بغیر وضو تلاوت

حدیث نمبر :436

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم پاخانہ سے آتے تو ہمیں قرآن پڑھاتے اورہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے ۱؎ جنابت کے سواحضورکو قرآن سے کوئی چیز نہ روکتی تھی ۲؎(ابوداؤد،نسائی)ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی۔

شرح

۱؎ یعنی پاخانہ سے تشریف لاکر بغیروضوکئے اور ہاتھ دھوئے کلی کئے قران کی تلاوت بھی فرمالیتے اور کھانا بھی کھالیتے۔معلوم ہوا کہ بغیر وضو تلاوت بھی جائزہے اورکھانا پینابھی درست،اگرچہ مستحب یہ ہے کہ ہاتھ دھو کرکھایا جائے۔یہ عمل شریف بیان جواز کے لئے ہے۔

۲؎ یعنی حدث اکبرہی تلاوت قرآن سے مانع ہے۔حدث اصغریعنی بغیر وضو قرآن چھونا ممنوع ہے،تلاوت جائز ہے۔خیال رہے کہ جنبی کو تلاوت قرآن ممنوع ہے لیکن قرآنی دعائیں بہ نیت دعا پڑھ سکتے ہیں۔اس کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھو۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.