کوئی نہائے تو پردہ کرلیاکرے

حدیث نمبر :424

روایت ہے حضرت یعلٰی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو میدان میں نہاتے دیکھا۲؎ تو آپ منبر پر چڑھے،پھر اﷲ کی حمد و ثناءکی پھرفرمایا کہ اﷲ تعالٰی حیا دار ہے،پردہ پوش ہے،حیا اورپردےکو پسند کرتا ہے۳؎ تو جب تم میں سے کوئی نہائے تو پردہ کرلیاکرے۴؎(ابوداؤد نسائی)اور نسائی کی روایت میں ہے کہ اﷲ پردہ پوش ہے جب تم میں سے کوئی نہاناچاہے تو کسی چیز سے آڑ کرلیا کرے۵؎

شرح

۱؎ یعلی دو ہیں ایک یعلی ابن امیہ،دوسرے یعلی ابن مرہ دونوں صحابی ہیں،پتہ نہیں کہ یہاں کون یعلٰی مراد ہیں۔

۲؎ یہ صاف میدان میں تنہا تھے۔اسی لئے ننگے نہارہے تھے کہ وہاں اس وقت کوئی دیکھ نہ رہا تھا،نیز عرب میں اسلام سے پہلے کوئی شرم وحیاءنہ تھا،حیاء و شرم تو اسلام نے سکھائی۔

۳؎ اگرچہ اکیلا ہو مرد تو تہبند باندھ کرمیدان میں نہا سکتا ہے کہ اس کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے لیکن عورت غسل خانے یا آڑ ہی میں نہائے،کیونکہ اس کا ستر سر سے پاؤں تک ہے۔

۴؎ فقہاءفرماتے ہیں کہ تنہائی میں بلاوجہ ننگا ہونامنع ہے۔اﷲ سے حیاچاہیئے۔

۵؎ تنہائی میں آڑ کرنا مستحب ہے،اور سب کے سامنے واجب یہ امردونوں کو شامل ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.