معراج النبی ﷺ کی حکمت اور 27 رجب المرجب کی فضیلت

معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت

اور 27 رجب المرجب کی فضیلت

معراج کا معنی و مفہوم

عربی لغت میں ’’معراج‘‘ ایک وسیلہ ہے جس کی مدد سے بلندی کی طرف چڑھا جائے اسی لحاظ سے سیڑھی کو بھی ’’معراج‘‘ کہا جاتا ہے۔

(ابن منظور، لسان العرب، ج2، ص322)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا [ بمطابق قرآن و حدیث ] مکہ سے بیت المقدس اور بیت المقدس سے آسمانوں کی طرف اور پھر اپنے وطن لوٹ آنے کے جسمانی سفر کو معراج کہا جاتا ہے۔

قرآن مجید میں سورۃ اسریٰ کی پہلی آیت میں اس کی وضاحت کی گئی۔ ارشاد باری تعالی ہے:

’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂِ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے‘‘۔ (سورۃ بنی اسرائيل، 17: 1)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ مسافت خدا کی نشانیاں دیکھنے کا پیش خیمہ بنی ۔

مذکورہ آیت میں معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے مرحلے کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ اس سفر کے دوسرے مرحلے کی عکاسی سورہ نجم کی ابتدائی آیات میں اس طرح کی گئی۔

ارشاد باری تعالی ہے:

’’قسم ہے روشن ستارے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب وہ (چشم زدن میں شبِ معراج اوپر جا کر) نیچے اترے۔ تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (رسول جنہوں نے تمہیں اپنا صحابی بنایا) نہ (کبھی) راہ سے بھٹکے اور نہ (کبھی) راہ بھولے ‘‘۔ (سورۃ النجم، 53: 1،2)

معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمتیں:

ارباب فکر نے سفر معراج کی کچھ حکمتیں بیان فرمائی ہیں مگر حقیقت حال اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ان حکمتوں سے دلجوئی محبوب سے لے کر عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک منشائے ایزدی کے کئی پہلو انسانی زندگی پر واہ ہوتے ہیں۔

پہلی حکمت:

معراج کی پہلی حکمت یہ ہے کہ اعلان نبوت کے بعد کفار مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے۔ معاشرتی سطح پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کا بائیکاٹ کردیا جس کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی کرب سے گزرنا پڑا۔ بائیکاٹ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا جناب ابو طالب اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا خالق حقیقی سے جا ملیں چنانچہ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے پاس بلاکر سارے غم، دکھ اور پریشانیاں دور کردی جائیں اور اپنا دیدار کروایا جائے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اور (اے حبیبِ مکرّم! اِن کی باتوں سے غمزدہ نہ ہوں) آپ اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر جاری رکھیے۔ بے شک آپ (ہر وقت) ہماری آنکھوں کے سامنے (رہتے) ہیں [ یعنی ہماری نگھداشت میں ہیں ]‘‘ ۔ (سورۃ الطور، 52: 48)

دوسری حکمت:

عرش پر بلاکر اللہ رب العزت نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا دیدار کرایا:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰیo فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰیo (النجم:8، 9)

’’پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ پھر (جلوۂِ حق اور حبیبِ مکرّم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صِرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہوگیا)‘‘۔

صاحب روح البیان فرماتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ تعالیٰ کے قرب سے مشرف ہوئے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو اپنے قرب سے نوازا۔

(روح البیان ذیل آیات نجم)

پھر ارشاد فرمایا:

فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِهِ مَآ اَوْحٰی. (النجم: 10)

’’پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اﷲ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی‘‘۔

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ وحی اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے محبوب کو ارشاد فرمائی، درمیان میں کوئی وسیلہ نہ تھا۔ پھر رازو نیاز کی گفتگو ہوئی۔ اسرار و رموز سے آگاہی فرمائی جسے اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے پوشیدہ رکھا۔ اس گفتگو کا علم اللہ تعالیٰ اور حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو ہے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

رايت ربی عز وجل فی احسن صورة۔

’’میں نے اپنے رب کو حسین صورت میں دیکھا‘‘۔

[اس روایت کو امام ترمذی نے نقل فرمایا اور اسے حسن صحیح فرمایا ۔ جامع ترمذی رقم الحدیث 3288 ]

حضرت عبدالرحمن بن عائش نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا:

رايت ربی عز وجل فی احسن صورة۔

’’میں نے اپنے رب کو حسین صورت میں دیکھا‘‘۔

[اس روایت کو امام حاکم نے روایت فرمایا۔ المستدرک للحاکم ج 1 ، ص 560 ]

دیدار الہٰی کا ذکر ایک اور حدیث میں اس طرح فرمایا:

فخاطبنی ربی ورايتة بعينی بصری فاوحی.

’’میرے رب نے مجھ سے کلام فرمایا اور میں نے اپنے پروردگار کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا اور اس نے میری طرف وحی فرمائی‘‘۔

(تفسیر صاوی صفحة: 328)

حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین خصوصا حضرت عبدللہ ابن عباس، حضرت عبدللہ بن عمر، حضرت انس بن مالک، ابوامامہ، عمران بن حصین اور ابی بن کعب رضی اللہ عنھم فرماتے ہیں کہ شب معراج حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ فرمایا۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل، موسیٰ علیہ السلام کو کلام اور حضرت سیدالمرسلین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دیدار کا اعزاز بخشا۔

حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا :

میں حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قائل ہوں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔

حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ قسم کھاتے ہیں:

حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔

اس کی ایک واضح دلیل حضرت موسی علیہ السلام کا رویت باری تعالی کا سوال کرنا بھی ہے۔ کیونکہ اگر اللہ تعالی کو دیکھنا محال ہوتا تو کبھی سوال نہ کرتے۔

[المفھم شرح صحیح مسلم ،علامہ ابوالعباس مالکی قرطبی متوفی 656 ھ ج 1، ص 401-402]

تیسری حکمت:

فخر دو عالم حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شب معراج اللہ تعالیٰ نے تین تحفے عطا فرمائے۔

پہلا تحفہ سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں۔ جن میں اسلامی عقائد ایمان کی تکمیل اور مصیبتوں کے ختم ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے۔

دوسر اتحفہ یہ دیا گیا کہ امت محمدیہ ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں جو شرک نہ کرے گا وہ ضرور بخشا جائے گا۔

تیسرا تحفہ یہ کہ امت پر پچاس نمازیں فرض ہوں گی۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تینوں انعامات و تحائف کو لے کر اور جلوہ الہیٰ سے سرفراز ہوکر عرش و کرسی، لوح و قلم، جنت و دوزخ، عجائب و غرائب، اسرار و رموز کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ فرمانے کے بعد جب پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم واپسی کے لئے روانہ ہوئے تو چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریافت فرمایا، کیا عطا ہوا؟

حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت پر پچاس نمازوں کی فرضیت کا ذکر فرمایا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

اے اللہ کے نبی! میں نے اپنی قوم (بنی اسرائیل) پر خوب تجربہ کیا ہے۔ آپ کی امت یہ بار نہ اٹھاسکے گی۔ آپ واپس جایئے اور نماز میں کمی کرایئے۔

رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر تشریف لے گئے اورنماز میں کمی کی التجا کی جو کم ہوتے ہوتے پانچ وقت کی نماز رہ گئی اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’اے محبوب! ہم اپنی بات بدلتے نہیں، اگرچہ نمازیں تعداد میں پانچ وقت کی ہیں مگر ان کا ثواب دس گنا دیا جائے گا۔ میں آپ کی امت کو پانچ وقت کی نماز پر پچاس وقت کی نمازوں کا ثواب دوں گا‘‘۔

(تفسير ابن کثير، ذیل آیت اسرا)

رجب المرجب کی فضیلت:

اسلامی تاریخ کا ساتواں مہینہ رجب المرجب ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رجب ترجیب سے ماخوذ ہے۔ ترجیب کے معنی تعظیم کے ہیں۔ اہل عرب اس کو اللہ کا مہینہ کہتے تھے اور اس کی تعظیم بجا لاتے تھے۔

رجب المرجب کے اہم واقعات:

رجب کی پہلی تاریخ کو سیدنا نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے۔ چار تاریخ کو جنگ صفین کا واقعہ پیش آیا۔ ستائیسویں شب کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جسمانی معراج کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ اٹھائیسویں تاریخ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا۔ (عجائب المخلوقات، ص 45)

رجب کی ستائیسویں شب کے نوافل:

رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والوں کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے جو اس میں بارہ رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی سی ایک سور ت اور ہر دو رکعت پر التحیات پڑھے اور بارہ رکعتیں پوری ہونے پر 100 مرتبہ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر، استغفار سو بار، درود شریف سو بار پڑھے اور پھر دنیا و آخرت سے جس چیز کی چاہے دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی سب دعائیں قبول فرمائے گا۔ سوائے اس دعا کے جو گناہ کے لئے ہو۔

(شعب الايمان، امام بیھقی ، ج3، ص384، رقم حديث 3812)

رجب کے روزے کا ثواب:

صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

جنت میں ایک نہر ہے جسے رجب کہا جاتا ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے جو کوئی رجب کا روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اسے اس نہر سے سیراب کرے گا۔

(شعب الايمان، امام بیھقی ، ج3، ص368، رقم حديث: 3800)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ستائیس رجب کو مجھے نبوت عطا ہوئی جو اس دن کا روزہ رکھے اور افطار کے وقت دعا کرے تو یہ اس کے لئے دس برس کے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔

(فتاویٰ رضويه ، امام احمد رضا ، ج10، 648)

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

رجب میں ایک دن اور رات ہے جو اس دن روزہ رکھے اور رات کو قیام کرے تو گویا اس نے سو سال کے روزے رکھے۔

(شعب الايمان، امام بیھقی ، ج3، ص374، رقم حديث: 3811)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.