئی بات کہہ دیتے ہیں ‘پھر جب اس کا ردِّعمل آتا ہے تو یا تو سِرے سے انکار کردیتے ہیں یا بہانے تراشتے ہیں کہ میرا مطلب یہ نہیں تھا ‘ وہ نہیں تھا۔ لیکن بعض باتیں کسی تاویل یا توجیہ کی محتاج نہیں ہوتیں‘ بلکہ اپنی وضاحت آپ ہوتی ہیںاورپھر گریز کے لیے جو بھی حیلہ اختیار کیا جائے ‘ وہ ”عذرِ گناہ بدتر از گناہ‘‘ کامصداق ہوتا ہے‘ اسی لیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے‘ اُسے چاہیے کہ اچھی بات کہے (اور اگر اس کی توفیق اُسے نصیب نہیں ہے توکم از کم )چپ رہے‘‘(صحیح البخاری:6018)۔

(4)” پھر آپ ﷺ کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا ‘جن کے سروں کو بھاری پتھر سے کچلا جارہا تھا ‘ جب سر کچل دیا جاتا تو پھر وہ اصل حالت پر آجاتااور یہ کیفیتِ عذاب مسلسل جاری رہتی ‘آپ ﷺ نے پوچھا: جبریل!یہ کون لوگ ہیں ‘جبریلِ امین نے عرض کیا: یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر نمازوں سے بوجھل ہوجاتے ہیں‘‘۔یعنی وہ نمازوں کو اپنے اوپر بار محسوس کرتے ہیں‘ جیساکہ قرآنِ کریم میں ہے: ”بے شک نماز ضروربھاری ہے‘ مگر اُن پر نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں‘ جنہیں یقین ہے کہ (مرنے کے بعد) وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور یقینا وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘ (البقرہ: 4546)‘‘۔ خود رسول کریمؐ کی کیفیت یہ تھی ‘ حدیث پاک میں ہے: 

حضرت انس بیان کرتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری دنیا سے (مجھے تین چیزیں پسند ہیں )‘ (پاکباز )عورتیں ‘ خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘ (سنن نسائی:3939)۔سو اللہ تعالیٰ کے رسول مکرم ﷺ کے لیے نماز قلب کا سرور اور آنکھوں کی ٹھنڈک تھی‘ جبکہ منافق کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”بے شک منافق (اپنی دانست میں) اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی ان کو غافل کر کے مارے گااور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کسل مندی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں‘ (محض) لوگوں کے دکھاوے کے لیے اور اللہ کا ذکر بہت کم کرتے ہیں اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں‘ وہ (ایمان اور کفر کے )درمیان ڈگمگا رہے ہیں ‘(صدقِ دل سے)نہ اس طرف ہیں اور نہ اُس طرف اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو آپ اُس کے لیے کوئی راہ نہ پائیں گے‘‘ (النسائ:142143

(5) ”پھر آپ ﷺ کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کی دونوں شرمگاہوں پر چیتھڑے تھے اور وہ جانوروں کی طرح خاردار زہریلے درخت ‘زقّوم (تھوہرکاکڑوا درخت) اور گرم پتھر کھارہے تھے ‘ آپ ﷺ نے پوچھا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں ‘ جبریلِ امین نے عرض کیا: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کے صدقات ادا نہیں کرتے اور اللہ نے اُن پر ظلم نہیں فرمایا اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے ‘‘۔اسی حقیقت کو قرآنِ کریم کی ایک آیت میں بیان فرمایا: ”اور اللہ نے اُن پر ظلم نہیں فرمایا‘ بلکہ وہ (اپنے کرتوتوں کے سبب) خود ہی اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے ‘‘(آل عمران:117)۔ 

(6)” پھر آپ ﷺکا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اُن کے سامنے ایک طرف ہنڈیا میں تروتازہ پاکیزہ بھنا ہوا گوشت اور دوسری طرف خبیث (بدبودار سڑا ہوا)گوشت تھا‘ وہ پاکیزہ گوشت کو چھوڑ کر اُس خبیث گوشت کو کھارہے تھے‘آپ ﷺ نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں‘ انہوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس (رشتۂ نکاح سے)حلال پاکیزہ عورت ہوتی ہے اور وہ اپنی جنسی خواہش کو بدکار عورت سے پورا کرتے ہیںاور صبح تک اس کے ساتھ سوئے رہتے ہیں ‘‘۔حدیث ِپاک میں ہے: ”رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر سے فرمایا: میں تمہیں سب سے بہترین نعمت کے بارے میں نہ بتائوں ‘جسے کوئی انسان حاصل کرے ‘ (وہ )نیک بیوی ہے کہ جب اُس کی طرف دیکھے تو وہ اُسے سرور عطا کرے اور جب اُسے (کسی جائز کام کا) حکم دے تو اُس کا کہا مانے اور جب وہ (شوہر)موجود نہ ہو تو اس کی (امانت کی) حفاظت کرے‘‘ (ابودائود:1664)۔شوہر کی ایک امانت تو گھر کا مال ومتاع ہے‘ لیکن بیوی کے پاس شوہر کی سب سے گراں قدر امانت اُس کی عفت اور پاک دامنی ہے‘ سو پاک دامن عورت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے اور یہ نعمت کسی سپر سٹور یاڈیپارٹمینٹل سٹور سے دولت کے عوض خریدی نہیں جاسکتی ‘ یہ صرف اللہ کی عطا سے نصیب ہوتی ہے۔ 

(7)سفرِ معراج کے دوران رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک ایسی وادی سے ہوا‘جہاں سے نہایت خوشگوار‘ ٹھنڈی اور خوشبودار ہوا آرہی تھی‘ جس میں مشک کی خوشبو تھی اور وہاں سے آواز آرہی تھی‘ آپ ﷺنے پوچھا: اے جبریل! یہ مشک کی خوشبو والی پاکیزہ ہوا اور یہ آواز کیسی ہے‘ جبریل امین نے کہا: یہ جنت کی آواز ہے ‘جو پکار رہی ہے: اے پروردگار!اپنے وعدے کے مطابق ‘مجھے میرے باسی عطا کر‘ کیونکہ میری خوشبو ‘میرا ریشم ‘میرا سُندُس (باریک ریشم)‘ میرا اِستَبرق( دبیز ریشم) ‘ میرا عمدہ فرش ‘ میرے موتی‘ میرے مرجان‘ میرا سونا اور چاندی ‘میرے جام‘ میرے پھل ‘میرا شہد ‘ میرا دودھ بہت زیادہ ہوگیا ہے ۔پس اپنے وعدے کے مطابق ‘مجھے میرے اہل عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہر مسلم اور مسلمہ‘ ہر مومن اور مومنہ جو مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور نیک کام کیے ‘ نہ میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا ‘ نہ میرے مقابل کوئی معبود بنایا‘ جن کے دلوں میں میری خَشیت تھی‘ پس وہ مجھ سے جوسوال کریں گے‘ میں انہیں عطا کروں گا‘وہ مجھے جوقرض دیں گے ‘میں اُن کو جزا دوں گا اور مجھ پرجو توکل کریں گے‘ میں اُن کے لیے کافی ہوں ‘ میں اللہ ہوں اور میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے ‘میں وعدے کے خلاف نہیں کرتا‘( آپ ﷺ نے سورۂ مومنون کی ابتدائی چودہ آیات یعنی قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ سے لے کر تَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ تک تلاوت فرمائیں)‘ تو جنت نے عرض کیا: میں راضی ہوگئی…!!

نوٹ: اللہ کو قرض دینے کے معنی ہیں: اللہ کی راہ میں خرچ کرنا‘ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”اورنماز قائم کرو اور زکوٰۃ دواور اللہ کو قرضِ حسن دواورجو اعمالِ خیرتم آگے بھیجو گے‘ اُسے اللہ کے پاس بہتر اور عظیم ترین جزا (کی صورت میں)پائو گے‘‘ (المزمل:20) نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسن دے ‘تو اللہ اُس کو بڑھا کراُس کے لیے کئی گنا کردے گا‘‘ (البقرہ: 245)۔صحیح مسلم:2569کا خلاصہ یہ ہے : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور ایک شخص پیش ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا: میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہ کی‘میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے نہ کھلایا‘ میں نے تجھ سے پانی مانگا‘ تو نے مجھے نہ پلایا‘بندہ عرض کرے گا: اے اللہ! یہ سب تو بندوں کی حاجات ہیں ‘ تیری ذات تو ان سے پاک ہے ‘تو رب العالمین ہے‘ میں کیسے یہ سب کچھ تجھے پیش کرتا‘ اللہ فرمائے گا: اگر تو ان حاجت مندوں کی حاجتیں پوری کرتا تو مجھے ان کے پاس ہی پاتا‘‘۔

(8) پھر آپ ﷺ کا گزر ایک وادی پر ہوا جہاں آپ نے نہایت بھیانک اور مکروہ آوازیں سنیں‘ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ آوازیں کیسی ہیں‘ جبریلِ امین نے عرض کیا: یہ جہنم کی آواز ہے ‘جہنم کہہ رہا ہے : (اے اللہ!)اپنے وعدے کے مطابق مجھے میری باسی عطاکر‘ کیونکہ میری زنجیریں ‘میرے طوق ‘میرے شعلے‘ میرا زقّوم (تھوہر کا کڑوا پھل)‘ میری تپش‘ میرے پتھر‘ میری پیپ‘ میرا بہتا ہوا لہو‘ میری گہرائی‘ میری حرارت بہت زیادہ ہوگئی ہے‘ اپنے وعدے کے مطابق ‘مجھے میرے اہل عطا فرمادیجیے‘ اللہ نے فرمایا: ہر مشرک ومشرکہ ‘ ہر کافر وکافرہ ‘ ہر خبیث وخبیثہ ‘ہرجابر وظالم جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا‘ (وہ سب تیرے اہل ہیں)‘جہنم نے عرض کیا: میں راضی ہوگیا‘‘۔

(9)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے شبِ معراج جنت کے دروازے پر یہ تحریر دیکھی: ”صدقے کا ثواب دس گنا اور قرض کا اٹھارہ گناہے‘‘میں نے پوچھا:اے جبریل!قرض کے صدقے سے افضل ہونے کا سبب کیا ہے ‘ جبریلِ امین نے عرض کیا: عام سوالی جب سوال کرتا ہے تو اُس کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتا ہے اور قرض خواہ حاجت کے بغیر قرض نہیں مانگتا ‘‘(ابن ماجہ:2431)۔امام احمد رضا قادری رحمہ اللہ تعالیٰ کے سامنے قرض خواہوں کی نادہندگی کا ذکر ہوا ‘ آپ نے فرمایا: میرے بھی لوگوں پر پندرہ سو درہم قرض ہیں ‘نہ وہ دیتے ہیں ‘ نہ میں تقاضا کرتا ہوں ‘ آپ سے پوچھا گیا :اگر آپ تقاضا نہیں کرتے‘ تو معاف کیوں نہیں کردیتے ‘ آپ نے جواب دیا: میرے پیشِ نظر یہ حدیث ہے:”نبی ﷺ نے فرمایا: جو کسی تنگدست (مقروض) کو مہلت دے گا‘تو اُسے ہر روز (قرض کی رقم کے برابر) صدقے کا اجر ملے گااور جو شخص قرض کی ادائیگی کامقررہ وقت آنے کے بعد مقروض کو مہلت دے گا‘ تو ہر روز اُسے اتنی ہی رقم کے برابر صدقے کا اجر ملے گا‘‘ (سنن ابن ماجہ:2418)۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ لوگ قرض لے کر استطاعت کے باوجود قرض ادا نہ کریں‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غنی کا (قرض کی ادائیگی میں )ٹال مٹول کرنا ظلم ہے‘‘ (صحیح البخاری:2400)‘ نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ”مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا اُس کی آبرو اور سزا کوحلال کردیتا ہے‘‘ (سنن ابن ماجہ:2427)۔

(10)شبِ معراج رسول اللہ ﷺ کے لیے سواری لائی گئی اور آپ اس پر سوار ہوئے ‘ اُس سواری کی رفتار کا عالَم یہ تھا کہ ہر قدم حدِّ نظر پرپڑتا تھا‘ آپ ﷺ جبریلِ امین کے ساتھ چلتے رہے‘ یہاں تک کہ آپ کا گزر ایک قوم پر ہوا جو ایک دن فصل کاشت کرتے اور ایک دن تیار فصل کاٹتے‘ جونہی اُس فصل کو کاٹتے ہیں ‘ وہ پہلے کی طرح تیار شکل میں آجاتی ہے‘آپ ﷺ نے پوچھا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں‘ جبریلِ امین نے کہا: یہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والے ہیں ‘جن کی ہر نیکی کا اجر سات سو گنا تک بڑھا کر دیا جاتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اور تم جو کچھ بھی (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو گے تو وہ اس کا بدل مہیا کردے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے‘‘ (سبا:39)۔

(11)پھر آپ ﷺچلے یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گئے ‘ آپ سواری سے اترے اور اپنی سواری کو ایک چٹان کے ساتھ باندھ دیا ‘ پھر بیت المقدس میں داخل ہوئے اور نماز پڑھی تو آپ کے ساتھ فرشتوں نے بھی نماز پڑھی‘ جب نماز ادا ہوگئی تو فرشتوں نے کہا: اے جبریل! آپ کے ہمراہ یہ کون ہیں ‘جبریلِ امین نے کہا: ”محَمّد رسولﷺ اور خاتم النبیین ہیں‘‘ فرشتوں نے پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے‘ جبریل ِامین نے کہا: ہاں!انہوں نے کہا: اس نہایت ہی اچھے بھائی اور جانشین کو ہماری طرف سے تحیّت پیشِ خدمت ہے‘ نہایت اچھے جانشین اور کیا ہی عمدہ آنے والے ہیں‘ پھر آپ ارواحِ انبیاء کے پاس آئے اور اُن سب نے اپنے رب کی ثنا بیان کی ۔

ابراہیم علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں‘ جس نے ابراہیم کو خلیل بنایا ‘اُس نے مجھے عظیم ملک دیا‘ مجھے اللہ سے ڈرنے والی امت بنایا‘ میری پیروی کی جاتی ہے ‘مجھے آگ سے بچایا اور اس آگ کو میرے لیے ٹھنڈک اور سلامتی کردیا ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے جس نے مجھے ہم کلامی کا شرف عطا فرمایا ‘اپنی رسالت وکلام کے لیے مجھے چنا اور مجھ سے سرگوشی کی ‘ مجھ پر تورات نازل کی‘ آلِ فرعون کو میرے ذریعے ہلاک کیا اور بنی اسرائیل کو میرے ذریعے نجات عطا کی۔حضرت دائود علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ‘جس نے مجھے حکومت کی نعمت دی ‘ مجھ پر زبور نازل کی‘ لوہے کو میرے لیے نرم کردیا ‘ پرندوں اور پہاڑوں کو میرے لیے مسخر کردیا ‘ مجھے حکمت دی اور فیصلہ سنانے کا منصب عطا فرمایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں‘ جس نے میرے لیے ہوائوں ‘ جنّوں اور انسانوں کو تابع کردیا ‘شیاطین کومیرے لیے مسخر کردیا جو عمارتیں اور مجسمے بناتے تھے ‘ مجھے پرندوں کی بولی اور ہرچیز سکھائی ‘ میرے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا‘ مجھے ایسا عظیم ملک دیا جو میرے بعد کسی اور کے لیے سزاوار نہیں ہے۔ 

پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا:تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں ‘جس نے مجھے تورات اور انجیل کی تعلیم دی اور میں اللہ کے اذن سے مادرزاد اندھوں اور برص کے مریضوں کو صحت یاب کرتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں ‘اس نے مجھے آسمان پر اٹھایااور کفار سے نجات دی‘ مجھے اور میری والدہ کو شیطان رجیم کے شرسے اپنی پناہ میں رکھا اور شیطان کا ان پر کوئی بس نہیں چلتا۔ پھر حضرت سیدنا محمد ﷺ نے اپنے رب کی ثنا کرتے ہوئے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے رَحْمَۃً لِلْعَالَمِیْن بناکر بھیجا ‘ تمام لوگوں کے لیے بشیر اور نذیر بنایا اور مجھ پر قرآن نازل کیا‘اس میں ہرچیز کا واضح بیان ہے‘ میری امت کو خیرُالاُمَم بنایا‘ میرا سینہ کھول دیا اور مجھ سے بوجھ اتار دیا ‘ میری خاطرمیرا ذکر بلند کیا اور مجھے (نبوت میں) اول وآخر بنایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہوکر فرمایا: انہی فضائل کی وجہ سے تم سب پر محمد ﷺ کو فضیلت دی گئی ہے‘‘۔ نوٹ: یہ روایات ”دَلَائِلُ النُّبُوَّۃ لِلْبَیْہَقِی‘ج:2ص:397‘‘میں درج ہیں۔ 

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.