کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 3 رکوع 2 سورہ البقرہ آیت نمبر254 تا 257

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌؕ-وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۵۴)

اے ایمان والو اللہ کی راہ میں ہمارے دئیے میں سے خرچ کرو وہ دن آنے سے پہلے جس میں نہ خریدفروخت ہے نہ کافروں کے لیے دوستی اور نہ شفاعت اور کافر خود ہی ظالم ہیں (ف۵۲۲)

(ف522)

کہ انہوں نے زندگانی دنیا میں روز حاجت یعنی قیامت کے لئے کچھ نہ کیا ۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(۲۵۵)

اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۵۲۳) وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا (ف۵۲۴) اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند (ف۵۲۵)اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۵۲۶) وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے (ف۵۲۷) جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ف۵۲۸) اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے (ف۵۲۹) اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین (ف۵۳۰) اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا (ف۵۳۱)

(ف523)

اس میں اللہ تعالٰی کی الوہیت اور اس کی توحید کا بیان ہے اس آیت کو آیت الکرسی کہتے ہیں احادیث میں اس کی بہت فضیلتیں وارد ہیں۔

(ف524)

یعنی واجب الوجود اور عالم کا ایجاد کرنے اور تدبیر فرمانے والا ۔

(ف525)

کیونکہ یہ نقص ہے اور وہ نقص و عیب سے پاک۔

(ف526)

اس میں اس کی مالکیت اور نفاذ امرو تصرف کا بیان ہے اور نہایت لطیف پیرایہ میں ردّ شرک ہے کہ جب سارا جہان اس کی ملک ہے تو شریک کون ہوسکتا ہے’مشرکین یا تو کواکب کو پوجتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں یا دریاؤں پہاڑوں، پتھروں ،درختوں،جانوروں، آگ وغیرہ کو جو زمین میں ہیں جب آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی ملک ہے تو یہ کیسے پوجنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔

(ف527)

اس میں مشرکین کارد ہے جن کا گمان تھا کہ بت شفاعت کریں گے انہیں بتادیا گیا کہ کفار کے لئے شفاعت نہیں اللہ کے حضور مَأ ذُوْنِیۡن کے سوا کوئی شفاعت نہیں کرسکتااور اذن والے انبیاء و ملائکہ و مؤمنین ہیں۔

(ف528)

یعنی ماقبل و مابعد یا امور دنیا و آخرت۔

(ف529)

اور جن کو وہ مطلع فرمائے وہ انبیاء و رسل ہیں جن کو غیب پر مطلع فرمانا ان کی نبوّت کی دلیل ہے دوسری آبت میں ارشاد فرمایا” لَایُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ”(خازن)

(ف530)

اس میں اس کی عظمتِ شان کا اظہار ہے اور کرسی سے یا علم و قدرت مراد ہے یا عرش یا وہ جو عرش کے نیچے اور ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے اور ممکن ہے کہ یہ وہی ہو جو فلک البروج کے نام سے مشہور ہے۔

(ف531)

اس آیت میں الہیّات کے اعلٰی مسائل کا بیان ہے اور اس سے ثابت ہے کہ اللہ تعالٰی موجود ہے الہٰیت میں واحد ہے حیات کے ساتھ متصف ہے واجب الوجود اپنے ماسوا کا موجد ہے تحیز و حلول سے منزّہ اور تغیر اور فتور سے مبرّا ہے نہ کسی کو اس سے مشابہت نہ عوارض مخلوق کو اس تک رسائی ملک و ملکوت کا مالک اصول و فروع کا مُبدِع قوی گرفت والا جس کے حضور سوائے ماذون کے کوئی شفاعت کے لئے لب نہ ہلاسکے تمام اشیاء کاجاننے والا جلی کا بھی اور خفی کا بھی کلّی کا بھی اور جزئی کا بھی واسع الملک و القدرۃ ادراک و وہم و فہم سے برتر و بالا

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ ﳜ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ-فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىۗ-لَا انْفِصَامَ لَهَاؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۵۶)

کچھ زبردستی نہیں (ف۵۳۲) دین میں بے شک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے (ف۵۳۳) اس نے بڑی محکم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں اور اللہ سنتا جانتا ہے

(ف532)

صفات الٰہیہ کے بعد ” لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ” فرمانے میں یہ اشعار ہے کہ اب عاقل کے لئے قبول حق میں تامل کی کوئی وجہ باقی نہ رہی۔

(ف533)

اس میں اشارہ ہے کہ کافر کے لئے اول اپنے کفر سے توبہ و بیزاری ضرور ہے اس کے بعد ایمان لانا صحیح ہوتا ہے۔

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ-یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـٴُـھُمُ الطَّاغُوْتُۙ- یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۲۵۷)

اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے (ف۵۳۴) نور کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا

(ف534)

کفر و ضلالت کی ایمان و ہدایت کی روشنی اور

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.