امیر معاویہ اور اہل بیت

امیر معاویہ اور اہل بیت

تاریخ قلم بند کرنے والا ہی تعصب کا شکار ہو تو نہ جانے کتنے حقائق کا خون ہو جاتا ہے اور نہ جانے کتنی شخصیات اس نا انصافی کا شکار ہو جاتی ہیں.

بہت سے متعصب مزاج مؤرخین نے بے شمار شخصیات کو غلط ڈھنگ سے پیش کیا اور ان کی زندگی کے حقیقی پہلوؤں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن اس سلسلے میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو ظلم و ناانصافی کی گئی وہ شاید ہی کسی کے ساتھ کی گئی ہو.

ان کی شخصیت پر ایک بڑا الزام یہ لگایا گیا کہ وہ اہل بیت کے بدخواہ اور دشمن تھے کہ انھوں نے اہل بیت کے حقوق چھینے اور ان پر زیادتیاں کیں اور اہل بیت سے کبھی بھی خوش گوار تعلقات نہ رکھے اور ان کے ہم دردانہ اور مشفقانہ سلوک روا نہ رکھا.

اس لیے آج ہم اس تحریر میں یہ دکھائیں گے کہ اہل بیت کا آپ کے بارے میں کیا نظریہ تھا اور آپ اہل بیت کے ساتھ کیسا سلوک کرتے تھے.

ہم اپنی اس گفتگو کو درج ذیل چند گوشوں میں تقسیم کرتے ہیں :

❤امیر معاویہ حضور صلى الله عليه وسلم کی نظر میں

آنے والے شواہد سے اندازہ لگائیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نظر میں آپ کا کیا مقام و مرتبہ ہے :

🌴نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے آپ کو کاتبین وحی میں شامل فرمایا.

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ علیہ الصلوۃ و السلام کی نگاہ میں آپ امانت دار، اور قابل اعتماد تھے.

🌴نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی زبان مبارک سے آپ کے فضائل و مناقب بیان کیے اور آپ کے حق میں دعا فرمائی ہے آپ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں :

اللهم اجعله هاديا مهديا و اهد به.

اے اللہ، معاویہ کو ہدایت دینے والا، اور ہدایت پانے والا بنا دے اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے.( جامع الترمذي، باب مناقب معاوية بن أبي سفيان )

❤امیر معاویہ مولائے کائنات کی نظر میں

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلافات ضرور رہے لیکن ان اختلافات کے باوجود اسلامی رشتہ آپ دونوں حضرات کے درمیان ہمیشہ قائم رہا. دلیل ملاحظہ فرمائیں :

🌴جنگ صفین کے بعد کچھ لوگوں نے اہل شام اور امیر معاویہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا تو حضرت علی نے یہ فرمان جاری کیا کہ کوئی بھی اہل شام اور معاویہ کو برا ہرگز نہ کہے. اس سلسلے میں حضرت علی کے ایک خط کا یہ مضمون پڑھنے کے قابل ہے :

“ہمارے معاملے کا آغاز یوں ہوا کہ ہمارا اور اہل شام( معاویہ ) کا مقابلہ ہوا، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک ہے، نبی ایک ہے، دعوت ایک ہے. اللہ پر ایمان رکھنے اور رسول اللہ علیہ الصلوۃ و السلام کی تصدیق کرنے میں ہم دونوں برابر ہیں. صرف خون عثمان کے بارے میں ہمارے اور ان کے درمیان اختلاف ہے اور ہم اس سے بری ہیں. لیکن معاویہ میرے بھائی ہیں”.( نہج البلاغہ ١٥١)

غور کریں کہ مولائے کائنات امیر معاویہ کو اپنا بھائی کہہ رہے ہیں. ان دونوں حضرات کے درمیان اسلامی اخوت و محبت کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے.

❤امیر معاویہ حسنین کریمین کی نظر میں

امام حسن رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ کے درمیان بھی اختلافات ہوئے اور جنگیں ہوئیں لیکن پھر بھی دونوں حضرات کو ایک دوسرے کی عظمت احساس رہا اور تا حیات تعلقات بھی رہے. شواہد یہ ہیں :

🌴امام حسن نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کی آپسی جنگ سے ملت کا بڑا نقصان ہو رہا ہے تو آپ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گیے ان سے اپنے لیے وظائف جاری کروائے اور امیر معاویہ اس کے علاوہ بھی وقتاً فوقتاً آپ کو تحائف اور نذرانے پیش کیا کرتے تھے اور آپ قبول کر لیا کرتے تھے.

🌴امام حسین رضی اللہ عنہ بھی امیر معاویہ کے تحائف اور نذرانے قبول کیا کرتے تھے اور آپ نے تو امیر معاویہ کی ماتحتی میں جنگوں میں شرکت بھی کی ہے.( تفصیل کے لیے دیکھیں البدايه و النهايه، اور طبری )

❤اہل بیت امیر معاویہ کی نظر میں

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں بھی اہل بیت کے حوالے سے بڑے نیک جذبات تھے اور اہل بیت کے تعلق سے ان کا رویہ ہمیشہ ہم دردانہ اور مشفقانہ رہا ہے. درج ذیل شواہد سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے :

🌴حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آپ کا تعلق اتنا ہمدردانہ تھا کہ جب قیصر روم نے حضرت علی کے مقبوضات پر قبضہ کرنے کا خطرناک منصوبہ بنایا اور امیر معاویہ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے قیصر روم کو ایسا تہدید نامہ لکھا جس کو پڑھ کر اس کے ہوش اڑ گئے اور وہ اپنے ارادے سے باز آ گیا. خط کا مضمون یہ تھا :

“اے لعنتی انسان، مجھے اپنے اللہ کی قسم ہے کہ اگر تو اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اپنے ملک کی طرف واپس لوٹ نہ گیا تو پھر میں اور میرے چچا زاد بھائی(علی ) تیرے خلاف صلح کر لیں گے. پھر تجھے تیرے ہی ملک سے نکال بھگائیں گے اور اس زمین کو اس کی وسعتوں کے باوجود تجھ پر تنگ کر دیں گے”.(البدایہ و النہایہ، ج:٨،ص:١١٩)

ذرا سوچیں کہ اگر امیر معاویہ کے دل میں حضرت علی کے لیے ہم دردی کے جذبات نہ ہوتے تو وہ قیصر روم کو ایسا تہدید نامہ کبھی نہ لکھتے بلکہ اگر کوئی ذاتی پرخاش ہوتی تو در پردہ یا علانیہ قیصر روم کی مدد بھی کرتے. حضرت علی کے حق میں امیر معاویہ کا یہ سلوک ان دونوں کے برادرانہ تعلقات کی روشن دلیل ہے.

🌴امیر معاویہ کے دل میں اہل بیت کی کتنی قدر تھی اس کا اندازہ اس وصیت نامے سے بھی ہوتا ہے جو آپ نے اپنے مرض الموت میں اپنے بیٹے یزید کے لیے لکھوایا تھا. اس وصیت نامے کا ایک خاص اقتباس آپ بھی دیکھیں :

“البتہ حسین بن علی سےتم کو( یعنی یزید کو )خطرہ ہے، اہل عراق انھیں تمھارے مقابلے میں لا کر چھوڑ دیں گے. جب وہ تمہارے مقابلے میں آئیں اور تم کو ان پر قابو حاصل ہو جائے تو درگزر سے کام لینا کہ وہ قرابت دار، بڑے حق دار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز ہیں”.( طبری ج:٥،ص:١٩٦)

ان شواہد سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ پر اہل بیت سے بغض و عناد کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے. اس لیے ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے بارے میں سب و شتم سے ہرگز کام نہ لیں اور ان کا ذکر خیر کے ساتھ ہی کریں کہ یہی اسوہ رسول ہے، اسی میں ملت کی بھلائی ہے اور اسی میں ہم سب کی نجات ہے.

مسلم الثبوت ہے، فضیلت معاویہ

عیاں ہے شمس کی طرح کرامت معاویہ

فقیر محمد ہارون مصباحی

الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور

٢٢/رجب مطابق ٣٠/مارچ، شنبہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.