أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَسۡئَـــلُوۡنَكَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَهُمۡ‌ؕ قُلۡ اُحِلَّ لَـكُمُ الطَّيِّبٰتُ‌ ۙ وَمَا عَلَّمۡتُمۡ مِّنَ الۡجَـوَارِحِ مُكَلِّبِيۡنَ تُعَلِّمُوۡنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ‌ فَكُلُوۡا مِمَّاۤ اَمۡسَكۡنَ عَلَيۡكُمۡ وَاذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلَيۡهِ‌ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ ۞

ترجمہ:

(اے رسول مکرم :) آپ سے پوچھتے ہیں ان کے لیے کون سی چیزیں حلال کی گئی ہیں، آپ کہیے کہ تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو تم نے شکاری جانور سدھا لیے ہیں دراں حالیکہ تم انھیں شکار کا طریقہ سکھانے والے ہو، تم انہیں اسی طرح سکھاتے ہو جس طرح اللہ نے تمہیں سکھایا ہے سو اس (شکار) سے کھاؤ جس کو وہ (شکاری جانور) تمہارے لیے روک رکھیں (اور شکار چھوڑتے وقت) اس (شکاری جانور) پر بسم اللہ پڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

تفسیر:

(پچھلی آیت کی بقیہ تفسیر)

روزنامہ حریت کی ایک خبر کی سرخیاں ملاحظہ فرمائیں : 

اسلامی قوانین کے نفاذ کے بعد قومی اتحاد کی تحریک کا مثبت مقصد حاصل ہوگا۔ مفتی محمود نے کہا ‘ معاشرے کو مکمل طور پر اسلامی بنانے میں کچھ وقت لگے گا ‘ عید میلاد کے موقع پر مفتی محمود کی قیادت میں عظیم الشان جلوس۔ (روزنامہ حریت ‘ ١١ فروری ١٩٧٩ ء) 

روزنامہ مشرق کی ایک خبر ملاحظہ ہو :

لاہور ٩ فروری (پ پ ا) قومی اتحاد کے صدر مفتی محمود اور نائب صدر نوابزادہ نصر اللہ خاں کل یہاں عید میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جلوس کی قیادت کریں گے ‘ یہ اجلاس نیلا گنبد سے نکل کر مسجد شہداء پر ختم ہوگا۔ (روزنامہ مشرق کراچی ‘ ١٠ فروری ١٩٧٩ ء) 

جمعیت علماء اسلام کے مولانا محمد اجمل خاں نے مطالبہ کیا ہے کہ خلفاء راشدین کے ایام سرکاری طور پر منائے جائیں۔ (روزنامہ جنگ ‘ لاہور، ٢٠ جون، ١٩٩٢ ء) 

سپاہ صحابہ کے مرکزی صدر شیخ حاکم علی نے یکم محرم الحرام کو یوم فاروق اعظم کی سرکاری تعطیل پر کہا ہے ‘ کہ آج کا دن عید کا دن ہے۔ (نوائے وقت ١٧ جون، ١٩٩٤ ء) 

سپاہ کے زیر اہتمام گزشتہ روز ٢٢ فروری کو پورے ملک میں مولانا حق نواز جھنگوی شہید کو یوم شہادت انتہائی عقیدت واحترام سے منایا گیا۔ سپاہ صحابہ جھنگ کے زیر اہتمام احرار پارک محلہ حق نواز شہید میں ایک تاریخی کا نفرنس منعقد ہوئی۔ کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپاہ صحابہ کے قائم مقام سرپرست اعلی مولانا محمد اعظم طارق ایم۔ این۔ اے، نے کہا کہ ٢٢ فروری کی نسبت سے حضرت جھنگوی شہید کی شہادت کا دن ہے۔ اور ٢١ رمضان المبارک کی نسبت کی وجہ سے یہی دن حضرت علی مرتضی شیر خدا کی شہادت کا دن ہے۔ (نوائے وقت ٢٣ فروری ١٩٩٥ ء) 

سپاہ صحابہ کے بانی مولانا حق نواز جھنگوی کی دوسری برسی کے موقع پر ٢٢ فروری کو پاکستان سمیت دیگر ممالک میں مولانا جھنگوی کی یاد میں سپاہ صحابہ جلسے ‘ سیمینار اور دیگر تقریبات منعقد کرے گی۔ سپاہ صحابہ کے تمام مراکز ودفاتر میں ایصال ثواب کے لیے صبح نو بجے قرآن خوانی ہوگی۔ مرکزی تقریب جھنگ میں مولانا جھنگوی کی مسجد میں قرآن خوانی سے شروع ہوگی اور بعد میں عظیم الشان جلسہ ہوگا ‘ جس میں قائدین خطاب کریں گے۔ (نوائے وقت ٢١ فروری، ١٩٩٢ ء) 

یوم فاروق اعظم (رض) پر تعطیل نہ کرنے کے خلاف سپاہ صحابہ کا مظاہرہ :

خلفائے راشدین کے یوم سرکاری سطح پر نہ منانا ناقابل فہم ہے ‘ محمد احمد مدنی کا مظاہرین سے خطاب۔ 

کراچی (پ ر) سپاہ صحابہ کے زیر اہتمام یوم شہادت فاروق اعظم (رض) عقیدت واحترام سے منایا گیا ‘ اس سلسلے میں جامعہ صدیق اکبر ناگن چورنگی میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈویژنل رہنما علامہ محمد اویس نے حضرت عمر فاروق (رض) کے کارناموں پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں یوم شہادت حضرت عمر فاروق پر عام تعطیل نہ کرنے کے خلاف سپاہ صحابہ کے تحت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ‘ مظاہرین پلے کارڈ اور بینر اٹھائے ہوئے تھے ‘ جن پر یوم خلفائے راشدین کو سرکاری سطح پر منانے ‘ اس روز عام تعطیل کرنے ‘ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف لٹریچر کی ضبطی اور اسیر رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی پر مشتمل مطالبات درج تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا محمد احمد مدنی نے کہا ‘ کہ ملک میں ملکی اور علاقائی سطح کے رہنماؤں کے یوم منانے جاتے ہیں ‘ لیکن اسلامی ملک میں خلفائے راشدین کے یوم پر تعطیل نہ کرنا ناقابل فہم ہے۔ اس موقع پر ایک قرار داد کے ذریعے مولانا علی شیر حیدری ‘ مولانا اعظم طارق ‘ حافظ احمد بخش ایڈو وکیٹ ‘ مولانا غفور ندیم اور دیگر کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ دریں اثناء سپاہ صحابہ اسٹوڈنٹس کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری حافظ سفیان عباسی ‘ شفیق الرحمن ‘ ابو عمار ‘ ج۔ اے قادری اور ایم۔ اے کشمیری نے مظاہرہ میں شرکت پر طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔ (روزنامہ جنگ ‘ کراچی ‘ ١٠ مئی ‘ ١٩٩٧ ء) 

عشرہ حکیم الامت منایا جائے گا ‘ مفتی نعیم :

کراچی (پ ر) سنی مجلس عمل پاکستان کے قائد مولانا محمد نعیم نے کہا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی کی تعلیمی ‘ تصنیفی اور اصلاحی خدمات ہمارے لیے مشعل رہ ہیں ‘ جسے کوئی بھی عاشق رسول اور محب پاکستانی فراموش نہیں کرسکتا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ‘ کہ ہمارا بزرگوں کے ساتھ لگاؤ اور تعلق اظہر من الشمس ہے۔ اجلاس میں سنی مجلس عمل پاکستان کے زیر اہتمام عشرہ حکیم الامت منانے کا اعلان کرتے ہوئے مفتی محمد نعیم نے کہا کہ کراچی کے تمام اضلاع میں مولانا اشرف علی تھانوی کی یاد میں مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ (روزنامہ جنگ ‘ کراچی ‘ ٣٠ جون ١٩٩٧ ء) 

کراچی (پ ر) سنی مجلس عمل پاکستان کے قائد مولانا مفتی محمد نعیم جامع مسجد صدیق اور نگی ٹاؤن میں عشرہ حضرت حکیم الامت کے سلسلہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کی تصانیف کا مطالعہ کرکے اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہب کسی پر بلاتحقیق بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے جھوٹ ‘ فریب اور غیبت سے پرہیز کیا جائے۔ اجتماع سے مولانا غلام رسول ‘ مولانا انصر محمود اور مولانا محمد صدیق نے بھی خطاب کیا۔ (روزنامہ جنگ ‘ کراچی ٤ جولائی ١٩٩٧ ء) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جو شخص بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر (کوئی حرام کھالے) دراں حالیکہ وہ اس کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بہت مہربان ہے۔ (المائدہ : ٣) 

ضرورت کی بنا پر حرام چیزوں کے استعمال کی اجازت : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصریح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ جن چیزوں کا کھانا مسلمانوں پر عام حالات میں حرام کردیا ہے ‘ اس سے ضرورت کے احوال مستثنی ہیں۔ مثلا بھوک کی شدت سے کسی شخص کی جان نکل رہی ہو اور اس کے پاس کوئی حلال چیز کھانے کے لیے نہ ہو تو وہ رمق حیات برقرار رکھنے کے لیے حرام چیز کھا سکتا ہے۔ بشرطیکہ اسے اس حرام چیز کھانے کا شوق اور میلان نہ ہو اور وہ طبعا اس کی طرف راغب نہ ہو اور جس چیز کو کسی ضرورت کی بناء پر لیا جائے اس کو بقدر ضرورت لیا جاتا ہے۔ اس لیے صرف اتنی مقدار میں حرام چیز کھائی جائے جتنی مقدار میں کھانے سے اس کی جان بچ جائے اور لذت اندوزی کے لیے اس حد سے تجاوز نہ کرے ‘ ان چیزوں کا کھانا ہرچند کہ بندوں پر حرام ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان اور رحیم وکریم ہے اور وہ ضرورت کی وجہ سے اتنی مقدار کھانے کو معاف کردے گا۔ اسی اصول پر ہمارے فقہاء اور محدثین نے کہا ہے کہ جان بچانے کے لیے حرام دوا کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ کوئی مسلمان معالج یہ بتائے کہ اس کے علم اور اس کی دسترس میں اس کے سوا اور کوئی حلال چیز ذریعہ علاج نہیں ہے لہذا جان بچانے کے لیے کسی انسان کو خون دیا جاسکتا ہے ‘ اور جن دواؤں میں الکحل ہوتی ہے ان کو بھی علاج کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ قلیل الکحل حرام اور نجس نہیں ہے۔ خصوصا جبکہ وہ نمکیات سے مخلوط ہے۔ اس کی مکمل اور باحوالہ بحث (البقرہ : ١٧٣) میں گزر چکی ہے اور شرح صحیح مسلم جلد ثانی میں بھی ہم نے اس پر مفصل گفتگو کی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے رسول مکرم :) آپ سے پوچھتے ہیں ان کے لیے کون سی چیزیں حلال کی گئی ہیں، آپ کہیے کہ تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو تم نے شکاری جانور سدھا لیے ہیں دراں حالیکہ تم انھیں شکار کا طریقہ سکھانے والے ہو، تم انہیں اسی طرح سکھاتے ہو جس طرح اللہ نے تمہیں سکھایا ہے سو اس (شکار) سے کھاؤ جس کو وہ (شکاری جانور) تمہارے لیے روک رکھیں (اور شکار چھوڑتے وقت) اس (شکاری جانور) پر بسم اللہ پڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ 

زیر بحث آیت کا معنی اور شان نزول :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے رسول معظم ! آپ سے آپ کے اصحاب یہ سوال کرتے ہیں کہ ان کے کھانے کے لیے کون سے جانور حلال ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کہئے کہ جن جانوروں کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کردیا ہے ‘ ان کو ذبح کرنے کے بعد تم کھا سکتے ہو اور تمہارے سدھائے ہوئے شکاری جانوروں نے جن جانوروں کو زخمی کر کے شکار کرلیا ہے ‘ ان کو بھی تم کھا سکتے ہو۔ 

اس آیت میں فرمایا ہے تمہارے لیے طیبات کو حلال کردیا ہے ‘ طیبات کا معنی ہے وہ چیزیں جن سے طبائع سلیمہ گھن نہ کھاتی ہوں اور متنفر اور متوحش نہ ہوں۔ یہ بلخی کا قول ہے اور ایک قول یہ ہے کہ طیبات وہ چیزیں ہیں جن کی تحریم میں نص وارد نہ ہو ‘ نہ ان کی حرمت پر اجماع ہو اور نہ قیاس سے ان کی حرمت ثابت ہو۔ پہلے قول کی بناء پر اس سے مراد لذیذ اشیاء ہیں ‘ اور دوسرے قول کے مطابق اس سے مراد حلال اشیاء ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حلال اور لذیذ چیزیں ہیں۔ 

اس آیت کے شان نزول میں امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے یہ روایت ذکر کی ہے : 

حضرت ابو رافع (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آنے کی اجازت طلب کی ‘ آپ نے ان کو اجازت دے دی ‘ انہوں نے کہا ‘ یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں اجازت دے دی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! انہوں نے کہا ‘ لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو۔ ابو رافع کہتے ہیں پھر آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں مدینہ کے ہر کتے کو قتل کر دوں ! سو میں نے کتوں کو قتل کردیا۔ پھر میں ایک عورت کے پاس پہنچا جس کے پاس کتا بھونک رہا تھا ‘ میں نے اس پر رحم کھا کر اس کو چھوڑ دیا ‘ پھر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر آپ کو اس کی خبر دی ‘ آپ نے مجھے اس کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا ‘ پھر میں نے اس کو بھی قتل کردیا ‘ پھر مسلمانوں نے آکر آپ سے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں ان کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کی کوئی چیز ہمارے لیے حلال ہے ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی، آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کون سے چیزیں حلال کی گئی ہیں ؟ آپ کہئے کہ تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو تم نے شکاری جانور سدھا لیے ہیں ‘ درآنحالیکہ تم انہیں شکار کے طریقہ سکھانے والے ہو۔ الایہ۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ١١٤‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ ‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٩‘ ص ٢٣٥‘ المستدرک ج ٢ ص ٣١١) 

شکار کی اقسام اور ان کے شرعی احکام : 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

شکار کرنا مباح ہے ‘ اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کتاب ‘ سنت اور اجماع سے اس پر بکثرت دلائل ہیں۔ قاضی عیاض مالکی نے کہا ہے کہ جو شخص کسب معاش کے لیے شکار کرے ‘ یا ضرورت کی بناء پر شکار کرے ‘ یا شکار یا اس کی قیمت سے نفع حاصل کرنے کے لیے شکار کرے تو ان تمام صورتوں میں شکار کرنا جائز ہے۔ البتہ جو شخص بطور لہو و لعب کے شکار کھیلے ‘ لیکن اس کا قصد اس شکار کو ذبح کرنا اور اس سے نفع حاصل کرنا ہو اس کے جواز میں اختلاف ہے۔ امام مالک نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے ‘ اور لیث اور ابن عبد الحکم نے اس کو جائز کہا ہے۔ قاضی عیاض نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص ذبح کی نیت کے بغیر شکار کھیلے تو یہ حرام ہے ‘ کیونکہ یہ زمین میں فساد کرنا ہے ‘ اور ایک جاندار کو بےمقصد ضائع کرنا ہے۔ (شرح مسلم ‘ ج ٢ ص ١٤٥‘ مطبوعہ کراچی) 

علامہ وشتانی ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ لکھتے ہیں : 

علامہ لخمی نے شکار کے حکم کی پانچ قسمیں بیان کی ہیں۔ 

(١) زندگی برقرار رکھنے کے لیے ‘ یعنی کھانے پینے کے لیے شکار کرنا مباح ہے۔ 

(٢) اہل و عیال کی تنگی کے وقت یا سوال سے بچنے کے لیے شکار کرنا مستحب ہے۔ 

(٣) اپنے آپ کو بھوک کی ہلاکت سے بچانے کے لیے شکار کرنا واجب ہے۔ 

(٤) لہو ولعب کے لیے شکار کرنا مکروہ ہے ‘ جبکہ شکار کے بعد جانور کو ذبح کرکے کھالیا جائے۔ 

(٥) ذبح کرنے اور کھانے کی نیت کے بغیر شکار کرنا حرام ہے۔ 

علامہ ابی مالکی فرماتے ہیں ‘ بلاضرورت محض لہو ولعب کے لیے شکار کرنے میں بہت مفاسد ہیں۔ اس میں گھوڑے کو کتے کے پیچھے بھگا کر تھکانا ہے اور اگر باز سے شکار کیا جائے تو نظر کو اس کے پیچھے لگا کر تھکانا ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گھوڑا اس کو کسی کھائی یا کنوئیں میں گرا دے۔ (اکمال اکمال المعلم ‘ ج ٥‘ ص ٢٦٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

شکار کی شرائط کا بیان : 

علامہ شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں : 

(١) جس جانور کے ساتھ شکار کھیلا جائے ‘ وہ سدھایا ہوا ہے۔ 

(٢) جس جانور کے ساتھ شکار کیا جائے وہ زخمی کرنے والا ہو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما علمتم من الجوارح مکلبین تعلمونھن مما علمکم اللہ “ اور جن شکاری جانوروں (زخمی کرنے والے) کو تم نے سدھا لیا ہے ‘ جن کو خدا کے دیئے ہوئے علم کے مطابق تم شکار کی تعلیم دیتے ہو ‘ جوارح (زخمی کرنے والے) کے متعلق دو قول ہیں (١) وہ جانور اپنے دانتوں اور پنچوں سے حقیقتا زخم ڈالے (٢) وہ شکار کو پکڑ کر لانے والے جانور ہوں ‘ کیونکہ جرح کا معنی کسب بھی ہے۔ 

(٣) شکاری جانور کو بھیجا جائے ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عدی بن حاتم (رض) سے فرمایا جب تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے کو بھیجا ج اور اس پر بسم اللہ پڑھ لی تو اس کو کھالو اور اگر تمہارے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا شریک ہوگیا تو پھر اس (شکار) کو مت کھاؤ اور جب دو کتوں میں سے ایک کتا بھیجا ہوا نہ ہو تو کھانا حرام ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کتے کو بھیجنا شرط ہے۔ نیز ذکاۃ حلت کا سبب اس وقت ہوتی ہے جب اس کا حصول کسی آدمی سے ہوا ہو ‘ اس لیے شکار کے آلہ کو آدمی کا قائم مقام بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس میں آدمی کا فعل داخل ہو اور یہ صرف شکاری جانور کو بھیجنے سے ہوسکتا ہے ‘ اور کتے کے لیے سدھائے ہونے کی شرط بھی اس میں بھیجنے کے تحقق کے لیے لگائی گئی ہے۔ 

(٤) بسم اللہ پڑھ کر شکاری جانور کو بھیجے۔ 

(٥) اس کے بھیجے ہوئے جانور کے ساتھ دوسرا جانور شریک نہ ہو۔ 

(٦) جس جانور کا شکار کیا جائے ‘ وہ فی نفسہ حلال ہو۔ 

شکار کرنے والے جانوروں کا بیان : 

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی ٥٩٣ لکھتے ہیں : 

سدھائے ہوئے کتے ‘ چیتے ‘ تمام زخمی کرنے والے اور سدھائے ہوئے جانوروں سے شکار کرنا جائز ہے اور جامع صغیر میں لکھا ہے کہ تمام سدھائے ہوئے اور پھاڑنے والے درندوں اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندوں سے شکار کرنا جائز ہے۔ اور سدھائے ہوئے جانور کے سوا کسی اور جانور سے شکار کرنا جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس کو ذبح کرلیا جائے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما علمتم من الجوارح مکلبین “ ” تم نے جو (شکار کا) کسب معاش کرنے والے جانور سدھائے ہیں ‘ ” درآنحالیکہ وہ شکار پر مسلط ہونے والے ہیں “ یہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے تمام شکار کرنے والے جانوروں کو شامل ہے۔ اور حضرت عدی بن حاتم (رض) کی حدیث میں اس کی تائید کرتی ہے ‘ ہرچند کہ حضرت عدی بن حاتم (رض) کی روایت میں کلب کا ذکر ہے۔ لیکن لغت کے اعتبار سے ہر درندے پر کلب کا اطلاق ہوتا ہے ‘ حتی کہ شیر پر بھی کلب کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام ابو یوسف سے ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے ان جانوروں سے شیر اور ریچھ اپنی خساست کی وجہ سے۔ بعض علماء نے چیل کا بھی اس کی خساست کی وجہ سے استثناء کیا ہے۔ خنزیر بھی ان جانوروں سے مستثنی ہے کیونکہ وہ نجس العین ہے ‘ اس لیے اس سے فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔ پھر ان شکاری جانوروں کو تعلیم دینا اور سدھانا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کی نص صریح (آیت) ” وما علمتم “۔ میں تعلیم کی شرط کا ذکر ہے اور حضرت عدی بن حاتم کی روایت میں بھی تعلیم کی شرط کا ذکر ہے۔ اور جانور کو چھوڑنا بھی ضروری ہے ‘ کیونکہ یہی تعلیم کا معیار ہے کہ جب جانور کو چھوڑا جائے تو وہ چلا جائے اور اپنے مالک کے لیے شکار کو پکڑ کر رکھے۔ (ھدایہ اخیرین ‘ ص ٥٠٢‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان) 

شکاری کتے کے معلم (سدھائے ہوئے) ہونے کا معیار اور شرائط :

شمس الائمہ سرخسی نے کلب معلم (سدھائے ہوئے کتے) کی حسب ذیل شرائط ذکر کی ہیں : 

(١) اپنے مالک کے پیچھے حملہ کرنے کے لیے نہ دوڑے۔ 

(٢) مار سے نہ سکھائے بلکہ شکاری دوسرے کتے کو شکار کھانے پر مارے ‘ تاکہ اس سے وہ کتا سیکھ لے کہ شکار کو نہیں کھانا چاہیے۔ 

جس شکار یا ذبیحہ پر بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو اس کے حکم میں فقہاء احناف کا نظریہ : 

اور ائمہ ثلاثہ کے دلائل کے جوابات :

امام ابوبکر جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے اصحاب (فقہاء احناف) امام مالک اور حسن بن صالح نے یہ کہا ہے کہ اگر مسلمان (شکار یا ذبیحہ) عمدا بسم اللہ ترک کردے تو اس کو نہیں کھایا جائے گا اور اگر نسیانا بسم اللہ کو ترک کرد یا ‘ تو پھر اس کو کھالیا جائے گا۔ امام شافعی نے یہ کہا ہے کہ دونوں صورتوں میں ذبیحہ کو کھالیا جائے گا۔ امام اوزاعی کا بھی یہی قول ہے۔۔ نسیانا بسم اللہ کو ترک کرنے میں اختلاف ہے۔ حضرت علی ‘ حضرت ابن عباس (رض) ‘ مجاہد ‘ عطاء بن ابی رباح ‘ سعید بن مسیب ‘ ابن شہاب اور طاؤس نے یہ کہا ہے کہ جس ذبیحہ پر بسم اللہ کو نسیانا ترک کردیا جائے ‘ اس کو کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا مسلمان کے دل میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ جس طرح مشرک کا ذبیحہ پر اللہ کا نام لینا سود مند نہیں ہے ‘ اسی طرح مسلمان کا بھولے سے نام نہ لینا مضر نہیں ہے۔ ابن سیرین نے کہا اگر مسلمان نسیانا بھی بسم اللہ کو ترک کردے تو وہ ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا۔ ابراہیم نے کہا ایسے ذبیحہ کو نہ کھانا مستحب ہے۔ 

امام ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں : کہ فقہاء احناف کا استدلال اس آیت سے ہے : 

(آیت) ” ولا تاکلوامما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق “۔ (انعام : ٦ : ١٢١) 

ترجمہ : جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ‘ اس کو مت کھاؤ‘ بلاشبہ اس کا کھانا گناہ ہے۔ 

اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس (شکار یا ذبیحہ) پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ‘ اس کا کھانا حرام ہے۔ خواہ اللہ کا نام عمدا ترک کیا ہو یا نسیانا۔ لیکن دلائل سے یہ ثابت ہے کہ یہاں نسیان مراد نہیں ہے۔ البتہ اس شخص کا قول اس آیت کے خلاف ہے جس نے یہ کہا ہے کہ جس ذبیحہ پر عمدا بسم اللہ کو ترک کردیا گیا اس کا کھانا بھی جائز ہے اور اس شخص کا یہ قول بکثرت آثار اور احادیث کے بھی خلاف ہے۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس آیت میں مشرکین کے ذبیحہ کو کھانے سے منع فرمایا گیا ہے ‘ کیونکہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ مشرکوں نے کہا ‘ جس جانور کو تمہارے رب نے قتل کیا اور وہ مرگیا تو تم اس کو نہیں کھاتے اور جس جانور کو تم نے قتل کیا ‘ یعنی ذبح کیا اس کو تم کھالیتے ہو۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اس کو مت کھاؤ“ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یعنی مردار پر ‘ اور جب اس آیت میں مردار اور مشرکین کا ذبیحہ مراد ہے تو اس میں مسلمانوں کا ذبیحہ داخل نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اصول فقہ میں یہ قاعدہ معروف ہے کہ جب کسی آیت کا مورد نزول خاص ہو اور اس کے الفاظ عام ہوں ‘ تو پھر خصوصیت مورد کا اعتبار نہیں کیا جاتا ‘ بلکہ عموم الفاظ کا اعتبار ہے اور خصوصیت مورد کا لحاظ نہیں ہے ‘ اور اگر یہاں مشرکین کے ذبیحے مراد ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کا ذکر فرماتا ‘ اور صرف بسم اللہ کے ترک کرنے پر اقتصار نہ فرماتا ‘ اور ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ مشرکین اگر اپنے ذبیحوں پر بسم اللہ پڑھ بھی لیں ‘ تب بھی ان کاذبیحہ حلال نہیں ہوگا۔ 

اس آیت میں مشرکین کے ذبیحے مراد نہ ہونے پر دلیل ہے کہ مشرکوں کا ذبیحہ کسی صورت میں حلال نہیں ہے۔ خواہ وہ بسم اللہ پڑھیں یا نہ پڑھیں اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں مشرکوں کے ذبیحوں کے حرام ہونے کی تصریح کی ہے۔ وہ ہے (آیت) ” وما ذبح علی النصب “۔ اور جس جانور کو بتوں کے لیے نصب شدہ پتھروں پر ذبح کیا گیا ہو “ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں مشرکوں کا ذبیحہ مراد نہیں ہے ‘ بلکہ یہ مراد ہے کہ جس جانور پر ذبح کے وقت بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو ‘ اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ (آیت) ” وان الشیاطین لیوحون الی اولیائھم لیجادلوکم “۔ (الانعام : ٣١) بلاشبہ شیطان تم سے جھگڑا کرنے کے لیے اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتے تھے کہ جس پر اللہ کا نام لیا جائے ‘ اس کو مت کھاؤ اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے ‘ اس کو کھالو۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ 

(آیت) ” ولا تاکلوامما لم یذکر اسم اللہ “۔ (انعام : ١٢١) 

ترجمہ : جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ‘ اس کو مت کھاؤ ‘۔ 

اس حدیث میں حضرت ابن عباس (رض) نے یہ بتایا ہے کہ مشرکوں کا جھگڑا بسم اللہ کے ترک کرنے میں تھا ‘ اور یہ آیت بسم اللہ کو واجب کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ مشرکوں کے ذبیحوں کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ نہ کہ مردار کے بارے میں۔ نیز بسم اللہ کو عمدا ترک کرنے سے ذبیحہ یا شکار کے حرام ہونے پر یہ آیت دلیل ہے :۔ 

(آیت) ” یسئلونک ما ذا احل لھم قل احل لکم الطیبت وما علمتم من الجوارح مکلبین تعلمونھن مما علمکم اللہ فکلوا مما امسکن علیکم واذکروا اسم اللہ علیہ (المائدہ : ٤)

وہ آپ سے پوچھتے ہیں ان کے لیے کون سی چیزیں حلال کی گئی ہیں، آپ کہیے کہ تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو تم نے شکاری جانور سدھا لیے ہیں دراں حالیکہ تم انھیں شکار کا طریقہ سکھانے والے ہو، تم انہیں اسی طرح سکھاتے ہو جس طرح اللہ نے تمہیں سکھایا ہے سو اس (شکار) سے کھاؤ جس کو وہ (شکاری جانور) تمہارے لیے روک رکھیں (اور شکار چھوڑتے وقت) اس (شکاری جانور) پر بسم اللہ پڑھو۔ 

اس آیت میں بسم اللہ پڑھنے کا امر کیا گیا ہے ‘ اور امر واجوب کے لیے آتا ہے اور یہ بداہۃ معلوم ہے کہ کھانا کھانے والے پر بسم اللہ پڑھنا واجب نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شکار پر جانور چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھنا واجب ہے اور اس کی تائید حضرت عدی بن حاتم (رض) کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے ‘ جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو اس کو کھا یا کرو۔ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ اس چیز کا کھانا ممنوع ہو جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اور اس آیت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ بسم اللہ کو ترک کرنا ممنوع ہو اور اس ممانعت کی یہ تاکید آیت کے اس جزو سے ہوتی ہے (آیت) ” وانہ لفسق “ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا گناہ ہے یا بسم اللہ کو ترک کرنا گناہ ہے اور اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ بسم اللہ کو عمدا ترک کرنا گناہ ہے۔ کیونکہ بھول کر کوئی کام کرنا یا نہ کرنا گناہ نہیں ہوتا اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ حدیث میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ ! دیہاتی لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں۔ اور وہ نئے نئے کفر سے نکلتے ہیں۔ ہم کو پتا نہیں کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں۔ آپ نے فرمایا تم اس پر اللہ کا نام لو اور کھالو ‘ اگر بسم اللہ کو پڑھنا ذبح کی شرط نہ ہوتا تو آپ یہ فرماتے کہ اگر انہوں نے بسم اللہ کو نہیں پڑھا تو پھر کیا ہوا ‘ لیکن آپ نے فرمایا تم اس کو بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ‘ کیونکہ اصل اور قاعدہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے افعال کو جواز اور صحت پر محمول کیا جاتا ہے اور بغیر کسی دلیل کے مسلمانوں کے امور اور افعال کو فساد پر محمول نہیں کیا جاتا۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر یہ مراد ہو کہ بسم اللہ کو نہ پڑھنا گناہ ہے تو جو شخص ذبیحہ پر بسم نہ پڑھے ‘ وہ گنہگار ہوگا۔ 

حالانکہ اس پر اجماع ہے کہ وہ گنہگار نہیں ہوتا، اس لیے اس آیت میں مشرکین کے ذبیحے یا مردار مراد ہونے چاہئیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں یہ اجماع تسلیم نہیں ہے اور جو شخص ذبیحہ پر عمدا بسم اللہ کو ترک کرے گا وہ بہرحال گنہگار ہوگا۔ 

باقی رہا یہ کہ جو مسلمان بھول کر بسم اللہ ترک کر دے ‘ اس کا ذبیحہ جائز ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اس کو مت کھاؤ اور اس کو گناہ فرمایا ہے۔ اور یہ گناہ اسی وقت ہوتا جب وہ عمدا اس حکم کی خلاف ورزی کرے گا۔ کیونکہ یہ چیز انسان کی قدرت اور استطاعت میں نہیں ہے کہ وہ بھول کر بھی کوئی غلط کام نہ کرے اور انسان اپنی قدرت کے مطابق ہی مکلف ہوتا ہے۔ اور امام اوزاعی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا ‘ نسیان اور جبر سے درگزر فرما لیا ہے اور جب وہ نسیان کی حالت میں بسم اللہ پڑھنے کا مکلف نہیں ہے تو اس صورت میں اس کا ذیبحہ حرام نہیں ہوگا۔ حالت نسیان میں بسم اللہ ترک کرنے کی حالت نسیان میں شرائط نماز (مثلا تکبیر اور وضو وغیرہ) ترک کرنے پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ جب انسان کو یاد آجائے کہ اس نے بغیر وضو کے نماز پڑھی ہے تو اس پر اس کا تدارک نہیں ہوسکتا، اس لیے اس کا ذبیحہ درست قرار پائے گا۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ کہ اگر کسی شخص نے بھولے سے روزہ میں کچھ کھا ‘ یا پی لیا تو اس کا روزہ صحیح اور برقرار رہے گا۔ کیونکہ وہ اس کا مکلف ہے کہ وہ اپنے قصد اور ارادے سے روزہ میں کھانے پینے سے اجتناب کرے اور حالت نسیان میں بھی کھانے پینے سے اجتناب کرنا اس کی استطاعت میں نہیں ہے ‘ اسی طرح حالت نسیان میں ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنا اس کی استطاعت میں نہیں ہے۔ (احکام القرآن ج ٣ ص ٨۔ ٥‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

غلیل ‘ کمان اور دیگر آلات سے شکار کرنے کا حکم : 

جن آلات سے شکار کیا جاتا ہے ‘ ان تمام آلات کے لیے قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر جانور اس آلہ کی ضرب سے دب کر یا چوٹ کھا کر مرگیا یا گلا گھٹنے سے مرگیا تو وہ حرام ہوگیا اور اگر جانور اس آلہ سے کٹ کر یا چھد کر مرا ‘ اس کے زخم آیا اور خون بہا تو پھر وہ جانور حلال ہے اور بسم اللہ پڑھ کر ایسا آلہ پھینکنا جس سے جانور کا جسم کٹے اور خون بہے ‘ ذکاۃ اضطراری ہے۔ اختیاری ذکاہ یہ ہے کہ جانور کو پکڑ کر بسم اللہ ‘ اللہ اکبر ‘ کہتے ہوئے اس کے گلے پر اس طرح چھری پھیری کہ اس کی چاروں رگیں کٹ جائیں اور جب جانور دور بیٹھا ہو یا بھاگ رہا ہو اور اس کو پکڑ کر معروف طریقہ سے ذبح کرنا ممکن نہ ہو تو بسم اللہ پڑھ کر اس پر تیریا کوئی اور آلہ جارحہ پھینک دیا جائے جس سے زخمی ہو کر وہ جانور مرجائے تو وہ حلال ہوگا اور یہ ذکاۃ اضطراری ہے۔ اور اگر اس جانور پر لاٹھی ‘ پتھر یا کسی اور وزنی چیز کی ضرب لگائی جائے جس سے وہ دب کر مرجائے یا اس کے گلے میں کوئی پھندا ڈالا جائے جس سے وہ گلا گھٹنے سے مرجائے تو پھر یہ جانور حرام ہے۔ یہ قاعدہ کلیہ قرآن مجید کی اس آیت سے مستفاد ہے : 

(آیت) ” حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ والمنخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ وما اکل السبح الا ما ذکیتم “۔ (المائدہ : ٣) 

ترجمہ : تم پر یہ حرام کیے گئے ہیں۔ مردار ‘ خون ‘ خنزیر کا گوشت ‘ جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ‘ جس کا گلا گھونٹا گیا ہو ‘ جو کسی ضرب سے دب کر مرا ہوا ‘ اوپر سے گرا ہو ‘ سینگ مارا ہوا ہو اور جس کو درندہ نے کھایا ہو ‘ البتہ ! ان میں سے جس کو تم نے (اللہ کے نام پر) ذبح کرلیا وہ حلال ہے۔ 

اس آیت میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ ” موقوذۃ “ (جو کسی چیز کی ضرب سے دب کر اور چوٹ کھا کر مرا ہو) اور ” منخنقۃ “ (جو گلا گھٹ کر مرا ہو) حرام ہے ‘ اس لیے اگر کسی ایسے آلہ سے شکار کیا جائے جس سے دب کر جانور مرجائے یا گلا گھٹنے سے مرجائے تو پھر وہ جانور حرام ہوگا۔ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

موقوذۃ وہ جانور جو بغیر ذکاۃ کے لاٹھی یا پتھر مارنے سے مرجائے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس طرح جانور کو مار کر کھالیتے تھے۔ صحیح مسلم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے جب تم ” معراض “ کو پھینکو اور وہ جانور کے آر پار ہوجائے تو اس کو کھالو ‘ اور اگر اس کے عرض سے مرے ‘ تو پھر اس کو مت کھاؤ اور ایک روایت یہ ہے کہ وہ وقیذ (موقوذہ) ہے۔ علامہ ابو عمرو نے کہا کہ متقدمین اور متاخرین علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ بندقہ (یعنی مٹی کی خشک کی ہوئی گولی جس کو غلیل یا کمان سے پھینکا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری ‘ ج ٢١‘ ص ٩٦‘ رد المختار ‘ ج ٥‘ ص ‘ ٤١٧‘ تفسیر المنار ‘ ج ٦‘ ص ١٣٨‘ نیل الاوطار ج ١٠‘ ص ٨٤) سے شکار کیا ہوا آیا حلال ہے یا نہیں۔ 

مفتی محمد شفیع دیوبندی نے اپنی تفسیر میں علامہ قرطبی کی اس عبارت کا خلاصہ ذکر کیا ہے اور لکھا ہیں : 

” جو شکار بندوق کی گولی سے ہلاک ہوگیا اس کو بھی فقہاء نے موقوذہ میں داخل کیا ہے اور اس دلیل میں علامہ جصاص کی یہ عبارت نقل کی ہے ‘ (المقتولۃ بالبندقۃ تلک الموقوذۃ “ ) امام اعظم ‘ امام شافعی ‘ امام مالک وغیرہ سب اسی پر متفق ہیں (معارف القرآن ‘ ج ٣ ص ٢٩) عربی میں ببندوقہ “ کا معنی ہے مٹی کی خشک کی ہوئی گولی۔ جیسا کہ ہم نے بحوالہ بیان کیا ہے اور بندوق کی گولی کو عربی میں بندوقۃ الرصاص کہتے ہیں۔ نیز بندوق کی ایجاد آٹھویں صدی ہجری کے وسط میں ہوئی ہے اور امام ابوحنیفہ ١٥٠ ھ ‘ امام مالک ١٧٩ ھ ‘ امام شافعی ٢٠٤ ھ ‘ علامہ جصاص ٣٧٠ ھ اور علامہ قرطبی ٦٦٨ ھ میں فوت ہوئے۔ سو یہ ائمہ اور علماء بندوق کی گولی کے شکار کے متعلق کیسے رائے دے سکتے ہیں جو ان کے بہت بعد کی ایجاد ہے۔ مفتی محمد شفیع دیوبندی نے بندقہ کا معنی بندوق کی گولی کرنے میں بہت سخت مغالطہ کھایا ہے۔ فتاوی دارالعلوم (ج ٢‘ ص ٩٥٥) میں بھی انہوں نے یہی مغالطہ کھایا ہے۔ ١٢ منہ۔ 

اور آج کل کی متعارف بندوق کی گولی جو سیسہ کی ہوتی ہے اور اس میں بارود بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس کو عربی میں بندوقۃ الرصاص “ کہتے ہیں۔۔۔۔ سعیدی غفرلہ) پتھر اور معراض سے جس جانور کو مار دیا جائے ‘ آیا وہ حلال ہے یا نہیں ؟ بعض علماء نے یہ کہا کہ یہ موقوذہ ہے ‘ اگر یہ مرگیا تو پھر اس کا کھانا جائز نہیں ہے ؛۔ حضرت ابن عمر ‘ امام مالک ‘ امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی اور ثوری کا یہی نظریہ ہے۔ فقہاء شام اور امام اوزاعی نے یہ کہا ہے کہ معراض سے مارا ہوا جانور حلال ہے۔ خواہ وہ جانور کے آرپار گزرے یا نہیں۔ حضرت ابو الدرداء ‘ حضرت فضالہ بن عبید اور مکحول اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ‘ لیکن اس مسئلہ میں قول فیصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث ہے کہ اگر جانور معراض کے عرض سے مرے تو اس کو مت کھاؤ‘ کیونکہ وہ وقیذ ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ‘ جز ٦‘ ص ٤٨) 

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی ٥٩٣ لکھتے ہیں : 

جس جانور کو معراض کے عرض سے مارا گیا ہو ‘ اس کو کھانا جائز نہیں ہے ‘ اور اگر معراض نے اس جانور کو زخمی کردیا تو پھر اس جانور کو کھانا جائز ہے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو جانور معراض کی دھار سے مرا اس کو کھالو اور جو جانور معراض کے عرض سے مرا اس کو مت کھاؤ نیز شکار کے حلال ہونے کے لیے اس کا زخمی ہونا ضروری ہے ‘ تاکہ اس میں ذکاۃ کا معنی متحقق ہو سکے۔ جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں۔ (علامہ المرغینانی نے پہلے یہ بیان کیا ہے کہ ظاہر الروایہ کے مطابق شکار میں زخم کرنا ضروری ہے ‘ تاکہ ذکاۃ اضطراری متحقق ہو اور ذکاۃ اضطراری کی تعریف یہ ہے کہ شکاری کے آلہ استعمال کرنے کی وجہ سے شکار کے بدن کے کسی حصہ میں بھی زخم آجائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما علمتم من الجوارح “ اور تم نے زخمی کرنے والے شکاری جانور سدھائے ہیں۔ اس آیت میں شکار کو زخمی کرنے کی شرط کی طرف اشارہ ہے ‘ کیونکہ جوارح جرح سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی ہے ’ زخمی کرنے والے “ (ہدایہ اخرین ‘ ص ٥٠٣) اور جو جانور غلیل یا کمان کی گولی سے مرا ہو اس کو بھی کھانا جائز نہیں ‘ کیونکہ یہ گولی شکار کے جسم کو کو ٹتی ہے اور توڑتی ہے اور اس کو زخمی نہیں کرتی۔ سو یہ معراض کی طرح ہے جو شکار کے آرپار نہ ہو۔ اسی طرح اگر پتھر سے شکار کو مار ڈالا تو اس کو کھانا بھی جائز نہیں ہے۔ اگر پتھر بھاری اور دھار والا ہو تو اس سے مرنے والا جانور کو کھانا جائز نہیں ہے۔ خواہ وہ جانور کو زخمی کر دے ‘ کیونکہ یہ احتمال ہے کہ وہ جانور اس پتھر کے ثقل کی وجہ سے مرا ہو ‘ اور اگر وہ پتھر خفیف ہو اور اس میں دھار ہو اور جانور زخمی ہوجائے تو اس کا کھانا جائز ہے، کیونکہ اب یہ متعین ہوگیا کہ جانور کی موت زخم کی وجہ سے واقع ہوئی ہے اور اگر پتھر خفیف ہو اور وہ اس کو تیر کی طرح لمبار کرے اور اس میں دھار ہو تو اس سے کیا ہوا شکار حلال ہے۔ کیونکہ اس پتھر سے جانور زخمی ہو کر مرے گا۔ اگر شکاری نے دھار والی سنگ مر مر کر پھینکا اور اس نے جانور کو کاٹا نہیں تو وہ جانور حلال نہیں ہے۔ کیونکہ اب جانور اس کے کوٹنے سے مرا ہے اسی طرح اگر اس پتھر کے پھینکنے سے اس کا سر الگ ہوگیا یا اس کی گردن کی رگیں الگ ہوگئیں ‘ تو وہ جانور حلال نہیں ہے۔ کیونکہ جس طرح پتھر کی دھار سے رگیں کٹتی ہیں ‘ اسی طرح پتھر کے ثقل سے بھی رگیں کٹ جاتی ہیں۔ اس لیے اب شک واقع ہوگیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رگوں کے کٹنے سے پہلے وہ جانور مرگیا ہو ‘ اور اگر جانور کو لاٹھی یا لکڑی سے مار ڈالا تو وہ حلال نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ لاٹھی یا لکڑی کے ثقل سے مرا ہے۔ ہاں اگر اس لکڑی یا لاٹھی کی دھار ہو اور اس سے جانور کٹ جائے تو اب اس جانور کو کھانا جائز ہے۔ کیونکہ اب وہ لاٹھی تلوار اور نیزے کے حکم میں ہے اور ان تمام مسائل میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جب یہ یقین ہوجائے کہ شکار کی موت زخم کی وجہ سے ہوئی ہے تو شکار حلال ہے اور جب یہ یقین ہو کہ موت ثقل کی وجہ سے ہوئی ہے شکار حرام ہے اور جب یہ شکل ہو اور یہ پتا نہ چلے کہ موت زخم سے ہوئی ہے یا ثقل سے تو پھر شکار کا حرام ہونا احتیاطا ہے۔ (ہدایہ اخیرین ‘ ٥١٢۔ ٥١١‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان) 

بندوق سے مارے ہوئے شکار کی تحقیق : 

آٹھویں صدی ہجری سے پہلے دنیا بارودی بندوق سے متعارف نہیں ہوئی تھی۔ دائرۃ المعارف میں لکھا ہے دستی بندوق کا استعمال یورپ میں ١٣٦٥ ء میں شروع ہوا تھا اور مسلمان ممالک میں اس کی ابتداء سلطان قاتیبائی کے عہد میں ٨٩٥ ھ۔ ١٤٩٠ ء میں ہوئی۔ (اردو ‘ دائرہ معارف اسلامیہ ج ٣ ص ٨٨٧‘ مطبوعہ لاہور) 

بہرحال دسویں صدی کا بندوق کا استعمال عام نہیں ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بارھویں صدی سے پہلے علماء نے بندوق سے کیے ہوئے شکار کے حکم پر بحث نہیں کی۔ بارھویں صدی سے پہلے علماء نے بندوق سے کیے ہوئے شکار کے حکم پر بحث نہیں کی۔ بارھویں صدی میں علماء نے اس مسئلہ پر بحث کی اور یہ بحث ہنوز جاری ہے۔ بعض بندوق سے کیے ہوئے شکار کو اس بناء پر ناجائز کہتے ہیں کہ بندوق کی گولی سے شکار ٹوٹتا ہے ‘ کٹتا نہیں اور جانور اس کے ثقل سے مرتا ہے۔ اس لیے یہ موقوذہ ہے اور حرام ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے علماء یہ کہتے ہیں کہ بندوق کی گولی سے شکار زخمی ہوتا ہے ‘ اس کا خون بہتا ہے اور بعض اوقات گولی شکار کے آرپار ہوجاتی ہے اور ذکاۃ اضطراری کا مدار زخم لگنے اور خون بہنے پر ہے اور وہ بندوق کے شکار سے حاصل ہوجاتا ہے ‘ اس لیے بندوق سے کیا ہوا شکار جائز ہے۔ ہم پہلے مانعین کے دلائل پیش کریں گے۔ اس کے بعد مجوزین کے دلائل پیش کریں گے اور آخر میں اپنی رائے کا ذکر کریں گے۔ ” فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق “۔ 

بندوق کے شکار کو حرام کہنے والے علماء کے دلائل : 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

یہ بات واضح ہے کہ بندوق کی گولی پر یشر سے نکلنے کی بنا پر جلاتی ہے اور اس کے بوجھ کی وجہ سے زخم پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں دھار نہیں ہوتی اس بنا پر بندوق سے کیا ہوا شکار حلال نہیں ہے۔ علامہ ابن نجیم کا بھی یہی فتوی ہے۔ (ردالمختار ‘ ج ٥ ص ٤١٧‘ مطبوعہ مطبقہ عثمانیہ ‘ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ) 

مولانا امجد علی لکھتے ہیں بندوق کا شکار مرجائے یہ بھی حرام ہے کہ گولی یا چھرا آلہ جارحہ نہیں ‘ بلکہ اپنی قوت مدافعت کی وجہ سے توڑا کرتا ہے۔ (بہار شریعت ‘ ج ١٧‘ ص ٢٣‘ مطبوعہ غلام علی اینڈ سنز کراچی)

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں : 

بندوق کا شکار اگر ذبح کرنے سے پہلے مرجائے تو وہ حرام ہوجاتا ہے۔ کھانا اس کا حلال نہیں ہے۔ (فتاوی دارالعلوم دیوبند ‘ ج ٢ ص ٩٥٥‘ مطبوعہ دارالاشاعت ‘ کراچی) 

بندوق کے شکار کو حلال قرار دینے والے علماء کے دلائل :

علامہ ابو البرکات احمد بن دردیر مالکی لکھتے ہیں۔ 

بندوق کی گولی سے کیے ہوئے شکار کو کھایا جائے گا ‘ کیونکہ وہ ہتھیاروں سے زیادہ قوی ہے۔ جیسا کہ بعض فضلاء نے اس پر فتوی دیا ہے اور بعض نے اس پر اعتماد کیا ہے۔ (شرح الصغیر علی اقرب المسالک ‘ مطبوعہ دارالمعارف ‘ مصر ١٩٤٧ ء) 

علامہ صاوی مالکی متوفی ١٢٢٣ ھ لکھتے ہیں۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ بندوق کی گولی سے شکار کے متعلق متقدمین کی تصانیف میں کوئی تصریح نہیں ہے ‘ کیونکہ بارودی بندوق کی ایجاد آٹھویں صدی ہجری کے وسط میں ہوئی ہے اور متاخرین کا اس میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے غلیل کی (مٹی کی خشک) گولی پر قیاس کرکے اس کو ناجائز کہا ہے اور بعض علماء نے جائز کہا۔ چناچہ ابو عبداللہ القروی ‘ ابن غازی اور سید عبدالرحمن فاسی نے اس کو جائز کہا ہے ‘ کیونکہ بندوق کے ذریعہ خون بہایا جاتا ہے اور بہت سرعت کے ساتھ شکار کا کام تمام کردیا جاتا ہے ‘ جس کے سبب سے ذکاۃ مشروع کیا گیا ہے۔ (حاشیہ الصاوی علی الشرح الصغیر ‘ مطبوعہ مصر) 

بندوق کے شکار کے متعلق مصنف کی تحقیق اور بحث ونظر : 

قرآن مجید ‘ احادیث صحیحہ اور فقہاء احناف کے قواعد کی روشنی میں مصنف کی تحقیق یہ ہے کہ بندوق سے مارا ہوا شکار حلال ہے اور اس کا کھانا جائز ہے۔ قرآن مجید نے شکار کی حلت کا مدار شکار کو زخمی کرنا قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” قل احل لکم الطیبت وما علمتم من الجوارح مکلبین (المائدہ : ٤)

ترجمہ آپ فرما دیجئے کہ تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو تم نے زخمی کرنے والے جانور سدھا لیے ہیں ‘ 

الجوارح جارحہ کی جمع ہے اور جارحہ زخمی کرنے والے جانور کو کہتے ہیں اور شکاری جانور کا کیا ہوا شکار اسی وقت حلال ہوتا ہے جب وہ شکار کو زخمی کرے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جوارح کے کیے ہوئے شکار کو کھانے کا حکم دیا ہے اور جب مشتق پر حکم لگایا جائے تو مشتق کا ماخذ اشتقاق سے بھی چونکہ شکار زخمی ہوتا ہے ‘ اس لیے آیت شکار کے حلال ہونے کی علت اس کو زخمی کرنا ہے اور بندوق کی گولی یا اس کے چھروں سے بھی چونکہ شکار زخمی ہوتا ہے ‘ اس لیے آیت کی تصریح کے مطابق بندوق سے مارا ہوا شکار حلال ہے اور یہ موقوذ نہیں ہے ‘ کیونکہ موقوذ ہوتا ہے جو چوٹ سے مرے ‘ اس کو زخم آئے اور نہ اس سے خون بہے۔ 

احادیث صحیحہ کی روشنی میں بھی بندوق سے مارا ہوا شکار حلال ہے۔ امام مسلم ‘ حضرت عدی بن حاتم (رض) سے روایت کرتے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : 

’ؔ’ اذا رمیت بالمعراض فخرق فکلہ واذا اصابہ بعرضہ فلاتاکلہ “۔ 

ترجمہ : جب تم شکار معراض پھینکو اور معراض شکار میں نفوذ کر جائے تو اس کو کھالو اور اگر شکار معراض کے عرض سے مرے تو اس کو مت کھاؤ۔ (صحیح مسلم ‘ ج ٢‘ ص ١٤٥‘ مطبوعہ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) 

اور بندوق کی گولی اور چھرے بھی شکار میں نفوذ کر جاتے ہیں اس لیے بندوق سے مارا ہوا شکار جائز ہے۔ 

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : 

اگر یہ کہا جائے کہ یہ فخرق ( ” ر “ کے ساتھ) ہے تو اس کا معنی ہے جانور میں سوراخ کرنا ‘ (فتح الباری ‘ ج ٩‘ ص ٦٠٠‘ طبع لاہور) 

خلاصہ یہ ہے کہ یہ لفظ ” ز “ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے نفوذ کرنا اور بندوق کی گولی میں نفوذ کر جاتی ہے اور اگر یہ لفظ (ر) کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے سوارخ کرنا اور پھاڑنا اور بندوق کی گولی شکار کو پھاڑ دیتی ہے اور اس میں سوراخ کردیتی ہے۔ لہذا اس حدیث کے مطابق پر تقدیر پر بندوق سے مارا ہوا شکار حلال ہے۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے جس آلہ سے بھی جانور کا خون بہہ جائے وہ جائز ہے اور ذبیحہ اور شکار حلال ہے۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں : 

حضرت رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ ! کل ہم دشمن سے مقابلہ کریں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا جلدی کرنا۔ یا فرمایا اس کو جلدی ذبح کرنا (تاکہ وہ طبعی موت نہ مرجائے) جس چیز کا خون بہایاجائے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے گا اس کو کھالو ‘ مگر دانت اور ہڈی نہ ہوں۔ دانت کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ (اس غزوہ میں) ہم کو مال غنیمت میں بکریاں اور اونٹ ملے۔ ان میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا ‘ ایک شخص نے اس کو تیر مارا ‘ سو (اللہ نے) اس اونٹ کو روک دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان اونٹوں میں سے بعض اونٹ وحشی جانوروں کی طرح ہیں ‘ جب ان میں سے کوئی تم پر غالب آجائے تو اسی طرح کیا کرو “۔ (صحیح بخاری ‘ ج ٢‘ ص ٨٢٨‘ مطبوعہ کراچی) 

نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں : 

حضرت رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دانت اور ناخن کے سوا جو چیز بھی خون بہادے ‘ اس (کے مارے ہوئے) کو کھالو۔ (صحیح بخاری ‘ ج ٢ ص ٨٢٨‘ مطبوعہ کراچی) 

بندوق کی گولی ناخن اور ہڈی نہیں ہے اور جانور کا خون بہا دیتی ہے۔ لہذا اس حدیث کے مطابق اس کا مارا ہوا شکار حلال ہے اور اس کا کھانا جائز ہے۔ بندوق سے مارے ہوئے شکار کے حلال ہونے پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ حدیث میں ہے۔ جب جانور ” معراض “ کی دھار سے مرے تو اس کو کھالو ‘ اور جب وہ معراض کے عرض سے مرے تو وہ وقیذ ہے ‘ اس کو مت کھاؤ (صحیح مسلم ‘ ج ٢‘ ص ١٤٥‘ مطبوعہ کراچی) 

بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ بندوق کی گولی اور چھروں میں چونکہ دھار نہیں ہوتی ‘ اس لیے اس لیے بندوق سے مارا ہوا جانور وقیذ ہے اور حلال نہیں ہے۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ امام بخاری نے حضرت ابن عباس (رض) سے موقوذہ کی یہ تفسیر نقل کی ہے موقوذہ وہ جانور ہے جس کو لکڑیوں کی ضرب سے مار کر ہلاک کیا جائے۔ (صحیح بخاری ‘ ج ٢ ص ٨٢٣‘ مطبوعہ کراچی) 

اور جو جانور معراض کے عرض سے مارا جائے ‘ وہ وقیذ ہے۔ اس کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : کیونکہ اس صورت میں وہ معراض بھاری لکڑی ‘ پتھر اور بھاری چیز کے حکم میں ہے۔ (فتح الباری ‘ ج ٩‘ ص ٦٠٠‘ مطبوعہ لاہور) 

خلاصہ یہ ہے کہ موقوذہ وہ جانور ہے جس کو کسی بھاری اور وزنی چیز کی ضرب سے مار کر ہلاک کیا جائے اور بندوق کی گولی یا چھرے بھاری اور وزنی نہیں ہوتے ‘ اس لیے ان سے مارا ہوا جانور موقوذہ نہیں۔ بندوق کی گولی نوکدار ہوتی ہے ‘ اس لیے اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ البتہ بندوق کے چھروں میں نوک نہیں ہوتی لیکن چونکہ وہ گوشت کو پھاڑتے ہیں اور خون بہاتے ہیں ‘ اس لیے وہ دھار والی چیز کے حکم میں ہیں۔ اس لیے بندوق کی گولی یا چھروں سے مارا ہوا شکار حلال ہے اور اس کا کھانا جائز ہے۔ 

یہ ملحوظ رہے کہ بعض صحابہ اور فقہاء تابعین غلیل کی گولی سے مارے ہوئے شکار کو بھی جائز اور حلال کہتے ہیں۔ جبکہ غلیل کی گولی سے جانور کے زخم آتا ہے نہ خون بہتا ہے اور ہمارے نزدیک اس کی وقیذ ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود جب غلیل میں گولی سے مارے ہوئے شکار کی حرمت متفق علیہ نہیں ہے تو بندوق کی گولی یا چھروں سے مارے ہوئے شکار کو حرام کہنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟ 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ روایت کرتے ہیں : 

ابن مسیب کہتے ہیں کہ جس وحشی جانور کو تم نے پتھر ‘ غلیل کی گولی یا پتھر سے مارا ‘ اس کو کھالو۔ 

ابن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر نے کہا جب تم پتھر یا غلیل کی گولی مارو اور بسم اللہ پڑھ لو تو پھر کھالو۔ 

ابن عبینہ کہتے ہیں کہ ابن ابی لیلی کے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے غلیل کے ساتھ ایک پرندہ یا شکار مارا ‘ پھر میں نے عبدالرحمن بن ابی لیلی سے اس کے متعلق سوال کیا ‘ انہوں نے مجھے اس کو کھانے کا حکم دیا۔ 

ابن طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے معراض کے شکار کے متعلق یہ کہا۔ 

جب معراض شکار میں نفوذ کر جائے تو پھر اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ اگر تم نے ایسا تیر مارا جس میں لوہا (یا دھار) نہیں تھا اور شکار گرگیا تو اس کو کھالو (مصنف عبدالرزاق ج ٤ ص ٤٧٧‘ ٤٧٤‘ مطبوعہ بیروت) 

ان آثار سے یہ واضح ہوگیا کہ بعض صحابہ اور فقہاء تابعین غلیل کی گولی اور بغیر لوہے کے تیر سے مارے ہوئے شکار کو حلال اور جائز کہتے تھے۔ اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ غلیل کی گولی اور بغیر دھار کے تیر سے مارے ہوئے شکار کی حرمت بھی قطعی ‘ یقینی اور اتفاقی نہیں ہے۔ اور بندوق کی گولی سے مارے ہوئے شکار کو بھی اگرچہ بعض متاخرین فقہاء نے موقوذہ قرار دے کر حرام کہا ہے ‘ لیکن یہ ان کی اجتہادی خطا ہے۔ تحقیق یہ ہے کہ بندوق کی گولی سے مارا ہو شکار قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں حلال اور طیب ہے۔ 

قرآن مجید اور احادیث سے بندوق سے مارے ہوئے شکار کا حکم واضح کرنے کے بعد اب ہم فقہاء احناف کے اصول اور قواعد کی روشنی میں اس مسئلہ کو واضح کرنا چاہتے ہیں : 

علامہ شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں : 

ذکاۃ (ذبح) کا معنی ہے فاسد اور نجس خون کو بہانا اور اس کی دو قسمیں ہیں۔ ذبح اختیاری اور ذبح اضطراری۔ ذبح اختیاری یہ ہے کہ قدرت اور اختیار کے وقت حیوان کے گلے پر چھری پھیرنا اور جب گردن پر چھری پھیرنا ممکن نہ ہو تو جانور کے جسم کے کسی حصہ پر بھی ذخم ڈال دینا ‘ ذبح اضطراری ہے ‘ کیونکہ انسان اپنی قدرت کے اعتبار سے مکلف ہوتا ہے۔ سو جو صورت میں وہ حیوان کے گلے پر چھری پھیر سکتا ہو ‘ تو اس کے گلے پر چھری پھیرے بغیر ذکاۃ حاصل نہیں ہوگی اور جہاں اس پر قدرت نہ ہو ‘ وہاں جانور کے جسم میں کہیں پر بھی زخم ڈالنا ‘ اس ذکاۃ کے قائم مقام ہے۔ (المبسوط ‘ ج ١١‘ ص ٢١‘ مطبوعہ بیروت) 

لاٹھی اور پتھر سے مارے ہوئے شکار کو اسی لیے ناجائز کہا گیا ہے کہ عادتا لاٹھی اور پتھر سے اس وقت مارا جاتا ہے جب جانور قریب ہو۔ اور جب جانور قریب ہو تو اس کے گلے پر چھری پھیر کر ذبح کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے یہاں ذبح اختیاری ہے ‘ اضطراری نہیں ہے۔ اور جب جانور دور ہو اور اس کو پکڑ کر اس کے گلے پر چھری پھیرنا قدرت میں نہ ہو مثلا کسی درخت پر بیٹھا ہو یا اڑ رہا ہو، یا بھاگ رہا ہو اور بندوق سے فائر کرکے ان جانوروں کو شکار کرلیا جائے اور گولی یا چھرے لگنے سے وہ جانور زخمی ہوجائیں اور ان کے جسم سے خون بہہ جائے تو ان کا زخمی ہونا اور خون بہنا ذکاۃ اضطراری ہے۔ اور فقہاء کے اس بیان کردہ قاعدہ کے مطابق حلال ہے اور اس کا کھانا جائز ہے۔ 

نیز علامہ سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں : 

ابراہم رحمۃ اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب معراض شکار کو پھاڑ دے تو کھالو اور جب نہ پھاڑے تو نہ کھاؤ معراض اس تیر کو کہتے ہیں جس کا پیکان نہ ہو الا یہ کہ اس کا سردھار والا ہو۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ بغیر پر کا تیر ہے۔ بسا اوقات تیر عرض کی جانب سے لگتا ہے اور شکار کو پھاڑتا نہیں ‘ توڑ دیتا ہے۔ اسی کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا : کہ اگر شکار تیر کی دھار سے مرے اور زخمی ہو تو کھالو اور اگر تیر کے عرض سے مرے تو مت کھاؤ اور ہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ حلت کا مدار نجس خون کے بہنے پر ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جب معراض شکار کو پھاڑ دے اور اگر شکار کو پھاڑے بغیر توڑ دے تو خون نہ بہے گا۔ (مثلا اس ضرب سے ہڈی یا ٹانگ ٹوٹ جائے) اور یہ حکما موقوذہ ہے اور یہ نص قطعی سے حرام ہے۔ (المبسوط ‘ ج ١١ ص ٣٢٢‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ سرخسی کی اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ موقوذہ وہ جانور ہے جو کسی بھاری اور وزنی چیز سے ٹوٹ جائے (یعنی اس کی ہڈی ٹوٹ جائے) اس کے جسم میں زخم آئے اور نہ خون بہے اور اگر کوئی آلہ جانور کے جسم کو پھاڑ دے اور اس کا خون بہائے تو یہ حلال ہے اور بندوق سے مارا ہوا شکار ایسا نہیں ہوتا کہ اس میں زخم آئے نہ خون بہے۔ اس لیے وہ موقوذہ نہیں ہے ‘ بلکہ بندوق کی گولی اس کے جسم کو پھاڑ دیتی ہے۔ اس کے جسم میں سوراخ ہوجاتا ہے۔ بسا اوقات گولی آر پار ہوجاتی ہے ‘ اس کے جسم میں زخم آتا ہے اور خون بہتا ہے (یاد رہے کہ زکوۃ اضطراری میں پورے جسم سے خون بہنا ضروری نہیں ہے۔ جیسا کہ کتے کے مارے ہوئے شکار کے جسم میں بسا اوقات سارا خون نہیں بہتا) اس لیے بندوق سے مارا ہوا شکار حلال اور طیب ہے اور اس کا کھانا جائز ہے۔ 

الحمد للہ علی احسانہ قرآن مجید ‘ احادیث صحیحہ اور فقہاء اسلام کی تصریحات سے یہ واضح ہوگیا کہ بندوق سے مارا ہوا شکار حلال ہے۔ میں نے اس مسئلہ میں زیادہ تفصیل اور تحقیق اس لیے کی ہے کہ اس زمانہ میں بعض اہل علم یہ کہتے ہیں کہ بندوق سے مارا ہو اشکار موقوذہ ہونے کی بناء پر حرام ہے۔ ظاہر ہے کہ ان علماء نے نیک نیتی سے یہ فتوی دیا ہے۔ لیکن یہ علماء اس مسئلہ میں زیادہ گہرائی اور گیرائی میں نہیں گئے ‘ اور ان کو اس مسئلہ میں اجتہادی خطاء لاحق ہوئی۔ آج کل بندوق سے شکار عام ہوگیا ہے اور بکثرت لوگ اس میں مبتلا ہیں ‘ اور اگر گولی یا چھرہ لگنے سے جانور مرجائے تو اس کو اسی فتوی کی بناء پر مردار اور حرام قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ قرآن مجید ‘ احادیث اور فقہاء اسلام کی تصریحات کے مطابق یہ حلال اور طیب ہے ‘ اور اجتہادی مسائل میں میرا ذہن ہے کہ امت مسلمہ کے لیے آسان اور سہل احکام بیان کیے جائیں اور قرآن مجید ‘ احادیث اور فقہاء اسلام کے اصول اور قواعد سے امت مسلمہ کے لیے زیادہ سے زیادہ یسر اور آسانی کو حاصل کیا جائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے آسانی کرو اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو “ شرح صحیح مسلم میں میرا یہی اسلوب رہا ہے کہ اجتہادی مسائل میں قرآن ‘ سنت اور فقہاء اسلام کے قواعد میں مسلمانوں کے عمل کے لیے مجھے جہاں بھی کوئی یسر اور آسانی کی دلیل اور سبیل ملی ‘ میں نے اسی کو اختیار کرلیا اور امت کی دشواری اور عسر کی راہ کو ترک کردیا ‘ اور میں نے جب بھی کسی مسئلہ کی تحقیق کے لیے قلم اٹھایا تو قرآن مجید ‘ سنت اور فقہاء اسلام کی تصریحات کو مقدم رکھا ہے اور مشکل پسند اور فقہاء عسر کے اقوال کو ترک کردیا۔ 

بہرحال میں نے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ کو بھی نیک نیتی اور للہیت سے لکھا ہے۔ اگر یہ حق اور صواب ہے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے ہے اور اگر یہ غلط اور باطل ہے تو یہ میرے مطالعہ کا نقص اور میری فہم کی کمی ہے۔ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں۔ ” وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی محمد سید المرسلین خاتم النبین وعلی الہ و اصحابہ وزواجہ وذریاتہ واولیاء امتہ و علماء ملتہ اجمعین “۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 4