درس 037: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 037: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَاحْتَجَّ بِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «الْوُضُوءُ شَطْرُ الْإِيمَانِ» ، وَالْإِيمَانُ عِبَادَةٌ فَكَذَا شَطْرُهُ، وَلِهَذَا كَانَ التَّيَمُّمُ عِبَادَةً، حَتَّى لَا يَصِحَّ بِدُونِ النِّيَّةِ، وَأَنَّهُ خَلَفٌ عَنْ الْوُضُوءِ، وَالْخَلَفُ لَا يُخَالِفُ الْأَصْلَ.

امام شافعی کی دلیل نبی کریمﷺ کا یہ ارشادِ پاک ہے "وضو نصف ایمان ہے”، اور چونکہ ایمان ایک عبادت ہے اسلئے نصف ایمان بھی عبادت ہوگا۔اوراسی بنیاد پر تیمم ایک عبادت ہے جو (تمام فقہاکے نزدیک) بغیر نیت کے درست نہیں ہے۔ اور یہ دلیل بھی ہے کہ تیمم وضو کے قائم مقام ہے اور قائم مقام اپنے اصل کے مخالف نہیں ہوتا۔

(وَأَمَّا) الْحَدِيثُ فَتَأْوِيلُهُ أَنَّهُ شَطْرُ الصَّلَاةِ لِإِجْمَاعِنَا عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ بِشَرْطِ الْإِيمَان؛ لِصِحَّةِ الْإِيمَانِ بِدُونِهِ، وَلَا شَطْرِهِ لِأَنَّ الْإِيمَانَ هُوَ التَّصْدِيقُ، وَالْوُضُوءُ لَيْسَ مِنْ التَّصْدِيقِ فِي شَيْءٍ

اور رہی بات امام شافعی کے دلائل کی توہمارے ائمہ کرام کے نزدیک وضو نصف نماز ہے، اس بنیاد پر کہ وضو نہ تو ایمان کی شرط ہے اسلئے کہ ایمان اسکے بغیر بھی درست ہے اور نہ ہی نصف ایمان ہے اسلئے کہ ایمان تو تصدیق کا نام ہے اور وضو کا کوئی حصہ بھی تصدیق سے تعلق نہیں رکھتا۔

فَكَانَ الْمُرَادُ مِنْهُ أَنَّهُ شَطْرُ الصَّلَاةِ؛ لِأَنَّ الْإِيمَانَ يُذْكَرُ عَلَى إرَادَةِ الصَّلَاةِ؛ لِأَنَّ قَبُولَهَا مِنْ لَوَازِمِ الْإِيمَانِ

قَالَ الله تَعَالَى {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ} [البقرة: 143] ، أَيْ صَلَاتَكُمْ إلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ.

تو حدیث کی مراد یہ ہے کہ وضو نصف نمازہے، دلیل یہ ہے کہ کبھی ایمان کہہ کر نماز مراد لے لی جاتی ہے اسلئے کہ نماز کی قبولیت ایمان کے لوازمات سے ہے۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کردے۔ مراد یہ ہے کہ بیت المقدس کی جانب تمہاری نمازوں کو ضائع کردے۔

وَهَكَذَا نَقُولُ فِي التَّيَمُّمِ أَنَّهُ لَيْسَ بِعِبَادَةٍ أَيْضًا

اسی طرح تیمم کے بارے میں بھی ہم یہی کہتے ہیں کہ یہ عبادت نہیں ہے ۔

إلَّا أَنَّهُ إذَا لَمْ تَتَّصِلْ بِهِ النِّيَّةُ لَا يَجُوزُ أَدَاءُ الصَّلَاةِ بِهِ لَا لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ، بَلْ لِانْعِدَامِ حُصُولِ الطَّهَارَةِ

جب تک اس سے نیت متصل نہیں ہوگی نماز ادا کرنا جائز نہیں ہوگا، اسکے عبادت ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ طہارت کا حصول نہ ہونے کی وجہ سے۔

لِأَنَّهُ طَهَارَةٌ ضَرُورِيَّةٌ جُعِلَتْ طَهَارَةً عِنْدَ مُبَاشَرَةِ فِعْلٍ لَا صِحَّةَ لَهُ بِدُونِ الطَّهَارَةِ فَإِذَا عَرِيَ عَنْ النِّيَّةِ لَمْ يَقَعْ طَهَارَةً، بِخِلَافِ الْوُضُوءِ؛ لِأَنَّهُ طَهَارَةٌ حَقِيقِيَّةٌ، فَلَا يَقِفُ عَلَى النِّيَّةِ.

اس لئے کہ تیمم طہارتِ ضروریہ ہےاور یہ طہارت ایسے عمل سے حاصل ہوتی ہے کہ اگر اس عمل کو نیت کے بغیر کیا جائے تو اس سے طہارت حاصل نہیں ہوتی، بخلاف وضو کے ، اس لئے کہ وہ طہارتِ حقیقیہ ہے، لہذا اس کے لئے نیت ضروری نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

ہم نے پچھلے درس میں بتایا تھا کہ نیت کے فرض ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے اختلاف کی بنیاد یہ تھی کہ وضو مستقل عبادت ہے یا نہیں۔۔؟ امام شافعی کے نزدیک وضو مستقل عبادت ہےلہذا ان کے نزدیک وضو فرض قرار پایا۔

علامہ کاسانی نے پہلے شوافع کے دلائل ذکر کئے، پھر احناف کے، اسکے بعد شوافع کے دلائل کا جواب دیا ہے۔

ہم نے تسلسل برقرار رکھنے کے لئے شوافع کے دلائل کے بعدامام کاسانی کے جوابات کا متن ذکر کردیا ہے تاکہ بحث ایک جگہ یکجا ہوجائے۔

امام شافعی کی دو دلیلیں ذکر کی گئی ہیں:

پہلی: حدیث شریف کے مطابق وضو نصف ایمان ہے ، چونکہ ایمان عبادت ہے لہذا نصف ایمان بھی عبادت ہوگا۔

دوسری: تمام فقہاء کے نزدیک تیمم میں نیت فرض ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ تیمم وضو کے قائم مقام ہے اور اصل وضو ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اصل میں تو نیت فرض نہ ہو اور قائم مقام یعنی تیمم میں نیت فرض ہوجائے۔۔!

*پہلی دلیل کا جواب:*

ہمارے نزدیک حدیث شریف کا مرادی معنی یہ ہے کہ وضو نصف نمازہے، اس لئے کہ وضو نہ تو ایمان کے لوازمات سے ہے کہ وضو نہ ہو تو ایمان پرفرق پڑجائے اور نہ ہی ایمان کانصف ہے اس لئے کہ ایمان تصدیق کا نام ہے اور وضو کا تعلق تصدیق سے نہیں ہے۔

ہوسکتا ہے آپ سوال کریں کہ آپ نے حدیث شریف میں وارد *ایمان* کے لفظ سے *نماز* کیسے مرادلے لی ؟

تو جوابا عرض ہے کہ کبھی ایمان کہہ کر نماز مراد لے لی جاتی ہے، اسکی نظیر قرآن مجید کی آیتِ کریمہ ہے ۔ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کردے۔ اس آیت میں ایمان سے مراد نماز ہے۔(تفسیر جلالین و خازن وغیرہما)

مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت ان فوت شدہ مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی جو بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے ۔ (تفسیر قرطبی)۔

*دوسری دلیل کا جواب:*

یہ بات ہمیں بھی تسلیم ہے کہ تیمم کے لئے نیت شرط ہے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تیمم کو ہم عبادت تسلیم کرتے ہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ تیمم ایک طہارتِ ضروریہ ہے یعنی مجبوری کی حالت میں مانی گئی ایک طہارت ہے ، ظاہر ہے عقل بھی اسے تسلیم نہیں کرتی کہ مٹی جو انسانی جسم کو آلودہ کرے وہ* مطہر* یعنی پاک کرنے والی کیسے بن سکتی ہے۔۔لہذا مٹی سے طہارت حاصل کرنے کے لئے ضروری قرار دیا گیا کہ اس سے قبل طہارت حاصل کرنے کی نیت کرلی جائے، یہ نیت اسکے عبادت ہونے کی غرض سے نہیں بلکہ اس کو مطہر بنانے کی غرض سے رکھی گئی ہے اور عبادت کی نیت کرے تو اس کا بھی ثواب ملے گا۔

رہا وضو تو اسکے لئے نیت شرط نہیں کیونکہ وضو اور غسل پانی سے ہوتا ہے اور پانی کی قدرتی صفت یہ ہے کہ وہ حدث اور نجاست کو زائل کرنے والا ہوتا ہے جیسا کہ پچھلے دروس میں اس پر تفصیلی گفتگو کی جاچکی ہے۔

ابو محمد عارفین القادری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.