تلاوت قرآن اور ہماری کیفیات 

تلاوت قرآن اور ہماری کیفیات 

بالخصوص ائمہ مساجد اور قرآن سمجھ کر پڑھنے سے رغبت رکھنے والوں کے لیے… 

آج کی یہ گفتگو کوئی فتویٰ نہیں ہے بلکہ قرآن سمجھنے اور غوروفکر کرنے کا ایک مشورہ ہے. 

الحمداللہ بحثیت مسلمان قرآن سے ہمارا تعلق ہے. 

مگر اس کے ساتھ ساتھ ہماری ایک بہت بڑی خامی اور کمزوری یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کو سمجھ کر نہیں پڑھتے.. 

مثال کے طور پر ایک قاری دوران تلاوت یہ پڑھتا ہے. 

سورۃ یسین میں ہے. 

وَأَمْتَازُ اليَوْمَ أَيُّهَا المُجْرِمُونَ 

اور (کہا جائے گا) اے مجرمو! آج الگ الگ ہوجاؤ۔

اس آیت کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب تلاوت کرنے والا یا سننے والا یہاں پہنچتا تو ندامت سے آنسو بہاتا استغفار کرتا. 

مگر سامع قاری قرآن سے تلاوت سن رہا ہوتا ہے اور مقام استغفار پر سبحان اللہ کی صدا بلند کر رہا ہوتا ہے… 

ہاں قرآن میں ایسا مقام بھی ہے جہاں سبحان اللہ کی صدا ہونا چاہیے…. مثلاً 

فَمَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ فَاُولٰٓئِکَ یَقۡرَءُوۡنَ کِتٰبَہُمۡ

جن کا بھی اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو شوق سے اپنا نامۂ اعمال پڑھنے لگیں گے… 

غور کیجئے قرآن کریم میں یہ مقام فکر ہے اللہ سے شکر کی توفیق مانگنا چاہیے… مگر ہم نے سبحان اللہ ہی کہنا ہے

جب پڑھتا ہے: ’’قلیل ما تشکرون‘‘۔ بہت تھوڑے لوگ ہیں جو شکر ادا کرتے ہیں.. 

اور غور کیجیے قرآن کریم میں یہ مقام ایسا ہے اللہ سے ایمان کامل مانگنے کا نافرمانی سے توبہ کرنے کا …. 

صمم بکم عمی فہم لا یرجعون؟‘‘ یہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں، پس یہ پلٹنے والے نہیں‘‘ 

اپنا واقعہ عرض کرتا ہوں… 

میری عادت تھی کئی نمازوں میں یہ چند آیات تلاوت کرتا تھا پہلی آیت کا مضمون کچھ اور ہے دوسری آیت کا مضمون کچھ اور، ایک عربی نے میری توجہ اس جانب دلائی کہ ایک رکعت میں ایک مضمون پڑھیں..

وہ آیات یہ تھیں

پہلی آیت میں مجرموں کی بات اور دوسری میں متقین کی… 

لَہُمۡ فِیۡہَا زَفِیۡرٌ وَّ ہُمۡ فِیۡہَا لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾

وہ وہاں چِلّا رہے ہونگے اور وہاں( جہنم میں ) کچھ بھی نہ سن سکیں گے ۔…… 

مگر مناسب ہوتا کہ میں یہاں سے شروع کرتا

اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتۡ لَہُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰۤی ۙ اُولٰٓئِکَ عَنۡہَا مُبۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾ۙ

البتہ بیشک جن کے لئے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے ۔ وہ سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے… 

ایک اور مثال

میں یہاں سے شروع کرتا تھا.. 

اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾

بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالٰی کے حوالے ہے پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے… 

اگر یہاں سے شروع کرتا تو مضمون ایک ہوتا…. 

مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِہَا ۚ وَ مَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجۡزٰۤی اِلَّا مِثۡلَہَا وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾

جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہو گا ۔

ایک دن علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی شیخ نور اپنے بیٹے سے فرماتے ھیں. 

” بیٹا! جب قرآن پڑھو تو یہ تصور اپنے ذہن میں لاؤ کہ جیسے یہ کلام، اللہ نے خاص تمہارے لیے بھیجا ھے، وہ براہ راست تم سے مخاطب ھے اور تمہیں بذات خود، اپنی زبان سے احکامات دے رھا ھے.

جب اس تصور کے ساتھ قرآن پڑھو گے تو پھر تمہیں اس کی لذت ملے گی”۔

اقبال کہتے ھیں کہ اس دن کے بعد قرآن کی جو لذت اور سرور مجھے ملا وہ اس سے پہلے نہ ملا تھا. اب میں قرآن کو اس طرح پڑھتا ھوں کہ جیسے اللہ پاک میرے سامنے بیٹھے ھیں اور وہ خود مجھے ھدایات دے رھے ھیں۔.. 

غور کیجئے! 

ہم اپنی ضرورت کے لئے انگریزی بھی سیکھ لیتے ہیں.. 

گاڑی چلانے کے لئے ڈرائیونگ سیکھ کر لائسنس بھی حاصل کرلیتے ہیں.. 

اپنی ضرورت کے لئے کمپیوٹر کا استعمال بھی سیکھ لیتے ہیں.. 

اگر نہیں سیکھتے تو عربی نہیں سیکھتے ۔

صرف اتنی عربی کہ جس سے اللہ کے کلام کو سمجھنے کی استطاعت مل جائے….. 

چلو ٹھیک ہے نہ سیکھئے عربی دو چار آیتیں اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھنا شروع کردیجیے… 

تلاوت کرتے ہوئے اگر آدمی کا بدن ڈھیلا نہ پڑجائے، رونگٹے کھڑے نہ ہوجائیں اور آنکھیں برسنا شروع نہ کردیں تو سمجھ لیں قرآن کے پیغام کو سمجھا ہی نہیں کہ وہ اسے کیا پیغام دے رہا ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کو سمجھ کر قرآن پڑھنے کی توفیق نصیب فرمائے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے.

تحریر :۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.