بزرگوں کی مدنی سوچ

حکایت نمبر188: بزرگوں کی مدنی سوچ

حضرت سیدنا ابو عثمان نیشاپوری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:”ایک مرتبہ ہم چند رفقاء اپنے استاد محترم حضرت سیدنا ابوحفص نیشاپوری علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ساتھ نیشاپور سے دور ایک شہر کی طرف سفر پر روانہ ہوئے۔ ایک جگہ ہم نے قیام کیا تو ہمارے استاذِ محترم ہمیں وعظ ونصیحت فرمانے لگے،ان کی مخلصانہ اورحکمت بھری باتیں سن کرہمیں دلی سکون حاصل ہوا اورنیک اعمال کی طرف ہماری رغبت بڑھ گئی، استاد محترم ہمیں نصیحت فرما رہے تھے کہ اسی دوران سامنے موجود پہاڑ سے ایک فربہ ہرنی اُتری اورہمارے استاد حضرت سیدنا ابو حفص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔ہرنی کو دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رونے لگے اوراتنا روئے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔ 

پھر جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کچھ سکون حاصل ہوااورآ پ خاموش ہوئے تو میں نے عرض کی: اے ہمارے محترم استاد! آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)ہمیں کتنا پیارا درس دے رہے تھے اورہمارے دلوں میں آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کی باتوں سے رِقّت اور سوزوگداز پیدا ہورہا تھا لیکن جب یہ ہرنی سامنے آئی تو آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)نے زاروقطار روناشروع کردیا،آخر اس ہرنی کو دیکھ کر رونے میں کیا حکمت ہے؟” 

یہ سن کرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” ہاں!میں تمہیں بتاتاہوں کہ میں کیوں رو یا۔بات دراصل یہ ہے کہ ہم سب مسافر ہیں اورہمارے پاس زادِ راہ بھی وافر مقدار میں نہیں۔ جب میں تمہیں درس دے رہا تھا تو اچانک میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اے کاش! میرے پا س کوئی بکری ہوتی جسے ذبح کر کے میں تمہاری دعوت کرتا۔ ابھی یہ خیال میرے دل میں آیا ہی تھا کہ فورا ً میرے سامنے یہ ہرنی آگئی۔ 

اسے دیکھ کر میرے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اللہ عزوجل مجھے میرے نیک اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے رہا ہواور کہیں میرا ربّ عزوجل مجھ سے ناراض تو نہیں ؟کیونکہ جس سے اللہ عزوجل ناراض ہوتاہے اسے دنیا ہی میں اس کے اچھے عمل کا بدلہ دے دیتاہے جیسا کہ فرعون اللہ عزوجل کا دشمن تھا لیکن جب اس نے اللہ عزوجل سے دعا کی کہ دریائے نیل جاری ہوجائے تو اللہ عزوجل نے اس کی دعا قبول کرلی اوردریائے نیل جاری فرمادیا حالانکہ وہ اللہ عزوجل کا دشمن تھا لیکن پھر بھی اس کی خواہش دنیا میں پوری کردی گئی،آخرت میں ایسے لوگوں کا کوئی حصہ نہیں۔ مجھے بھی یہ خوف ہونے لگا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ مجھے میرے نیک اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دیا جارہا ہو اورآخرت میں میرے لئے کچھ بھی نہ بچے اورمیں وہاں مفلس رہ جاؤں،بس اسی خیال نے مجھے رُلادیا۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.