اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس قانونِ حیات میں زندگی گزارنے کے مکمل اصول اور طریقے ہیں، اسلامی ضابطۂ حیات اور نظامِ معاشرت کا منشا یہ ہے کہ اسلام کے پیروکار اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے کردار و عمل کی درستگی کریں، خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں، اپنی معاشرت کو پاکیزہ اور صالح بنائیں۔ بایں سبب اسلام اپنے ماننے والوں کو ان تمام افعال قبیحہ و مذمومہ سے روکتا ہے جو معاشرتی امن و امان، چین و سکون کو غارت کرنے والے ہوں، اسلام جھوٹ، غیبت، چغلی، مکر و فریب، خیانت جیسے افعال قبیحہ کے مرتکبین کو سخت وعیدیں سناتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں جہاں انگنت برائیاں پائی جاتی ہیں وہیں ایک دوسرے کی غیبت و عیب جوئی بھی جڑ پکڑتی جا رہی ہے۔ غیبت کے متعلق اللہ عزوجل کا فرمانِ پاک ہے ’’ولا یغتب بعضکم بعضا ایحب احدکم ان یأکل لحم اخیہ میتا فکرہتموہ و اتقوا اللہ ان اللہ تواب رحیم‘‘ ترجمہ: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارہ نہ ہوگا۔ اللہ سے ڈرو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (کنزالایمان، پ:۲۶،ع۱۳)

غیبت کی تعریف

غیبت کی تعریف خود زبانِ رسالت نے بیان فرمائی ہے، ایک دن حضور اکرم نبیٔ رحمتﷺ نے دریافت فرمایا کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا ’’اللہ و رسولہ اعلم‘‘ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ذکرک اخاک بما یکرہ‘‘ اپنے بھائی کے ان عیبوں کا ذکر کرنا جس کا ذکر کرنا وہ ناپسند کرتا ہو۔ کسی نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ علیک الصلوٰۃ و السلام افرایت فی اخی ما اقول‘‘ اگر چہ میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جس کا میں ذکر کروں؟ (کیا یہ بھی غیبت ہے؟) فرمایا ’’ان کان فیہ ما تقول فقد اغتبتہ‘‘ اگر تمہارے بھائی میں وہ عیب ہے تب ہی تو تم نے اس کی غیبت کی ’’و ان لم یکن فیہ فقد بہتہ‘‘ اگر اس میں وہ عیب نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔

حدیث پاک سے غیبت کی تعریف واضح ہو گئی کہ کسی کی عدمِ موجودگی میں کسی کا ایسا عیب بیان کرنا یا اس کے متعلق ایسی بات کہنا غیبت ہے جسے وہ سنے تو اس کی دل آزاری ہو اور کہنے والے سے اس کے دل میں نفرت ہو اور اگر واقعی اس میں وہ عیب موجود نہیں تو اس کا اس کی طرف منسوب کرنا بہتان ہے، تہمت ہے جو بجائے خود ایک بڑا گناہ ہے۔ چنانچہ حضرت معاذ بن انس راوی ہیں کہ رسول گرامی وقارﷺ نے فرمایا جو کسی مسلمان کو بدنام و بے آبرو کرنے کے لئے اس پر کوئی تہمت لگائے تو ’’حبسہ اللہ علی جسر جہنم حتی یخرج مما قال‘‘ اللہ تعالیٰ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا یہاں تک کہ وہ (سزا پوری ہونے کے بعد) اپنی کہی ہوئی بات سے بری ہو کر نکلے گا۔ یعنی کسی کی طرف کوئی ایسا عیب یا بری بات منسوب کرنا جس سے اس کا تعلق نہ ہو نہایت ہی برا اور گناہ کا کام ہے۔

ذرا حدیثِ پاک کے الفاظ پر غور کریں کہ نبیٔ مکرم ﷺ نے ’’من رمیٰ مسلما‘‘ فرمایا۔ رَمْیٌ کے معنی تیر پھیکنا یا پتھر مارنا، اسی لئے جمرات پر سنگساری کو رَمی کہا جاتا ہے۔ آقائے دو عالم ﷺ نے یہ لفظ استعمال فرما کر بتا دیا کہ بہتان در حقیقت کسی کی عزت و آبرو کو سنگسار کرنے کے مترادف ہے۔ اس سے اندازہ کر لو یہ عمل کس قدر برا ور گھناونا ہے۔

غیبت زنا سے بھی بدتر

حضرت ابو سعید و جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم نورِ مجسم ﷺ نے فرمایا ’’اَلْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا‘‘ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت چیز ہے۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ غیبت زنا سے سخت کیوں ہے؟ پیارے آقاﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ان الرجل لیزنی فیتوب فیتوب اللہ علیہ‘‘ اگر کوئی زنا کرتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ’’و ان صاحب الغیبۃ لا یغفر حتی یغفرہا لہٗ صاحبہٗ‘‘ اور غیبت کرنے والے کی بخشش نہیں ہوتی تا آں کہ وہ معاف نہ کر دے جس کی اس نے غیبت کی ہے۔ (رواہ البیہقی بی شعب الایمان)

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں شبِ معراج میں ایسی قوم پر گزرا جو اپنے چہرے اور سینے چھیلتے تھے میں نے کہا یہ کون ہیں؟ بلبلِ سدرہ نے عرض کیا یہ وہ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے اور ان کی عزت و آبرو پر حملہ کرتے تھے۔ (روح البیان)

غیبت کی سزا پر غور کیجئے کہ غیبت کرنے والے اپنے ہاتھوں اپنے ہی چہرے اور سینے چھیلتے ہوں گے یہ اس لئے کہ دنیا میں کسی کی غیبت کر کے اسے رسوا کئے ہوں گے اور ان کی دل آزاری کی ہو گی اس لئے ان کے لئے ایسی سزا تجویز کی گئی۔

غیبت کی بدبو

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہم حضور سید عالم ارواحنا فداہ ﷺ کی خدمت با برکت میں حاضر تھے، اچانک ایک بدبو اٹھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو یہ بدبو کیا ہے؟ پھر خود ہی ارشاد فرمایا یہ ان کی بد بو ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے چوں کہ حضور ﷺ کے عہدِ مبارک میں غیبت کم کی جاتی تھی اس لئے اس کی بد بو آتی تھی مگر اب غیبت اتنی عام ہو گئی کہ مشام اس کی بدبو کے عادی ہو گئے ہیں کہ وہ اسے محسوس ہی نہیں کر سکتے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص چمڑے رنگنے والے کے گھر میں داخل ہو تو وہ اس کی بد بو سے ایک لمحہ بھی نہیں ٹھہر سکے گا مگر وہ لوگ وہیں کھاتے پیتے اور سوتے ہیں اور انہیں بو محسوس ہی نہیں ہوتی کیوں کہ ان کے مشام اس قسم کی بو کے عادی ہو چکے ہیں اور یہی حال اب اس غیبت کی بد بو کا ہے۔ (مکاشفۃ القلوب)

اللہ اکبر! وہ دور کتنا پاکیزہ تھا، کتنا صالح معاشرہ تھا کہ غیبت کی بدبو اہلِ ایمان کو محسوس ہوتی تھی۔ لیکن آج ہمیں محسوس نہیں ہوتی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے عیوب نظر نہیں آتے اور ہمارے معاشرے کی فضا، گلی، کوچے، بازار غیبت کی بدبو سے بھرے پڑے ہیں یہ وہ ناسور ہے جس نے معاشرے کے امن و امان، چین و سکون کو غارت کر رکھا ہے۔

مردار گدھے کا گوشت

حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب سنگسار کیا گیا تو دو شخص آپس میں گفتگو کرنے لگے ایک نے دوسرے سے کہا اسے تو دیکھو! اللہ رب العزت نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تھی (کہ کوئی گواہ نہیں تھا) مگر اس کے نفس نے نہ چھوڑا، کتے کی طرح رجم کیا گیا۔ نبیٔ کریمﷺ نے ان دونوں کی باتوں کو سن کر سکوت فرمایا، کچھ دور چلتے رہے راستے میں مرا ہوا گدھا ملا جو پاوں پھیلائے ہوئے تھا، پیارے آقاﷺ نے ان سے فرمایا جائو اس مردار گدھے کا گوشت کھائو، انہوں نے عرض کیا یا نبی اللہﷺ اسے کون کھائے گا؟ ارشاد فرمایا: جو تم نے اپنے بھائی کی آبرو ریزی کی وہ اس مردار گدھے کے کھانے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے وہ (ماعز اسلمی) اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہے ہیں۔ (ابودائود، بحوالۂ برکاتِ شریعت)

غیبت کی قدرے تفصیل

مدنی تاجدارﷺ کے نزدیک ہر وہ بات غیبت میں داخل ہے کہ سننے والا سن لیتا تو اس کو بری لگتی، جیسا کہ ام المؤمنین محبوبۂ محبوبِ رب العالمین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبیٔ اکرمﷺ سے کہا صفیہ کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ ایسی ہیں (یعنی پست قد) اس پر حضورﷺ نے فرمایا تم نے ایسا کلمہ کہا ہے کہ اگر سمندر میں ملا دیا جائے تو اس پر بھی غالب آجائے۔

حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ کسی پست قد کو ناٹا، ٹھگنا اور بونا کہنا بھی غیبت میں داخل ہے جب کہ بلا ضرورت ہو اور ضرورت یہ ہو کہ ایک ہی نام کے کئی افراد ہوں تو شناخت کے طور پر کہہ سکتے ہیں مگر عام حالت میں ایسا کہنا جائز نہیں، یوں ہی کسی کی آنکھ میں خرابی ہو تو اس کو کانا، اور پائوں لنگ ہو تو لنگڑا کہتے ہیں یہ بھی غیبت ہے اور ظاہر کرنے کی ضرورت ہو تو یوں کہنا مناسب ہے کہ فلاں شخص جس کی آنکھ میں کچھ خرابی ہے یا جس کا پائوں کچھ خراب ہے۔ (عامۂ کتب فقہ)

بدن کی غیبت یہ ہے کہ مثلا کہا جائے یہ کتنا لمبا تڑنگا ہے، کالا دھواں ہے، بلی کی آنکھ والا ہے۔

اخلاق کی غیبت یہ ہے کہ مثلاً کوئی اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں یوں کہے یہ بد خو ہے، متکبر ہے، زبان دراز ہے، بزدل ہے، نکما ہے وغیرہ۔

لباس کی غیبت یہ ہے کہ مثلاً یوں کہے کھلے چولے فقیروں والا رکھتا ہے، بڑے بھڑکیلے لباس پہنتا ہے۔

الحاصل! ہر وہ بات غیبت میں داخل ہے کہ اگر سننے والا سن لیتا تو وہ اسے بری لگتی۔

کن لوگوں کی غیبت جائز ہے؟

طبرانی نے حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’لیس للفاسق غیبۃ‘‘ فاسق و فاجر کے غیبت بیان کرنا غیبت نہیں۔ اسی طرح مظلوم کا حاکم کے سامنے کسی ظالم کے ظالمانہ عیوب بیان کرنا تاکہ اس کی داد رسی ہو سکے، مفتی سے فتویٰ طلب کرنے کے لئے کسی کے عیوب پیش کرنا۔ مگر اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ نام نہ لے بلکہ یوں کہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کے ساتھ یہ کیا بلکہ زید و عمرو سے تعبیر کرے جیسا کہ اس زمانہ میں استفتاء کی یہی صورت ہے۔

پھر بھی اگر نام لے لیا جائے جب بھی جائز ہے اس میں قباحت نہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو فتنہ و فساد سے بچانے کے لئے کسی کا عیب ظاہر کرنا اور جو شخص علی الاعلان فسق و فجور اور طرح طرح سے جرائم و معاصی کا مرتکب ہو مثلاً چور، ڈاکو، خائن، زناکار وغیرہ ایسے لوگوں کے عیوب بیان کر دینا بایں مقصد کہ لوگ نقصان سے محفوظ رہیں یہ اور ان جیسی باتیں جن سے مقصود اصلاح معاشرہ ہو تو غیبت نہیں۔

(ملخصاً بہارِ شریعت)

غیبت سے توبہ اور اس کا کفارہ

اے دینِ اسلام کے مقدس شہزادو اور شہزادیو! اگر خدا نخواستہ آپ نے کسی گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے تو فوراً اس سے توبہ کر لیں، طریقۂ توبہ یہ ہے کہ اس گناہ کو ترک کرنے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزمِ مصمم کریں اور اپنے گناہوں پر نادم و شرمندہ ہوں اور شرع شریف نے جن گناہوں کا کفارہ مقرر کیا ہے ان کا کفارہ ادا کریں۔ غیبت اکثر فقہائے کرام کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے کہ کلامِ رب ذوالجلال میں اس کی واضح ممانعت موجود ہے اور محبوب رب العالمین ا نے اس کی شدید مذمت فرمائی ہے لہٰذا اگر غیبت تنہائی میں کی ہے تو تنہائی میںتوبہ کریں اور اگر کسی محفل میں کی ہے تو جن لوگوں کی موجودگی میں یہ بھیانک ججرم سرزد ہوا تھا انہیں کی موجودگی میں اس پر اظہارِ ندامت کریں اور اور انہیں گواہ بنا کر توبہ کریں۔ نیز اگر اس کی خبر اس شخص تک پہنچ چکی ہے جس کی غیبت ہوئی تھی تو اس سے معافی کے خواستگار ہوں کہ اس صورت میں جب تک وہ معاف نہیں کرے گا اللہ عزو جل بھی ہماری توبہ قبول نہیں فرمائے گا کہ حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک کہ اہلِ حقوق کی طرف سے معافی نہ ہو جائے۔

جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے کہ حبیب کبریا ا نے فرمایا اللہ اس بندے پر رحم فرمائے جس پر اس کے بھائی کی عزت یا مال کا کوئی حق تھا تو وہ حق والے کے پاس آیا اور اس سے حق معاف کرا لیا قبل اس کے کہ اس کی گرفت وہاں ہوتی جہاں نہ کوئی دینار ہوگا نہ درہم اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو وہ حقدار کو دے دی جائیں گی او اگر نیکیاں نہ ہوں گی تو اس پر حقدار کے گناہ ڈال دئے جائیں گے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے اس کے لئے استغفار کرے اور یوں کہے ’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَ لَہٗ‘‘ الٰہی ہمیں اور اسے بخش دے۔

ربِ قدیر ہم سب کو اپنی بارگاہ میں سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الامین علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم