کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 3 رکوع 4 سورہ البقرہ آیت نمبر261 تا 266

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱)

ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۵۴۷) اُس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں (ف۵۴۸) ہر بال میں سو دانے (ف۵۴۹) اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے

(ف547)

خواہ خرچ کرنا واجب ہو یا نفل تمام ابواب خیر کو عام ہے خواہ کسی طالب علم کو کتاب خرید کر دی جائے یا کوئی شِفا خانہ بنادیا جائے یا اموات کے ایصال ثواب کے لئے تیجہ دسویں بیسویں چالیسویں کے طریقہ پر مساکین کو کھانا کھلایا جائے۔

(ف548)

اگانے والاحقیقت میں اللہ ہی ہےدانہ کی طرف اس کی نسبت مجازی ہے

مسئلہ:اس سے معلوم ہوا کہ اسناد مجازی جائز ہے جب کہ اسناد کرنے والا غیر خدا کو مستقل فی التصرف اعتقاد نہ کرتا ہو اسی لئے یہ کہنا جائز ہے کہ یہ دوانافع ہے ،یہ مضر ہے ،یہ در دکی دافع ہے ،ماں باپ نے پالا عالم نے گمراہی سے بچایا بزرگوں نے حاجت روائی کی وغیرہ سب میں اسناد مجازی اور مسلمان کے اعتقاد میں فاعل حقیقی صرف اللہ تعالٰی ہے باقی سب وسائل۔

(ف549)

تو ایک دانہ کے سات سو دانے ہوگئے اسی طرح راہِ خدا میں خرچ کرنے سے سات سو گناہ اجر ہوجاتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲)

وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۵۵۰) پھر دیے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں (ف۵۵۱) ان کا نیگ (اجروثواب)ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم

(ف550)

شانِ نزول :یہ آیت حضرت عثمان غنی و حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کے حق میں نازل ہوئی حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر لشکر اسلام کے لئے ایک ہزار اونٹ مع سامان پیش کئے اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے چار ہزار درہم صدقہ کے بارگاہ رسالت میں حاضر کئے اور عرض کیا کہ میرے پاس کل آٹھ ہزار درہم تھے نصف میں نے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے ر کھ لئے اور نصف راہِ خدا میں حاضر ہیں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو تم نے دیئے اور جو تم نے رکھے اللہ تعالٰی دونوں میں برکت فرمائے۔

(ف551)

احسان رکھنا تو یہ کہ دینے کے بعد دوسروں کے سامنے اظہار کریں کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کئے اور اس کو مکدّر کریں اور تکلیف دینا یہ کہ اس کو عار دلائیں کہ تونادار تھا مفلِس تھا مجبور تھا نکمّا تھا ہم نے تیری خبر گیری کی یا اور طرح دباؤ دیں یہ ممنوع فرمایا گیا۔

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًىؕ-وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ(۲۶۳)

اچھی بات کہنا اور درگزر کرنا (ف۵۵۲)اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستاناہو (ف۵۵۳) اور اللہ بے پرواہ حلم والا ہے

(ف552)

یعنی اگر سائل کو کچھ نہ دیا جائے تو اس سے اچھی بات کہنا اور خوش خلقی کے ساتھ جواب دینا جو اس کو ناگوار نہ گزرے اور اگر وہ سوال میں اصرار کرے یا زبان درازی کرے تو اس سے در گزر کرنا۔

(ف553)

عار دلا کر یا احسان جتا کر یا اور کوئی تکلیف پہنچا کر ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًاؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(۲۶۴)

اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر (ف۵۵۴) اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا (ف۵۵۵) اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا

(ف554)

یعنی جس طرح منافق کو رضائے الٰہی مقصود نہیں ہوتی وہ اپنا مال ریا کاری کے لئے خرچ کرکے ضائع کردیتا ہے اس طرح تم احسان جتا کر اور ایذا دے کر اپنے صدقات کا اجر ضائع نہ کرو۔

(ف555)

یہ منافق ریا کار کے عمل کی مثال ہے کہ جس طرح پتھر پر مٹی نظر آتی ہے لیکن بارش سے وہ سب دور ہو جاتی ہے خالی پتھر رہ جاتا ہے یہی حال منافق کے عمل کا ہے کہ دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ عمل ہے اور روز قیامت وہ تمام عمل باطل ہوں گے کیونکہ رضائے الٰہی کے لئے نہ تھے۔

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِۚ-فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۶۵)

اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو (ف۵۵۶) اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ (ریتلی زمین)پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینہ اُسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے (ف۵۵۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے(ف۵۵۸)

(ف556)

راہ خدا میں خرچ کرنے پر۔

(ف557)

یہ مومن مخلص کے اعمال کی ایک مثال ہے کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمین کا باغ ہر حا ل میں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ ایسے ہی بااخلاص مؤمن کا صدقہ اور انفاق خواہ کم ہو یا زیادہ اللہ تعالٰی اس کو بڑھاتا ہے۔

(ف558)

اور تمہاری نیت و اخلا ص کو جانتا ہے ۔

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ-لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِۙ- وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُﳚ -فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠(۲۶۶)

کیا تم میں کوئی اسے پسند رکھے گا (ف۵۵۹) کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا(ف۵۶۰) جس کے نیچے ندیاں بہتیں اس کے لیے اس میں ہر قسم کے پھلوں سے ہے (ف۵۶۱) اور اسے بڑھاپا آیا (ف۵۲۶)اور اس کے ناتواں بچے ہیں (ف۵۶۳) تو آیا اس پر ایک بگولا (انتہائی تیز ہواکا چکر)جس میں آگ تھی تو جل گیا (ف۵۶۴) ایسا ہی بیان کرتا ہے اللہ تم سے اپنی آیتیں کہ کہیں تم دھیان لگاؤ (ف۵۶۵)

(ف559)

یعنی کوئی پسند نہ کرے گا کیونکہ یہ بات کسی عاقل کے گوارا کرنے کے قابل نہیں ہے۔

(ف560)

اگرچہ اس باغ میں بھی قسم قسم کے درخت ہوں مگر کھجور اور انگور کا ذکر اس لئے کیا کہ یہ نفیس میوے ہیں۔

(ف561)

یعنی وہ باغ فرحت انگیز و دلکشا بھی ہے اور نافع اور عمدہ جائیداد بھی ۔

(ف562)

جو حاجت کا وقت ہوتا ہے اور آدمی کسب ومعاش کے قابل نہیں رہتا۔

(ف563)

جو کمانے کے قابل نہیں اور ان کی پرورش کی حاجت ہے غرض وقت نہایت شدت حاجت کا ہے اور دارومدار صرف باغ پر اور باغ بھی نہایت عمدہ ہے۔

(ف564)

وہ باغ تو اس وقت اس کے رنج و غم اور حسرت ویاس کی کیا انتہا ہے یہی حال اس کا ہے جس نے اعمال حسنہ تو کئے ہوں مگر رضائے الٰہی کے لئے نہیں بلکہ ریا کی غرض سے اور وہ اس گمان میں ہو کہ میرے پاس نیکیوں کا ذخیرہ ہے مگر جب شدتِ حاجت کا وقت یعنی قیامت کا دن آئے تو اللہ تعالٰی ان اعمال کو نامقبول کردے اور اس وقت اس کو کتنا رنج اور کتنی حسرت ہوگی ایک رو ز حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے صحابۂ کرام سے فرمایا کہ آپ کے علم میں یہ آیت کس باب میں نازل ہوئی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ یہ مثال ہے ایک دولت مند شخص کے لئے جو نیک عمل کرتا ہو پھر شیطان کے اغواء سے گمراہ ہو کر اپنی تمام نیکیوں کو ضائع کردے۔(مدارک و خازن)

(ف565)

اور سمجھو کہ دنیا فانی اور عاقبت آنی ہے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.