قرن اول ۔ مولفات تابعین

قرن اول ۔ مولفات تابعین

۱۔ کتب امام عامر بن شرحبیل شعبی متوفی ۱۰۳ھ

۲۔ کتب حارث بن عبداللہ اعور متوفی ۶۵ھ

۳۔ کتب ابی قلابہ عبداللہ بن زید بصری متوفی ۱۰۴ھ

۴۔ کتب عبیدہ بن عمروسلمانی متوفی ۷۲ھ

۵۔ کتب عروہ بن زبیر متوفی ۹۳ھ

۶۔ کتب عکرمہ مولی ابن عباس متوفی ۱۰۵ھ

۷۔ کتب عبدالرحمن بن عائذ متوفی ۸۰ھ

۸۔ کتب ابراہیم بن مسلم متوفی ۱۳۰ ھ

۹۔ کتب ابوبکر بن محمد بن عمروبن حزم انصاری متوفی ۱۱۷ھ

۱۰۔ کتب محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن شہاب زہری متوفی ۱۲۳ھ

۱۱۔ کتب حسن بن یسار متوفی ۱۱۰ھ

۱۲۔ کتب سلیمان بن مہران اعمش متوفی ۱۴۷ھ

۱۳۔ کتب عبداللہ بن ذکوان قرشی متوفی ۱۱۵ھ

۱۴۔ کتب علاء الدین بن عبدالرحمن متوفی ۱۳۹ھ

۱۵۔ کتب قتادہ بن دعامہ سدوسی متوفی ۱۱۷ھ

۱۶۔ کتب موسی بن عقبہ متوفی ۱۴۱ھ

۱۷۔ کتب وہب بن منبہ متوفی ۱۱۴ھ

۱۸۔ کتاب رجاء بن حیاۃ متوفی ۱۲۴ھ

۱۹۔ کتاب سلیمان بن یسار

۲۰۔ کتاب امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کوفی متوفی ۱۵۰ھ

یہ کتاب الآثار کے نام سے مشہور ہے اور صاحبین یعنی امام ابی یوسف اور امام محمد کیروایت کی وجہ سے ان کی تالیف سمجھی جاتی ہے

۲۱۔ صحائف عبدالرحمن بن ہرمز متوفی ۱۱۷ھ

تابعین کے عہد میں تدوین حدیث با ضابطہ طور پر عمل میں آئی اور اس دور کی تالیفی خدمات میں امام زہری اور امام ابوبکر بن حزم کا نام نمایاںحیثیت کا حامل رہاہے ۔پھر باقاعدہ ابواب فقہیہ پر مرتب کرکے پیش کرنے والے سب سے پہلے امام اعظم ہیں جنہوں نے چالیس ہزار احادیث میں سے صحیح اور معمول بہا روایات کا انتخاب فرماکر ایک مستقل تصنیف پیش فرمائی ۔

احوال المصنفین میں ہے:۔

امام اعظم ابوحنیفہ سے پہلے حدیث نبوی کے جتنے صحیفے اور مجموعے لکھے گئے ان کی ترتیب فنی نہ تھی، بلکہ انکے جامعین نے کیف مااتفق جو حدیثیں انکو یاد تھیں انہیں قلم بند کردیا تھا ۔امام شعبی نے بیشک بعض مضامین کی حدیثیں ایک ہی باب کے تحت لکھی تھیں لیکن وہ پہلی کوشش تھی جو غالبا چند ابواب سے آگے نہ بڑھ سکی ، احادیث کو کتب وابواب پر پوری طرح مرتب کرنے کا کام ابھی باقی تھا جسکو امام اعظم ابوحنیفہ نے کتاب الآثار تصنیف کرکے نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل فرمادیا اور بعد کے ائمہ کیلئے ترتیب ومقبولیت کا ایک عمدہ نمونہ قائم کیا ۔

ممکن ہے کہ کچھ لوگ کتاب الآثار کو احادیث صحیحہ کا اولین مجموعہ بتانے پر چونکیں ، کیونکہ عام خیال یہ ہے کہ صحیح بخاری سے پہلے احادیث صحیحہ کی کوئی کتاب مدون نہیں تھی ،مگر یہ بڑی غلط فہمی ہے ،اس واسطے کہ علامہ مغلطائی کے نزدیک اس بارے میں اولیت کا شرف امام مالک کو حاصل ہے ۔ حافظ سیوطی تنویرالحوالک میں لکھتے ہیں کہ :۔

حافظ مغلطائی نے کہاہے کہ سب سے پہلے جس نے صحیح تصنیف کی وہ امام مالک ہیں ۔ اور کتاب الآثار موطا سے بھی پہلے کی ہے جس سے خودموطاکی تالیف میں استفادہ کیا گیاہے ۔

چنانچہ حافظ سیوطی تبیض الصحیفہ فی مناقب الامام ابی حنیفہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:۔

امام ابوحنیفہ کے ان خصوصی مناقب میں سے کہ جن میں وہ متفرق ہیں ایک یہ بھی ہے کہ وہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے علم شریعت کو مدون کیا اور اسکی ابواب پر ترتیب کی ،پھر امام مالک بن انس نے موطاکی ترتیب میں انہیں کی پیر وی کی ، اور اس بارے میں امام ابو حنیفہ پر کسی کو سبقت حاصل نہیں ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.