يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَلَا الشَّهۡرَ الۡحَـرَامَ وَلَا الۡهَدۡىَ وَلَا الۡقَلَٓائِدَ وَلَاۤ آٰمِّيۡنَ الۡبَيۡتَ الۡحَـرَامَ يَبۡـتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرِضۡوَانًا ‌ؕ وَاِذَا حَلَلۡتُمۡ فَاصۡطَادُوۡا‌ ؕ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡكُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا‌ ۘ وَتَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰى‌ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ‌ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 2

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَلَا الشَّهۡرَ الۡحَـرَامَ وَلَا الۡهَدۡىَ وَلَا الۡقَلَٓائِدَ وَلَاۤ آٰمِّيۡنَ الۡبَيۡتَ الۡحَـرَامَ يَبۡـتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرِضۡوَانًا ‌ؕ وَاِذَا حَلَلۡتُمۡ فَاصۡطَادُوۡا‌ ؕ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡكُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا‌ ۘ وَتَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰى‌ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ‌ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی نہ کرو ‘ اور نہ حرمت والے مہینہ کی اور نہ کعبہ میں بھیجی ہوئی قربانیوں کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلوں میں (قربانی کی علامت کے) پٹے پڑے ہوں ‘ اور نہ ان لوگوں کی جو اپنے رب کا فضل اور اس کی رضا تلاش کرنے کے لیے مسجد حرام کا قصد کرنے والے ہوں اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کرسکتے ہو ‘ اور کسی قوم کے ساتھ عداوت تمہیں اس پر نہ اکسائے کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام میں آنے سے روک دیا تھا تو تم ان کے ساتھ زیادتی کرو ‘ اور تم نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرو ‘ اور گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی نہ کرو ‘ اور نہ حرمت والے مہینہ کی اور نہ کعبہ میں بھیجی ہوئی قربانیوں کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلوں میں (قربانی کی علامت کے) پٹے پڑے ہوں۔ (المائدہ : ٢) 

شعائر اللہ کا لغوی اور شرعی معنی : 

شعائر شعیرہ کی جمع ہے ‘ ہر وہ چیز جس کو کسی چیز کی علامت قرار دیا جائے ‘ اس کو شعیرہ ‘ شعار اور مشعرہ کہتے ہیں جس ھدی (قربانی کے جانور) کو مکہ بھیجا جاتا ہے ‘ اس کے گلے میں ہار ‘ جوتا ‘ یا درخت کی چھال ڈال دیتے ہیں۔ اس کو بھی شعار کہتے ہیں۔ 

شعائر کی شرعی تعریف میں حسب ذیل اقوال ہیں : 

عطاء نے کہ شعائر اللہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے اجتناب کیا جائے ‘ اور اس کے احکام کی اطاعت کی جائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ شعائر اللہ سے مراد ہے اللہ کی حدود کی علامتیں، اس کا امر ‘ اس کی نہی ‘ اس کے مقرر کیے ہوئے فرائض اور محرمات۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا شعائر اللہ سے مراد ہیں مناسک حج۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا مشرکین کعبہ کا حج کرتے تھے ‘ ھدی بھیجتے تھے ‘ مشاعر کی تعظیم کرتے تھے اور سفر حج میں تجارت کرتے تھے، مسلمانوں نے ان پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : کہ اے ایمان والو ! شعائر اللہ کی بےحرمتی نہ کرو۔ 

مجاہد نے اس کی تفسیر میں کہا : شعائر اللہ سے مراد ہے صفا ‘ مروہ ‘ ھدی اور دوسرے مشاعر۔ (جامع البیان ج ٦ ص ٧٤۔ ٧٢ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

حرمت والے مہینوں ‘ ھدی اور قلائد کا بیان :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اور نہ حرمت والے مہینہ کی بےحرمتی کرو “ حرمت والے مہینوں کا بیان اس حدیث میں ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” زمانہ گھوم کر اسی ہئیت پر آچکا ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا ‘ سال میں بارہ مہینہ ہیں ‘ ان میں سے چار حرمت والے مہینہ ہیں۔ تین مہینہ متواتر ہیں۔ ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ اور محرم ‘ رجب مضر کا مہینہ جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے ‘ الحدیث (صحیح البخاری ‘ ج ٥ رقم الحدیث : ٤٤٠٦) 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور نہ ھدی کی (بےحرمتی کرو) 

ھدی کا معنی ہے : وہ اونٹ ‘ بکری ‘ یا گائے جس کو بیت اللہ میں ہدیہ کیا جائے۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور نہ قلائد کی (بےحرمتی کرو) 

قلائد قلادہ کی جمع ہے ‘ ھدی کے گلے میں قربان کیے جانے کی نشانی کے طور پر اون کا ہار ‘ یا جوتی یا درخت کی چھال ڈال دی جاتی ہے۔ اس کو قلادہ کہتے ہیں اور یہاں اس سے مراد وہ جانور ہیں جن کے گلوں میں قلائد ڈالے جاتے ہیں۔ اور ابن زید نے یہ کہا ہے کہ جو شخص حرم کے درخت کی چھال اپنے اوپر لپیٹ لیتا تھا ‘ وہ مامون قرار دیا جاتا ‘ اور جہاں چاہتا چلا جاتا ‘ اور قلائد کا یہی معنی ہے۔ (جامع البیان ‘ ج ٦‘ ص ٧٦) حرمت والے مہینوں کی بےحرمتی کا معنی ہے ‘ ان مہینوں میں قتل و غارت گری اور لوٹ مار کی جائے ‘ اور ھدی کی بےحرمتی کا معنی ہے ان جانوروں کو ان کے مالکوں سے چھین لیا جائے یا ان کو کعبہ میں نہ پہنچنے دیا جائے ‘ اور قلائد کی بےحرمتی کا معنی یہ ہے کہ ھدی کے گلے سے قلادہ اتار لیا جائے ‘ یا اس کو نوچ ‘ کھسوٹ کر خراب کردیا جائے ‘ یا جس شخص نے اپنے جسم پر حرم کے درخت کی چھال لپیٹ لی ہو ‘ اس کی بےحرمتی کی جائے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور نہ ان لوگوں کی جو اپنے رب کا فضل اور اس کی رضا تلاش کرنے کے لیے مسجد حرام کا قصد کرنے والے ہوں۔ (المائدہ : ٢) 

آیت مذکورہ کا شان نزول 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج نے اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ‘ اس آیت میں حجاج پر لوٹ مار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حطم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا ‘ تاکہ آپ کی دعوت کے متعلق غور وفکر کرے ‘ اس نے آپ سے کہا : میں اپنی قوم کے سامنے آپ کی دعوت کو پیش کروں گا ‘ آپ بتلائیے کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ‘ اور نماز قائم کرو ‘ اور زکوۃ ادا کرو ‘ اور رمضان کے مہینہ کے روزے رکھو ‘ اور بیت اللہ کا حج کرو۔ حطم نے کہا آپ کے اس دین میں سختی ہے۔ میں اپنی قوم کے پاس جا کر آپ کی دعوت کا ذکر کروں گا ‘ اگر انہوں نے اس دین کو قبول کرلیا تو میں بھی ان کے ساتھ قبول کرلوں گا ‘ اور اگر انہوں نے اس سے پیٹھ پھیرلی تو میں بھی ان کے ساتھ ہوں گا۔ 

آپ نے اس سے فرمایا : تم واپس جاؤ‘ جب وہ چلا گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ میرے پاس کافر چہرے کے ساتھ آیا اور میرے پاس سے دھوکہ دیتا ہوں نکلا۔ جب وہ اہل مدینہ کی چراگاہوں کے پاس سے گزرا تو آپ کے اصحاب نے اس کو پکڑنا چاہا ‘ لیکن وہ نکل گیا اور یمامہ پہنچ گیا۔ وہ حج کے موقع پر سامان تجارت لے کر آیا ‘ صحابہ نے آپ سے اجازت طلب کی کہ اس کو پکڑ کر اس کا سامان اس سے چھین لیں ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اے ایمان والو ! اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی نہ کرو اور نہ حرمت والے مہینہ کی۔ اور نہ کعبہ میں بھیجی ہوئی قربانیوں کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلوں میں پٹے پڑے ہوئے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو اپنے رب کا فضل اور اس کی رضا تلاش کرنے کے لیے مسجد حرام کا قصد کرنے والے ہوں۔ (جامع البیان ج ٦ ص ٧٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

آیت مذکورہ کے منسوخ ہونے یا منسوخ نہ ہونے میں اختلاف : 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس سے منع فرمایا ہے کہ وہ کسی شخص کو بیت اللہ کے حج سے منع کریں یا اس کو کوئی تکلیف پہنچائیں ‘ خواہ وہ مومن ہو یا کافر ‘ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذا “۔ التوبہ : ٢٧) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! تمام مشرک محض ناپاک ہیں ‘ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ 

(آیت) ” ماکان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ شھدین علی انفسھم بالکفر “۔ (التوبہ : ١٧) 

ترجمہ : مشرکین کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مساجد کو آباد کریں ‘ درآنحالیکہ وہ اپنی جانوں کے کفر پر گواہ ہیں۔ 

پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو مسجد حرام میں آنے سے منع فرمایا دیا۔ 

قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے ‘ زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص حج کے لیے روانہ ہوتا اور ھدی کے گلے میں قلادہ ڈالتا تو کوئی شخص اس پر حملہ نہ کرتا ‘ ان دونوں میں مشرک کو بیت اللہ میں جانے سے منع نہیں کیا جاتا تھا اور ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ حرمت والے مہینوں میں اور بیت اللہ کے پاس قتال نہ کریں ‘ حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ 

(آیت) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (التوبہ : ٥) 

ترجمہ : سو مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کردو۔ 

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد وہ حکم منسوخ ہوگیا : 

مجاہد نے یہ کہا ہے : کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ‘ زمانہ جاہلیت میں لوگ حج کے لیے جانے والوں کو لوٹ لیتے تھے ‘ اور ان مہینوں میں قتال بھی کرتے تھے ‘ اسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان تمام کاموں کو حرام کردیا ‘ سو اس آیت میں حکم منسوخ نہیں ہوا۔ 

امام ابن جریر نے لکھا ہے : کہ صحیح قول یہ ہے کہ اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا ‘ کیونکہ تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ مشرکین کے خلاف سال کے تمام مہینوں میں قتال کرنا جائز ہے ‘ خواہ وہ حرمت والے مہینے ہوں یا نہ ہوں۔ اسی طرح اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر مشرک اپنے گلے میں حرم کے تمام درختوں کی چھال بھی ڈال لے ‘ تب بھی اس کا یہ فعل اس کے لیے قتل سے پناہ نہیں ہوگا ‘ جب تک کہ اس سے پہلے اس نے مسلمانوں سے پناہ نہ حاصل کرلی ہو ‘ یا کوئی معاہدہ نہ کرلیا ہو۔ (جامع البیان ج ٦ ص ٨٣۔ ٧٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

امام رازی نے لکھا ہے جو علماء اس آیت کے منسوخ ہونے کے قائل نہیں ہیں ‘ وہ اس آیت میں تخصیص کے قائل ہیں۔ ان میں سے بعض علماء نے یہ کہا کہ اس آیت کا یہ معنی ہے کہ جو مسلمان بیت اللہ کی زیارت کے قصد کے لیے روانہ ہوں ان کی ھدی کو لوٹنا اور ان پر حملہ کرنا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ اس آیت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : کہ شعائر اللہ کو حلال نہ کرو۔ اور شعائر اللہ کا اطلاق مسلمانوں کی قربانیوں اور ان کی عبادتوں ہی کے لائق ہے ‘ نہ کہ کفار کی قربانیوں کے اور اس آیت کے آخر میں فرمایا : جو لوگ اپنے رب کا فضل اور اس کی رضا کو تلاش کرتے ہیں ‘ اور یہ بھی مسلمانوں کے لائق ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت ابتداء مسلمانوں کے ساتھ مخصوص ہے ‘ کفار کو شامل ہی نہیں ہے ‘ حتی کہ یہ کہا جائے کہ یہ آیت بعد میں منسوخ ہوگئی۔ 

ابو مسلم اصفہانی نے یہ کہا : کہ اس آیت کے عموم میں وہ کافر داخل تھے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تھے اور جب سورة توبہ کے نازل ہونے کے بعد ان سے معاہدہ ختم کردیا گیا ‘ تو اب وہ کافر اس آیت کے عام حکم میں داخل نہیں رہے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣٥٤ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کرسکتے ہو۔ (المائدہ : ٣) 

صیغہ امر کے مواضع استعمال : 

اس آیت میں ” فاصطادوا “ (شکار کرو) امر کا صیغہ ہے ‘ امر کا صیغہ متعدد معانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں مشہور چھبیس معانی ہیں۔ 

(١) وجوب کے لیے جیسے (آیت) ” واقیموا الصلوۃ واتوالزکوۃ “۔ (البقرۃ : ٤٣) ” نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو “۔ 

(٢) استحباب کے لیے جیسے (آیت) ” فکاتبوھم “ (النور ‘ ٣٣) تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو مکاتب ہونا چاہیں انہیں مکاتب کردو۔ 

(٣) ارشاد (دنیاوی مصلحت کی طرف رہنمائی کرنے) کے لیے مثلا (آیت) ” واشھدوا اذا تبایعتم “۔ (البقرہ : ٢٨٣) ” اور جب تم آپس میں خریدو فروخت کرو تو گواہ بنالو “ استحباب اور ارشاد میں یہ فرق ہے کہ استحباب میں اخروی ثواب مطلوب ہوتا ہے ‘ اور ارشاد میں دنیاوی فائدہ اور مصلحت۔

(٤) اباحت کے لیے (آیت) ” فکلوا مما امسکن علیکم “ (المائدہ : ٤) ” سو اس (شکار) سے کھاؤ جسے وہ (شکاری جانور مار کر) تمہارے لیے روک رکھیں “ اس کی دوسری مثال زیر بحث آیت ہے (آیت) ” واذا حللتم فاصطادوا “ (المائدہ : ٢) اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کرسکتے ہو “۔ 

(٥) اکرام (عزت افزائی) کے لیے مثلا (آیت) ” ادخلوھا بسلام امنین “ (الحجر : ٤٦) ” تم ان جنتوں میں سلامتی کے ساتھ بےخوف خوف ہو کر داخل ہوجاؤ“۔ 

(٦) امتنان (احسان فرمانے) کے لیے مثلا (آیت) ” کلوا ممارزقکم اللہ “۔ (الانعام : ١٤٢) ” اللہ نے جو تمہیں رزق دیا ہے اس سے کھاؤ“۔ 

(٧) اہانت (رسوا کرنے) کے لیے مثلا (آیت) ” ذق انک انت العزیز الکریم “ (الدخان : ٤٩) ” لے چکھ عذاب کا مزہ ‘ بیشک تو ہی بڑا مکرم ہے “ 

(٨) تسویہ (دو چیزوں میں مساوات بیان کرنے کے لیے) مثلا (آیت) ” اصلوھا فاصبروا اولاتصبروا سواء علیکم “ (الطور : ١٦) ” اس آگ میں داخل ہوجاؤ‘ پھر تم صبر کرو یا صبر نہ کرو ‘ تم پر برابر ہے “۔ 

(٩) تعجب کے لیے مثلا (آیت) ” اسمع بھم وابصر یوم یاتوننا “ (مریم ٣٨) ” وہ کیسا سنتے ہوں گے اور کیسے دیکھتے ہوں گے ‘ جس دن وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے “

(١٠) تکوین (کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانے) کے لیے مثلا (آیت) ” کن فیکون “ (البقرہ : ١١٧) ” ہو ‘ سو وہ ہوجاتا ہے “۔ 

(١١) احتقار کے لیے مثلا (آیت) ” القوا ماانتم ملقون “ (یونس : ٨٠) ” ڈالوجو تم ڈالنا چاہتے ہو “

(١٢) اخبار کے لیے مثلا (آیت) ” فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا “۔ (التوبہ : ٨٢) ” سو انہیں چاہیے کہ تھوڑا ہنسیں اور روئیں زیادہ “۔ 

(١٣) تہدید (ڈرانے اور دھمکانے کے لیے) مثلا (آیت) ” اعملوا شئتم “۔ (حم السجد : ٤٠) ” تم جو چاہو کیے جاؤ“ اس کی ایک اور یہ مثال ہے کہ کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان سے فرمایا : (آیت) ” واستفزز من استطعت منھم بصوتک “ (بنی اسرائیل ‘ ٢٤) تو ان میں سے جن کو اپنی آواز سے ڈگمگا سکتا ہے ‘ ڈگمگا دے “۔ 

(١٤) انذار (ڈرانے) کے لیے۔ یہ بھی قسم اول کے قریب ہے۔ مثلا (آیت) ” قل تمتعوا “ (ابراہیم : ٣٠) ” آپ کہئے (چند روزہ) فائدہ اٹھالو “۔ 

(١٥) تعجیز (عاجز کرنے) کے لیے ‘ مثلا (آیت) ” فاتوابسورۃ من مثلہ “ (البقرہ : ٢٣) سو اس قرآن کی مثل کوئی سورت لے آؤ“ 

(١٦) تسخیر کے لیے مثلا (آیت) ” کونوا قردۃ خسئین “ (البقرہ : ٦٥) ” دھتکارے ہوئے بندر ہوجاؤ“ 

(١٧) تمنی کے لیے مثلا امرو القیس کے شعر میں ہے ” الا ایھا اللیل الطویل انحلی “ ” سن اے لمبی رات ! تو ظاہر ہوجا “ 

(١٨) تادیب (ادب سکھانے) کے لیے مثلا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن عباس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : ” کل مما یلیک “ (صحیح بخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٥٣٧٧) ” تم اپنے آگے سے کھاؤ“ 

(١٩) امتثال (کسی کی اطاعت شعاری بیان کرنے کے لیے) کوئی شخص کسی سے کہے ‘ مجھے پانی پلاؤ۔ 

(٢٠) اجازت دینے کے لیے مثلا کوئی شخص دروازہ کھٹکھٹانے والے سے کہے ‘ اندر آجاؤ۔ 

(٢١) انعام کے لیے مثلا (آیت) ” کلوا من طیبت مارزقنکم “ (البقرہ : ٥٧) ” ہماری دی ہوئی پاک چیزوں میں سے کھاو “ 

(٢٢) تکذیب کے لیے مثلا (آیت) ” قل فاتوا بالتوراۃ فاتلوھا ان کنتم صدقین “ (آل عمران : ٩٣) آپ کہئے کہ تورات لے کر آؤ‘ اور اس کو پڑھو ‘ اگر تم سچے ہو “۔ 

(٢٣) مشورہ کے لیے ‘ مثلا حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل سے فرمایا (آیت) ” فانظرماذا تری “ (الصفت : ١٠٢) ” تو اب تم غور کرو ‘ تمہاری کیا رائے ہے ؟ “ 

(٢٤) اعتبار (تدبر) کرنے کے لیے مثلا (آیت) ” انظروا الی ثمرۃ اذا اثمروینعہ “ (الانعام : ٩٩) دیکھو درخت کے پھل کی طرف ‘ جب اس کو پھل لگے اور اس کے پکنے کی طرف “

(٢٥) تفویض کے لیے مثلا ایمان لانے والے ساحروں نے فرعون سے کہا : (آیت) ” فاقض ماانت قاض “ (طہ : ٧٢) ” تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے سو کر “ 

(٢٦) دعا کے لیے مثلا (آیت) واعف عنا واغفرلنا وارحمنا (البقرہ 286) ہم کو معاف فرما اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔

(٢٧) تخییر کے لئے مثلا (آیت) ” ھذا عطاء نا فامنن اوامسک بغیر حساب “۔ (ص : ٣٩) یہ ہماری عطا ہے ‘ تو آپ (جس پر چاہیں) احسان کریں ‘ اور جس سے چاہیں احسان روک رکھیں۔ آپ سے کچھ باز پرس نہیں ہوگی۔ (کشف الاسرار ‘ ج ١ ص ٥٤‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ۔ توضیح وتلویح ‘ ج ١‘ ص ٢٨٣‘ ٢٨٢) 

تقاضائے امر کے واحد ہونے پر دلیل : 

ابن جریج نے کہا ‘ امر ان مختلف معانی میں استعمال کیا جاتا ہے ‘ اس لیے اس کا مقتضی توقف ہے۔ حتی کہ کسی قرینہ سے معلوم ہوجائے کہ یہاں پر کون سا معنی مراد ہے ؟ لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ اگر امر کا مقتضی توقف ہو تو پھر نہی کا مقتضی بھی توقف ہونا چاہیے ‘ کیونکہ نہی کا استعمال بھی متعدد معانی میں ہوتا ہے۔ کبھی نہی تحریم کے لیے ہوتی ہے مثلا (آیت) ” لاتاکلوا الربوا “ (آل عمران : ١٣٠) ” سود نہ کھاؤ“ اور کبھی تنزیہہ کے لیے ہوتی ہے۔ مثلا (آیت) ” ولا تمنن تستکثر “ المدثر : ٦) ” اور زیادہ لینے کے لیے کسی پر احسان نہ کیجئے “ اور کبھی تحقیر کے لیے ہوتی ہے۔ مثلا (آیت) ” ولا تمدن عینیک الی مامتعنابہ ازواجا منھم “ (الحجر ٨٨) ‘ ” آپ اپنی آنکھیں اٹھا کر بھی ان چیزوں کو نہ دیکھیں جو ہم نے کافروں کے گروہوں کو کچھ فائدہ اٹھانے کے لیے دے رکھی ہیں “ اور کبھی ارشاد کے لیے ہوتی ہے۔ مثلا (آیت) ” لا تسئلوا عن اشیاء ان تبدلک تسؤکم “ (المائدہ : ٠١ ا) ” ایسی چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو جو اگر تمہارے لیے کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں “ اور کبھی شفقت کے لیے ہوتی ہے۔ مثلا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” لا یمش احدکم فی نعل واحد “۔ (ترمذی ج ٣‘ رقم الحدیث : ١٧٨١) ” تم میں سے کوئی شخص ایک جوتی پہن کر نہ چلے “ اور اگر نہی کا مقتضی بھی توقف ہو تو پھر امر اور نہی میں کوئی فرق نہیں رہے گا ‘ حالانکہ فعل کی طلب اور ترک فعل کی طلب میں فرق بداھۃ ثابت ہے۔ 

امر کا مقتضی وجوب ہونے پر دلائل : 

علماء اور فقہاء کے نزدیک امر کا مقتضی واحد ہے ‘ کیونکہ امر کا ان معانی میں مشترک ہونا خلاف اصل ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یہ واحد مقتضی اباحت ہے ‘ کیونکہ یہ امر کا ادنی درجہ ہے اور بعض علماء کے نزدیک امر کا مقتضی استحباب ہے ‘ کیونکہ امر میں فعل کی جانب وجود کو ترجیح دینا ضروری ہے اور اس کا ادنی درجہ استحباب ہے اور اکثر علماء کے نزدیک امر کا متقضی وجوب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبھم فنتۃ اویصیبھم عذاب الیم “۔ (النور : ٦٣) 

ترجمہ : جو لوگ رسول کے امر (حکم) کی مخالفت کرتے ہیں ‘ وہ اس سے ڈریں کہ انہوں کوئی آفت پہنچے یا انہیں درد ناک عذاب پہنچ جائے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امر کی مخالفت کرنے اور اس پر عمل کرنے پر عذاب کی وعید سنائی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امر کے مقتضی پر عمل کرنا واجب ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : 

(آیت) ” وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلا مبینا۔ (الاحزاب : ٣٦) 

ترجمہ : اور نہ کسی مسلمان مرد کے لیے یہ جائز ہے اور نہ کسی مسلمان عورت کے لیے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی کام کا حکم دے دیں ‘ تو ان کے لیے اس حکم میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو ‘ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے ‘ اور وہ بیشک کھلی گمراہی میں بہک گیا۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امر کے مقتضی پر عمل کرنا واجب ہے ‘ اور اس میں کرنے یا نہ کرنے کا اختیار نہیں ہے ‘ اور اللہ اور اس کے رسول کے امر پر عمل پر کرنا گمراہی ہے۔ 

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” قال مامنعک الا تسجد اذ امرتک “۔ (الاعراف : ١٢) 

ترجمہ : (اللہ نے) فرمایا تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے منع کیا تھا ؟ جب میں نے تجھے حکم دیا تھا۔ 

اللہ تعالیٰ نے شیطان کے سجدہ نہ کرنے کی اس لیے مذمت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو سجدہ کا امر کیا تھا اور یہ مذمت اسی وقت ہوگی جب امر وجوب کے لیے ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حکایت کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) سے شکوہ کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” افعصیت امری “ (طہ : ٩٣) ” کیا آپ نے میرے حکم کی نافرمانی کی ؟ “ 

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نقل فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے فرمایا : 

(آیت) ” ولا اعصی لک امرا “۔ (الکھف : ٦٩) 

ترجمہ : میں آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ 

ان دونوں صورتوں میں امر کی خلاف ورزی اسی وقت لائق مواخذہ ہوگی جب امر کا مقتضی وجوب ہو ‘ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی مدح کرتے ہوئے فرمایا : 

(آیت) ” لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یؤمرون “۔ (التحریم : ٦) 

ترجمہ : (فرشتے) اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جائے۔ 

حکم پر عمل کرنا معصیت اسی وقت ہوگا جب حکم پر عمل کرنا واجب ہو۔ 

نیز اللہ تعالیٰ نے کفار کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : 

(آیت) ” وذا قیل لھم ارکعوا لا یرکعون “۔ (المرسلات : ٤٨) 

ترجمہ : اور جب ان سے کہا جاتا ہے ‘ نماز پڑھو ‘ تو وہ نماز نہیں پڑھتے۔ 

ان کی مذمت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ ان کی نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا اور انہوں نے نماز نہیں پڑھی ‘ اور یہ مذمت اسی وقت درست ہوگی ‘ جب کہ ان کو نماز پڑھنے کا حکم وجوب کے لیے ہو۔ 

قرآن مجید کی ان آیات سے یہ واضح ہوگیا کہ امر کا مقتضی واحد ہے ‘ اور وہ متقتضی وجوب ہے۔ اسی طرح لوگوں کا عرف ہے کہ جب وہ کسی فعل کو جزما اور حتما طلب کرتے ہیں ‘ تو امر کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔ 

ممانعت کے بعد امر کے مقتضی کی تحقیق : 

جب پہلے کسی فعل سے منع کیا جائے اور پھر بعد میں امر کے صیغہ سے اس فعل کو طلب کیا جائے ‘ تب بھی امر کا مقتضی وجوب ہوتا ہے۔ اس مسئلہ میں بعض علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء نے کہا : ممانعت کے بعد اس فعل کا امر استحباب کے لیے ہوتا ہے۔ مثلا اللہ تعالیٰ نے سورة جمعہ میں فرمایا : ” جب جمعہ کے دن اذان دی جائے تو بیع (کاروبار) کو چھوڑ دو ‘ اور اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو “۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ“ اور : rnّ (آیت) ” وابتغوا من فضل اللہ “۔ (الجمعہ : ١٠) 

ترجمہ : اللہ کے فضل کو تلاش کرو (یعنی بیع کاروبار کرو) 

اس آیت میں ممانعت کے بعد رزق طلب کرنے اور کاروبار کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے ‘ وہ بطور استحباب ہے۔ 

اور بعض علماء نے کہا کہ ممانعت کے بعد امر کا صیغہ اباحت کے لیے ہوتا ہے۔ مثلا سورة المائدہ میں پہلے اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع فرمایا ‘ اس کے بعد فرمایا : 

(آیت) ” اذا حللتم فاصطادو “۔ (المائدہ : ٢) 

ترجمہ : جب تم احرام کھول دو تو شکار کرسکتے ہو۔ 

ہم کہتے ہیں کہ ان دونوں آیتوں میں استحباب اور اباحت قرینہ سے ثابت ہے ‘ کیونکہ رزق طلب کرنے اور شکار کرے کا حکم بندوں کو ان کی منفعت حاصل کرنے کے لیے دیا گیا ہے ‘ اگر اس حکم کو واجب قرار دیا جائے تو یہ نفع ضرر سے منقلب ہوجائے گا ‘ کیونکہ پھر جو بیع نہیں کرے گا ‘ یا شکار نہیں کرے گا ‘ وہ گنہ گار ہوگا اور جو معنی کسی قرینہ کی بناء پر کیا جائے ‘ وہ مجاز ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ممانعت کے بعد بھی امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ 

ممانعت کے بعد امر کے وجوب کے لیے ہونے کی مثال ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں میں مشرکین کے خلاف قتال سے منع فرمایا اور ان مہینوں کے بعد ان سے قتال کرنے کا حکم دیا ‘ اور یہ حکم وجوب کے لیے ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ (التوبہ : ٥) 

جب حرمت والے مہینے ختم ہوجائیں تو مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کردو۔ 

نیز اللہ تعالیٰ نے پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں بلا اذن داخل ہونے سے منع فرمایا ‘ پھر فرمایا : جب تم کو بلایا جائے تو داخل ہو اور ممانعت کے بعد یہ داخل ہونے کا حکم بھی وجوب کے لیے ہے : 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم الی طعام غیر نظرین انہ ولکن اذا دعیتم فادخلوا “۔ (الاحزاب : ٥٣) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تک تمہیں کھانے کے لیے بلایا نہ جائے ‘ نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو ‘ پہلے سے آکر کھانا پکنے کا انتظار نہ کرو ‘ ہاں جب بلایا جائے تو آجاؤ۔ 

اسی طرح حیض اور نفاس میں مبتلا عورتوں کو نماز اور روزے سے منع یا گیا اور حیض اور نفاس منقطع ہونے کے بعد نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ اور یہ حکم وجوب کے لیے ہے۔ اسی طرح حالت نشہ میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور اس عارض کے زوال کے بعد نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ‘ اور یہ حکم وجوب کے لیے ہے۔ اسی طرح کسی مسلمان شخص کو حالت اسلام میں اور کافر کو عہد ذمہ کی وجہ سے قتل کرنے سے منع کیا گیا ‘ لیکن اس کے مرتد ہونے ‘ یا ڈاکہ ڈالنے کی وجہ سے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ‘ یا شادی شدہ کے زنا کی وجہ سے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا گیا ‘ اور یہ حکم بھی وجوب کے لیے ہے۔ اسی طرح کسی شخص کے ہاتھ اور پیر کاٹنا ممنوع ہیں ‘ لیکن چوری کی وجہ سے اس کے ہاتھ اور پیر کاٹنا واجب ہیں۔ ان مثالوں سے یہ واضح ہوگیا کہ کسی کام سے منع کرنے کے بعد جب اس کام کا امر کیا جائے تو سابقہ ممانعت اس امر کے وجوب کے منافی نہیں ہے اور اس امر کے اباحت یا استحباب کے لیے ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔ امام شافعی اور بعض حنابلہ کے نزدیک ممانعت کے بعد امر اباحت کے لیے ہوتا ہے۔ اور امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک اور شوافع میں سے محققین ‘ مثلا امام رازی اور قاضی بیضاوی اور جمہور اصولین کے نزدیک ممانعت کے بعد بھی امر وجوب ہی کے لیے ہوتا ہے اور فقہاء احناف میں سے کمال الدین ابن الہمام کے نزدیک ممانعت سے پہلے امر کا جو مقتضی ہو ممانعت کے بعد بھی وہی مقتضی ہوتا ہے۔ اگر وجوب ہو تو وجوب اور استحباب ہو تو استحباب۔ (توضیح وتلویح ‘ ج ١ ص ٢٨٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع۔ وکشف الاسرار ‘ ج ١‘ ص ٢٨٢۔ ٢٧٠‘ ملخصا) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال سے وجوب کا ثابت نہ ہونا۔ 

صدر الشریعہ علامہ عبید اللہ بن مسعود لکھتے ہیں : 

امر کا اطلاق جمہور کے نزدیک قول پر حقیقتا ہے اور فعل پر امر کا اطلاق مجازا ہے۔ اس میں بھی اتفاق ہے اور بعض کے نزدیک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل پر بھی امر کا اطلاق حقیقتا ہے۔ کیونکہ آپ کا فعل حقیقتا امر ہے اور ہر امر وجوب کے لیے ہوتا ہے اور فعل پر امر کے اطلاق کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، (آیت) ” وما امر فرعون برشید “ (ھود : ٩٧) ” اور فرعون کا فعل درست نہ تھا “ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” صلوا کما رایتمونی اصلی “ (صحیح البخاری ج ١‘ رقم الحدیث : ٦٣١) ” اس طرح نماز پڑھوجس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو “۔ 

ہم کہتے ہیں کہ امر کا اطلاق فعل پر حقیقتا نہیں ہے ‘ اور مشترک ہونا خلاف اصل ہے ‘ کیونکہ جب کوئی شخص کوئی کام کرے اور یہ نہ کہے کہ یہ کام کرو تو اس کے اس فعل سے امر کی نفی کرنا صحیح ہے ‘ اور سورة ھود کی آیت میں جو فعل کو امر فرمایا ہے وہ مجاز ہے اور اگر بالفرض ہم یہ مان لیں کہ فعل پر امر کا اطلاق حقیقت ہے ‘ تب بھی دلائل اس پر دلالت کرتے ہیں کہ امر قولی وجوب کے لیے ہوتا ہے ‘ وہ سب امر قولی سے متعلق ہیں۔ مثلا یہ 

آیت : فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ “۔ (النور : ٦٣) 

ترجمہ : وہ لوگ ڈریں جو رسول کے امر (حکم) کی مخالفت کرتے ہیں۔ 

اس آیت میں امر سے مراد امر قولی ہے اور اس کو امر فعلی پر محمول کرنا ممکن نہیں ہے۔ 

اور امر قولی مقصود (ایجاب) کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے اور ترادف خلاف اصل ہے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا : ” صلوا کما رایتمونی اصلی “ اس حدیث میں ایجاب آپ کے قول صدوا سے مستفاد ہوا ہے۔ علاوہ ازیں جب آپ نے وصال کے روزے رکھے اور آپ کو دیکھ کر صحابہ نے وصال کے روزے رکھ لیے اور جب آپ نے نماز میں نعلین اتاریں اور آپ کو دیکھ کر آپ کے اصحاب نے بھی اپنی نعلین اتاریں تو آپ نے ان کو منع فرمایا ‘ حالانکہ دونوں صورتوں میں آپ کے اصحاب نے آپ کے فعل کی اتباع کی تھی۔ ان حدیثوں سے ثابت ہوگیا کہ فعل وجوب کے لیے نہیں ہوتا۔ (توضیح مع تنقیح ج ١ ص ٢٨١۔ ٢٧٨‘ مختصرا ‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی) 

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ٧٩١ ھ لکھتے ہیں : 

خلاصہ یہ ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی فعل منقول ہو ‘ پس اگر وہ فعل سہو ہو یا طبعی ہو یا آپ کا خاصہ ہو تو اس سے اجماعا وجوب ثابت نہیں ہے ہوتا اور اگر وہ فعل قرآن مجید کی کسی مجمل آیت کا بیان ہو تو اس سے اجماعا وجوب ثابت ہوتا ہے اور اگر وہ فعل ان کے ماسوا ہو تو پھر اس میں اختلاف ہے ‘ کہ کیا یہ کہنا جائز ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حقیقتا ہم کو اس فعل کا امر فرمایا ہے اور ہم پر اس فعل کی اتباع واجب ہے یا نہیں ؟ سو بعض نے کہا ہاں اور اکثر نے کہا ‘ نہیں ‘ اور یہی مختار ہے۔ (تلویح مع توضیح ج ١ ص ٢٧٨‘ مختصرا ‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی) 

علامہ عبدالعزیز بن احمد بخاری متوفی ٧٣٠ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابود اؤد اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کرتے ہیں ‘ کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے ‘ آپ نے اپنی نعلین اتاریں اور ان کو اپنی بائیں جانب رکھ دیا جب قوم نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنی جوتیاں اتاردیں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کرلی تو آپ نے فرمایا تم لوگوں کے جوتیاں اتارنے کا کیا سبب تھا ؟ صحابہ نے کہا ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنی جوتیاں اتاریں تو ہم نے بھی اپنی جوتیاں اتار دیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور مجھے خبر دی کہ ان جوتیوں میں کوئی نجاست یا گھناؤنی چیز ہے اور فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو اچھی طرح دیکھ لے۔ اگر اس کی جوتیوں میں کوئی نجاست یا گھناؤنی چیز ہو تو اس کو کھرچ کر صاف کرلے ‘ پھر ان جوتیوں کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ رقم الحدیث : ٦٥٠) 

امام بخاری اپنی سند کے ساتھ حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم وصال کے روزے نہ رکھو ‘ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ وصال کے روزے رکھتے ہیں، آپ نے فرمایا میں تم میں سے کسی کی مثل نہیں ہوں۔ مجھے کھلایا جاتا ہے اور پلایا جاتا ہے۔ یا فرمایا ف : میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوں ‘ کھلایا اور پلایا جاتا ہوں۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١ رقم الحدیث : ١٩٦١) 

ان حدیثوں میں اس پر واضح دلیل ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل کسی چیز کو واجب نہیں کرتا ‘ کیونکہ اگر آپ کا فعل آپ کے امر کی طرح موجب ہوتا تو پھر آپ کے انکار کی کوئی وجہ نہیں تھی ‘ جیسے اگر آپ کسی چیز کا امر فرمائیں اور صحابہ اس پر عمل کریں۔ (کشف الاسرار ‘ ج ١ ص ٢٥٠۔ ٢٤٩‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال کے سنت ‘ مستحب اور واجب ہونے کا ضابطہ : 

جس فعل کو آپ نے احیانا (کبھی کبھی) کیا ہو اور غالب اوقات میں ترک کیا ہو ‘ وہ سنت غیر مؤکدہ یا سنت مستحبہ ہے اور جس کو آپ نے غالب اوقات میں کیا ہو اور احیانا ترک کیا ہو ‘ وہ سنت موکدہ ہے اور جس پر آپ نے مواظبت فرمائی ہو ‘ اور اس کے ترک پر انکار فرمایا ہو ‘ وہ فعل واجب ہے۔ 

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی ٥٩٧ لکھتے ہیں : 

” صحیح یہ ہے کہ اعتکاف سنت مؤکدہ ہے۔ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کے آخری عشرہ میں اس پر مواضبت (دوام) فرمائی ہے اور مواظبت سنت کی دلیل ہے “ (ھدایہ اولین ‘ ص ٢٢٩‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان) 

علامہ محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ اس عبارت کی تشریح میں لکھتے ہیں ” ایک قول یہ ہے کہ مواظبت وجوب کی دلیل ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مواظبت سنت مؤکدہ کی دلیل ہے اور یہ وجوب کی قوت میں ہے اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ آپ نے اعتکاف ترک کرنے والے پر انکار نہیں فرمایا ‘ اگر اعتکاف واجب ہوتا تو آپ اس کے ترک پر انکار فرماتے “۔ (البنایہ ‘ ج ٣ ص ٧٤٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ) 

اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس فعل پر مواظبت فرمائیں اور اس فعل کے تارک پر انکار نہ فرمائیں تو وہ سنت موکدہ ہے اور اگر آپ کسی فعل پر مواظبت فرمائیں اور اس کے تارک پر انکار فرمائیں تو وہ فعل واجب ہے۔ 

علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن الھمام حنفی متوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں ” نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعتکاف پر بلا ترک مواظبت فرمائی ہے ‘ لیکن جن صحابہ نے اعتکاف نہیں کیا ‘ آپ نے ان پر انکار نہیں فرمایا ‘ تو یہ اعتکاف کے سنت ہونے کی دلیل ہے اور اگر آپ ترک کرنے والوں پر انکار فرماتے تو یہ وجوب کی دلیل ہوتا “۔ (فتح القدیر ‘ ج ٢ ص ٣٩٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ سعدی چلپی متوفی ٩٤٥ ھ لکھتے ہیں : 

اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت موکدہ کی تعریف یہ ہے کہ جس فعل پر آپ نے مواظبت فرمائی ہو ‘ حالانکہ سنت موکدہ کی تعریف یہ ہے کہ آپ نے کسی فعل پر مواظبت فرمائی ہو ‘ اور کبھی کبھی اس کو ترک بھی کیا ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب آپ نے اس کے ترک پر انکار نہیں فرمایا ‘ تو یہ احیانا ترک کرنے کے حکم میں ہے کیونکہ آپ کا احیانا ترک کرنا جواز ترک کی تعلیم کے لیے ہوتا ہے اور آپ کا تارک پر انکار نہ فرمانا بھی تعلیم جواز کے لیے تھا۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ سنت مؤکدہ کی تعریف میں جو احیانا ترک کرنا ملحوظ ہے ‘ وہ اس سے عام ہے کہ احیانا ترک کرنا حقیقتا ہو یا حکما اور اب سنت مؤکدہ کی تعریف یہ ہوگی کہ جس فعل پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مواظبت فرمائیں اور کبھی کبھی اس کو ترک بھی فرما دیں ‘ خواہ ترک کرنا حقیقتا ہو یا حکما اور جس فعل پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلاترک مواظبت فرمائی اور تارک پر انکار فرمائیں ‘ وہ فعل واجب ہوگا۔ (حاشیہ سعدی چلی مع فتح القدیر ‘ ج ٢ ص ٢٩٤‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

سنت مؤکدہ میں شرط یہ ہے کہ مواظبت ہو اور اس کے ساتھ ترک بھی ہو ‘ خواہ حکما ہو ‘ لیکن تعریف میں عموما شروط کا ذکر نہیں کیا جاتا (الدر المختار علی رد المختار ج ١ ص ٧١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

مہ زین الدین ابن نجیم حنفی مصری متوفی ٩٧٠ ھ لکھتے ہیں :

میرے زدیک ظاہر یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس فعل پر بلا ترک مواظبت کی ہو اور اس کے تارک پر انکار نہ کیا ہو ‘ وہ سنت موکدہ ہے اور اگر کبھی کبھی اس فعل کو ترک بھی کیا ہو تو وہ سنت غیر موکدہ ہے اور جس فعل پر آپ نے مواظبت کی ہو اور اس کے ترک پر انکار فرمایا ہو ‘ وہ وجوب کی دلیل ہے۔ (البحرالرائق ‘ ج ١‘ ص ١٧‘ مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ) 

علامہ سید احمد طحطاوی متوفی ١٢٣١ ھ لکھتے ہیں : 

” البحر الرائق “ میں سنت مؤکدہ کی دو تعریفوں کو اختیار کیا گیا ہے۔ ایک تعریف یہ ہے کہ ” الطریقۃ المسلوکۃ فی الدین من غیر لزوم علی سبیل المواضبۃ “۔ ” وہ طریقہ جس پر دین میں بغیر لزوم کے ہمیشہ عمل کیا گیا ہو۔ 

اور دوسری تعریف یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس فعل پر بلا ترک مواظبت کی ہو اور اس کے تارک پر انکار نہ فرمایا ہو ‘ اور اگر آپ نے کسی فعل پر مواظبت کی ہو اور اس کے تارک پر انکار فرمایا ہو ‘ تو وہ وجوب کی دلیل ہے۔ (حاشیہ الطحاوی علی الدرالمختار ‘ ج ١ ص ٦٦‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٣٩٥ ھ) 

نیز علامہ طحطاوی لکھتے ہیں : 

سنت اس طریقہ مسلو کہ فی الدین کو کہتے ہیں جو کسی قول یا فعل سے متعلق ہو۔ وہ قول یا فعل لازم نہ ہو ‘ اور نہ اس کے تارک پر انکار ہو اور نہ وہ خصوصیت ہو۔ ہم نے جو یہ کہا ہے کہ وہ لازم نہ ہو اس قید سے فرض ‘ سنت کی تعریف سے خارج ہوگیا اور ہم نے جو کہا اس کے تارک پر انکار نہ ہو ‘ اس قید سے واجب خارج ہوگیا اور ہم نے جو کہا ہے کہ وہ خصوصیت نہ ہو ‘ اس قید سے صوم وصال خارج ہوگئے۔ پھر اگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غالب اوقات میں اس فعل پر مواظبت نہ کی ہو ‘ تو وہ سنت مستحبہ ہے۔ اس کو سنت زائدہ ‘ مستحب ‘ مندوب اور ادب وغیرہ بھی کہتے ہیں اور اگر آپ نے اس فعل کے تارک پر وعید فرمائی ہو ‘ تو پھر یہ واجب ہے۔ (ایضا مراقی الفلاح) سنت مؤکدہ کی یہ مثالیں ہیں۔ اذان ‘ اقامت ‘ جماعت ‘ پانچوں نمازوں کی سنتیں ‘ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا۔ اس سنت کو سنت الھدی بھی کہتے ہیں ‘ یعنی اس سنت پر عمل کرنا ہدایت اور دین کی تکمیل کے لیے ہے ‘ اور اس کو ترک کرنا کراہت اور ساءت ہے۔ 

علامہ قہستانی نے کہا ہے کہ دنیا میں مطالبہ عمل کے لحاظ سے سنت مؤکدہ واجب کی مثل ہے ‘ مگر واجب کے ترک پر آخرت میں عذاب کا مستحق ہوگا ‘ اور سنت مؤکدہ کے ترک پر آخرت میں عتاب کا مستحق ہوگا ‘ اور سنت غیر مؤکدہ کی یہ مثالیں ہیں : تنہا شخص کا اذان دینا ‘ وضو میں گردن پر مسح کرنا اور دائیں جانب سے ابتداء کرنا اور نفلی نماز ‘ نفلی روزہ اور نفلی صدقہ۔ (حاشیہ مراقی الفلاح ص ٣٩۔ ٣٨‘ مطبوعہ مصر ‘ ١٣٥٦ ھ) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

” البحرالرائق “ میں مذکور ‘ سنت وہ فعل ہے جس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مواظبت کی ہو ‘ پھر اگر یہ مواظبت بغیر ترک کے ہے تو یہ سنت مؤکدہ کی دلیل ہے اور اگر آپ نے اس فعل کو کبھی کبھی ترک کیا ہو تو وہ اس فعل کے سنت غیر مؤکدہ ہونے کی دلیل ہے ‘ اور اگر آپ نے اس فعل پر مواظبت کی ہو اور اس کے تارک پر انکار فرمایا ہو تو یہ اس فعل کے واجب ہونے کی دلیل ہے اور النہر الفائق کے مصنف نے یہ کہا ہے ‘ کہ یہاں پر یہ قید بھی ملحوظ ہے کہ جس فعل پر آپ نے مواظبت کی ہے ‘ اس کا وجوب آپ کے ساتھ مختص نہ ہو۔ مثلا صلوۃ الضحی (چاشت کی نماز) اس میں آپ کا دوسروں کے ترک پر انکار نہ فرمانا ‘ آپ کے حق میں اس کے واجب ہونے خلاف نہیں ہے۔ نیز ترک میں یہ قید بھی لگانی چاہیے کہ وہ ترک بلاعذر نہ ہو ‘ کیونکہ عذر کی وجہ سے تو فرض کا ترک بھی جائز ہے۔ مثلا نماز میں قیام فرض ہے ‘ لیکن اگر کوئی شخص بیماری یا کمزوری کی وجہ سے نماز میں قیام پر قادر نہ ہو تو اس کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ (رد المختار ‘ ج ١ ص ٧١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

کتنی مقدار ڈاڑھی رکھنا سنت ہے ؟ 

اس تمام تفصیل سے واضح ہوگیا کہ وجوب صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امر سے ثابت ہوتا ہے ‘ آپ کے افعال سے وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ ہاں جس فعل پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مواظبت کی ہو اور اس کے ترک پر انکار فرمایا ہو ‘ تو یہ بھی اس فعل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ ڈاڑھی رکھنے کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈاڑھی منڈانے پر انکار فرمایا ہے ‘ اس لیے نفس ڈاڑھی رکھنا واجب ہے اور ڈاڑھی منڈانا مکروہ تحریمی ہے اور حرام ظنی ہے۔ 

امام ابوبکرعبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

عبید اللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک مجوسی آیا ‘ درآنحالیکہ اس نے ڈاڑھی منڈائی ہوئی تھی اور مونچھیں لمبی رکھی ہوئی تھیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : یہ کہا ہے ؟ اس نے کہا ‘ یہ ہمارے دین میں ہے۔ آپ نے فرمایا ہمارے دین میں یہ ہے کہ ہم مونچھیں کم کرائیں اور ڈاڑھی بڑھائیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٨ ص ٣٧٩‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ) 

چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈاڑھی منڈانے پر انکار فرمایا ہے ‘ اس لیے ڈاڑھی منڈانا حرام (ظنی) ہوا اور ڈاڑھی رکھنا واجب ہوا۔ رہا اس کی مقدار کا معاملہ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تحدید نہیں فرمائی۔ البتہ آپ کی ڈاڑھی مبارک بہت دراز اور گھنی تھی جو سینہ مبارک کو بھر لیتی تھی۔ (الشفاء ‘ ج ١ ص ٣٨‘ مطبوعہ ملتان) اور اتنی گھنی ڈاڑھی رکھنا جو سینہ کو یا کم از کم سینہ کے بالائی حصہ کو بھرے ‘ سنت کے مطابق ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت اور کمال ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اتنی لمبی اور گھنی ڈاڑھی ہی رکھنا چاہیے۔ بالعموم فقہاء کرام نے قبضہ بھر ڈاڑھی رکھنے کو سنت کہا ہے اور بعض فقہاء (مثلا ملا علی قاری اور علامہ زبیدی) نے قبضہ کو مستحب لکھا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ڈاڑھی مبارک بہرحال قبضہ سے زائد تھی ‘ کیونکہ آپ کوتاہ گردن نہیں تھے۔ آپ کی گردن لمبی تھی اور یہ حسن کا تقاضا ہے۔ پھر سینہ مبارک کے بالائی حصہ کو بھرنے کے لیے بھی دو دھائی مشت ڈاڑھی ہونی چاہیے ‘ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت قبضہ بھر ڈاڑھی نہیں ‘ بلکہ قبضہ سے زائد مقدار رکھنا ہے۔ اور فقہاء نے جو قبضہ کو سنت لکھا ہے ‘ اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت مر اس نہیں ہے۔ بلکہ اس سنت سے مراد لغوی معنی ہے ‘ یعنی وہ طریقہ جو ان کے دور کے مسلمانوں میں مروج تھا۔ ہم نے شرح صحیح مسلم میں اس کو سنت غیر موکدہ لکھا ہے ‘ یہ بھی لغوی معنی میں ہے ‘ کیونکہ کسی حدیث میں آپ نے قبضہ کی تاکید نہیں فرمائی۔ بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی ارشاد میں قبضہ کا ذکر ہی نہیں ہے۔ 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے قبضہ کے بعد ڈاڑھی کاٹنا ثابت ہے ‘ لیکن صحابی کے فعل سے وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ وجوب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امر سے ثابت ہوتا ہے ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی فعل پر مواظبت کی ہو اور اس کے تارک پر وعید فرمائی ہو ‘ تو یہ بھی وجوب کی دلیل ہے۔ لیکن قبضہ کے متعلق ان میں سے کسی چیز کا ثبوت نہیں ہے۔ 

ہر چند کہ قبضہ بھر ڈاڑھی رکھنا واجب نہیں ہے ‘ لیکن ڈاڑھی کی اتنی مقدار رکھنا ضروری ہے جس پر عرف میں ڈاڑھی کا اطلاق کیا جاتا ہو اور عرفی مقدار بھی دلیل شرعی ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوحنیفہ کا قاعدہ یہ ہے کہ جس چیز کی مقدار کے متعلق دلیل شرعی نہ پائی جائے ‘ اس کی مقدار کو اس میں مبتلاشخص کے ظن غالب کی طرف مبغوض کردینا چاہیے (رد المختار ‘ ج ١ ص ١٢٨ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

سو اگر کوئی شخص خشخشی ڈاڑھی یا فرنچ کٹ ڈاڑھی رکھتا ہے یا ایک یا دو انگل ڈاڑھی رکھتا ہے تو اس کو عرف میں مطلقا ڈاڑھی نہیں کہتے۔ بلکہ فرنچ کٹ ڈاڑھی یا خشخشی ڈاڑھی کہتے ہیں۔ لہذا ڈاڑھی کی اتنی مقدار رکھنا ضروری ہے جس کو عرف میں مطلقا ڈاڑھی کہا جائے۔ خواہ وہ قبضہ سے ایک آدھ انگل کم ہو یا زائد ہو۔ 

چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈاڑھی میں قبضہ کو واجب نہیں فرمایا اور آپ نے اسکی تحدید نہیں کی ‘ اس لیے ہم اس کی حد قبضہ مقرر کرنے کا خود کو مجاز نہیں سمجھتے۔ کیونکہ ہم مبلغ ہیں شارع نہیں ہیں ‘ اس بناء پر ہمیں کافی مطعون بھی کیا گیا ہے اور ہمارے خلاف کتابیں بھی لکھی گئیں۔ بہرحال ہم نے اپنا فرض ادا کیا ہے اور انسانوں کی بنائی ہوئی شریعت کے مقابلہ میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کو پیش کیا ہے اور حق گو لوگ ہر دور میں شخصیت پرستوں اور غالی اور جامد لوگوں کے لعن طعن کا شکار ہوتے رہے ہیں ہم ان کے سب وشتم پر صبر کرتے ہیں اور اللہ ہی سے جزاء کے طالب ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :‘ اور کسی قوم کے ساتھ عداوت تمہیں اس پر نہ اکسائے کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام میں آنے سے روک دیا تھا تو تم ان کے ساتھ زیادتی کرو۔ (المائدہ : ٢) 

شنان کے معنی بغض ہیں اور آیت کا معنی یہ ہے کسی قوم کے ساتھ تمہارا بغض تمہیں اس کے ساتھ زیادتی پر نہ ابھارے ‘ یعنی جس طرح مشرکین نے تمہیں عمرہ کے لیے مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا ‘ اسی طرح تم ان کو مسجد حرام میں جانے نہ روکنا۔ 

واضح رہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے خود مشرکوں کو مسجد میں جانے سے منع کردیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذا “۔ التوبہ : ٢٧) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! تمام مشرک محض ناپاک ہیں ‘ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ 

اس خاص صورت کے علاوہ یہ حکم عام ہے اور کسی قوم کے ساتھ عدوات رکھنے کی وجہ سے اس کے ساتھ زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرو ‘ اور گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (المائدہ : ٢) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بر (نیکی) اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔ برسے مراد وہ نیک کام ہے جس کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تقوی سے مراد ہر اس کام سے اجتناب ہے جس کو کرنے سے شریعت نے روکا ہے ‘ اور فرمایا ہے : گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ‘ گناہ سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے شریعت نے منع کیا ہے اور ہر وہ کام جس پر لوگوں کے مطلع ہونے کو انسان ناپسند کرتا ہے ‘ اور ظلم کا معنی ہے دوسروں کے حقوق میں تعدی اور تصرف کرنا اور تصرف کرنا اور اثم اور عدوان سے مراد وہ تمام جرائم ہیں جن کی وجہ سے انسان اخروی سزا کا مستحق ہوتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہے۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے ‘ ان کو کرو اور جن کاموں سے منع فرمایا ہے ‘ ان سے باز رہو اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی اور خلاف ورزی کریں ‘ تو بیشک اللہ ان کو سخت سزا دینے والا ہے۔ 

یہ آیت جوامع الکلم میں سے ہے اور یہ ہر خیر اور شر اور ہر معروف اور منکر کے حکم کو شامل ہے۔ 

آیات مذکورہ سے استنباط شدہ احکام :

قرآن مجید کی یہ دو آیتیں بہت سے فقہی احکام کو شامل ہیں۔ 

(١) اپنے عہد پورے کرو ‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے جن احکام شرعیہ کو بجا لانے کا عہد کیا ہے ‘ ان کو پورا کرو اور ایک دوسرے کے ساتھ جو عہد کیے ہیں ‘ انکو پورا کرو۔ خریدی ہوئی چیز کی قیمت ادا کرنا ‘ بیویوں کا مہرادا کرنا ‘ ان کا خرچ اٹھانا ‘ امانت ‘ عاریت اور رہن رکھی ہوئی چیز کو حفاظت کے ساتھ ادا کرنا اور ذمیوں کے جان ومال کی حفاظت کرنا ‘ ان عقود میں شامل ہے۔ اسی طرح عبادات مقصودہ مثلا نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ اعتکاف اور صدقات کی نذر پوری کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ کسی غیر مقصودہ عبادت مثلا ‘ وضو ‘ یا کسی مباح کام کی نذر ماننا جائز نہیں ہے۔ ان پڑھ عوام میں جو پیروں ‘ فقیروں کی نذر مشہور ہے ‘ یہ محض جہالت کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ نذر عبادت ہے اور غیر اللہ کی عبادت جائز نہیں ہے۔ 

(٢) شرعی طریقہ سے ذبح کرکے حلال جانوروں کا کھانا ‘ کچلیوں سے پھاڑنے والے درندوں اور پالتوں گدھے کو اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام کردیا ہے اور (المائدہ : ٣) میں بھی ان جانوروں کی حرمت بیان کی گئی ہے جن کو شرعی طریقہ سے ذبح نہ کیا گیا ہو ‘ ان کے علاوہ خنزیر کو قرآن کو مجید نے حرام کیا ہے۔ 

(٣) حالت احرام میں شکار کرنے کی حرمت بیان کی گئی ہے ‘ ایس طرح حرمین میں شکار کرنا بھی منع ہے۔ 

(٤) جو شخص محرم نہ ہو ‘ اس کے لیے حرمین کے علاوہ دوسری جگہوں پر شکار کا حلال ہونا۔ 

(٥) محرم کے لیے صرف خشکی کا شکار ممنوع ہے۔ سمندری جانوروں کا شکار کرنا جائز ہے۔ 

(٦) قربانی کے لیے بھیجے ہوئے جانوروں کو ضرر پہنچانے کی حرمت ‘ جو اونٹ قربانی کے لیے حرم میں بھیجا جاتا ہے اس کے گلے میں قلادہ ڈال دیتے ہیں ‘ تاکہ معلوم ہو کہ یہ ھدی ہے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کے کوہان پر معمولی سا شگاف ڈالتے ہیں جس سے اس کے کوہان پر خون بہہ جاتا ہے ‘ اور یہ بھی اس کے ھدی ہونے کی علامت ہے۔ اس کو اشعار کہتے ہیں ‘ یہ سنت ہے امام ابوحنیفہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ البتہ اعجمی لوگ جو اشعار کرنا نہیں جانتے ‘ انکے حق میں یہ سنت نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ زیادہ شگاف ڈال دیتے ہیں جس سے بڑا زخم پڑجاتا ہے ‘ ایسے لوگوں کو امام ابوحنیفہ اشعار کرنے سے منع کرتے ہیں۔ 

(٧) شعائر اللہ میں ھدی اور قلائد کے علاوہ حرمت والے مہینے بھی داخل ہیں ‘ تحقیق یہ ہے کہ اب ہر مہینہ میں جہاد کرنا جائز ہے۔ 

(٨) کسی کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے انسان اس کے ساتھ بےانصافی اور زیادتی نہ کرے۔ 

(٩) نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا ‘ اس میں ملک اور قوم کے اجتماعی مفاد میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور سماجی خدمت اور سوشل ورک داخل ہیں۔ 

(١٠) جرم اور گناہ میں کسی کی مدد نہ کرنا۔ بینک اور بیمہ کمپنی ‘ جوئے خانہ اور کسی بھی بدی کے اڈے میں ملازمت کرنا ‘ خواہ وہ ملازمت کلر کی کی ہو یا چوکیداری کی ‘ وہ بہرحال اس برائی کے ساتھ ایک نوع کا تعاون ہے اور ناجائز ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 2

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.