نمازیں پچاس تھیں اور جنابت کا غسل سات بار

حدیث نمبر :427

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نمازیں پچاس تھیں اور جنابت کا غسل سات بار اور کپڑے سے پیشاب دھوناسات بار ۱؎ پس حضور انور عرض کرتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ رہیں اورجنابت کا غسل ایک بار اور کپڑا پیشاب سے دھونا ایک بار۲؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی معراج میں اولًایہ احکام دیئے گئے،پھر وہاں ہی منسوخ ہوگئے،جیسا کہ آگے آرہا ہے ان احکام پر عمل کسی نے نہیں کیا کیونکہ عمل سے پہلے نسخ جائز ہے۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ تینوں نسخ معراج کی رات ہی میں ہوگئے۔بعض نے فرمایا کہ شروع اسلام میں غسل اور کپڑا دھونا سات سات بار رہا جس پر کچھ روزعمل ہوا۔خیال رہے کہ امام شافعی کے نزدیک نجس کپڑا ایک بار دھونا ہی فرض ہے،جیسے وضو اور غسل میں ایک بار اعضاء دھونا فرض اور ہمارے امام صاحب کے یہاں جب کپڑے پر نجاست نظر نہ آتی ہو تو اتنا دھونا فرض ہے کہ اس کی پاکی کا گمان غالب ہوجائے اس طرح کہ تین بار دھوئے اور ہر دفعہ نچوڑے۔مگرصاحبین کے نزدیک بھی جوکپڑے نچوڑنے کے قابل نہ ہوں جیسے بہت موٹی دریاں یا نہایت کمزور نازک ریشمی کپڑے ان میں بھی اس قدر پانی بہنا کافی ہوتاہے،لہذا یہ حدیث امام صاحب کے خلاف نہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.