فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّيۡثَاقَهُمۡ لَعَنّٰهُمۡ وَجَعَلۡنَا قُلُوۡبَهُمۡ قٰسِيَةً‌ ۚ يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ‌ۙ وَنَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوۡا بِهٖۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنۡهُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاصۡفَحۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 13

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّيۡثَاقَهُمۡ لَعَنّٰهُمۡ وَجَعَلۡنَا قُلُوۡبَهُمۡ قٰسِيَةً‌ ۚ يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ‌ۙ وَنَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوۡا بِهٖۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنۡهُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاصۡفَحۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

تو ان کے عہدتوڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ہم نے ان کے دلوں کو بہت سخت کردیا ‘ وہ (اللہ کے) کلام کو اس کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جس کے ساتھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کے بڑے حصے کو انہوں نے بھلا دیا اور آپ ان کو خیانت پر ہمیشہ مطلع ہوتے رہیں گے ماسوا چند لوگوں کے ‘ آپ ان کو معاف کیجئے اور درگزر کیجئے ‘ بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو ہم نے ان کے عہدتوڑنے کی وجہ سے ان پر لعنت کی اور ہم نے ان کے دلوں کو بہت سخت کردیا ‘۔ (المائدہ : ١٣) 

اس آیت میں یہود کے عہد توڑنے کا ذکر فرمایا ہے ‘ ان کے عہد توڑنے کی دو تفسیریں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بعض نبیوں کی تکذیب کرتے تھے اور ان کو قتل کرتے تھے۔ اور دوسری یہ کہ وہ ‘ تورات میں مذکور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات کو چھپاتے تھے۔ 

اللہ تعالیٰ کے لعنت کرنے کی بھی کئی تفسیریں ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ دوسری یہ کہ ان کو مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنادیا ‘ اور تیسری یہ کہ ان پر جزیہ مقرر کردیا ‘ نیز فرمایا ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے دلوں کو ایسا کردیا کہ وہ دلائل دیکھنے کے باوجود حق کو قبول نہیں کریں گے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ اللہ کے کلام کو اس کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔ (المائدہ : ١٣) 

تورات کی تحریف میں علماء کے نظریات :

یہود نے تورات میں جو تحریف کی ہے ‘ اس کے متعلق کئی اقوال ہیں : 

(١) یہود تورات کی آیتوں میں ردوبدل کردیتے ہیں اور اپنی طرف سے عبارات بنا کر آیات میں شامل کردیتے ہیں۔ جیسا کہ اس آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے۔ حسب ذیل آیت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ 

(آیت) ” فویل للذین یکتبون الکتب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللہ “۔ (البقرہ : ٧٩) 

ترجمہ : ان لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے جو اللہ کتاب میں (اپنی طرف سے) لکھیں ‘ پھر کہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ 

(٢) تحریف کے متعلق دوسراقول یہ ہے کہ وہ تورات کی آیتوں کی اپنی طرف سے باطل تاویل کرتے تھے۔ امام رازی کا یہی مختار ہے۔ وہ لفظی تحریف کے قائل نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو کتاب تواتر سے منقول ہو ‘ اس میں لفظی تغیر نہیں ہوسکتا۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٣‘ ص ٣٨٣) 

(٣) تیسرا قول یہ ہے کہ تورات کی جن آیات میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات ہیں ‘ وہ ان کو چھپالیتے تھے۔ (جامع البیان ‘ ج ٦‘ ص ٢١٢‘ مطبوعہ بیروت) 

ڈاکٹر وھبہ زحیلی لکھتے ہیں : 

تاریخ میں یہ معروف ہے اور یہود و نصاری نے خود اس کا اعتراف کیا ہے کہ جو تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی اور جس کی حفاظت کا انہوں نے حکم دیا تھا ‘ اس کا صرف ایک نسخہ تھا ‘۔ اور یہودونصاری کے مورخین کا اس پر اتفاق ہے کہ جب اہل بابل نے یہودیوں کو قید کیا اور ان میں لوٹ مار کی اس وقت وہ نسخہ گم ہوگیا اور ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی نسخہ نہیں تھا۔ اور جب اہل بابل نے ان کے ھیکل کو جلا دیا ‘ تو وہ اس نسخہ کو محفوظ نہ رکھ سکے۔ 

اور وہ پانچ سورتیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب ہیں جن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حیات اور وفات کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کے بعد کوئی ان جیسا نہیں ہوگا ‘ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کا کافی عرصہ گزر جانے کے بعد ‘ بلکہ کئی صدیاں گزر جانے کے بعد لکھی گئی ہیں۔ ان کو عذرا کاہن نے لکھا تھا ‘ جو بنو اسرائیل کے قید ہونے والے بوڑھوں میں سے بچ گیا تھا۔ اسی طرح نصاری کا اس پر اتفاق ہے کہ انجیل بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کافی زمانہ بعد لکھی گئی تھی۔ (التفسیر المنیر ‘ ج ٦ ص ١٢٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ) 

ہماری رائے یہ ہے کہ تورات اور انجیل کلیۃ ساقط الاعتبار نہیں ہیں۔ موجودہ تورات اور انجیل خواہ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے بعد لکھی گئی ہوں ‘ لیکن ان میں بہر حال اصل تورات اور انجیل کی بہت آیا موجود ہیں اور بعد کی بنائی ہوئی آیات بھی ان میں موجود ہیں ‘ کیونکہ قرآن مجید نے ان کتابوں کا اعتبار کیا ہے اور قرآن مجید کو ان کا مصدق قرار دیا ہے۔ اور ان کتابوں کے حاملین کو اہل کتاب فرمایا ہے اور ہمارے نزدیک ان کتابوں میں ہر طرح سے تحریف کی گئی ہے۔ اصل آیات نکال کر اور اپنی طرف سے آیات بنا کر ان میں داخل کی گئی ہیں ‘ اور اصل آیات کی باطل تاویلات بھی کی گئی ہیں ‘ اور جو آیات سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات اور آپ کی آمد کی بشارت پر مشتمل تھیں ان کو چھپایا اور نکالا بھی گیا ہے۔ حدود کی آیات میں حسب منشاء تغیر بھی کیا گیا اور بعض الفاظ کو توڑ مروڑ کر بھی پڑھا گیا ہے ‘ تاکہ معنی کچھ سے کچھ ہوجائے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس کے ساتھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کے بڑے حصے کو انہوں نے بھلا دیا۔ (المائدہ : ١٣) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے تورات پر عمل کرنا چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی وساطت سے ان سے جو عہد لیا تھا ‘ کہ وہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں گے ‘ اس عہد کو انہوں نے پورا نہیں کیا۔ 

اس کے بعد فرمایا : اور آپ ان کی خیانت پر ہمیشہ مطلع ہوتے رہیں گے ماسوا چند لوگوں کے۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے مجاہد سے نقل کیا ہے۔ اس سے مراد یہود بنو نضیر ہیں ‘ جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کو اس دن قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا ‘ جب آپ عامریوں کی دیت وصول کرنے کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے مکر سے آگاہ کردیا اور آپ وہاں سے بحفاظت سلامتی کے واپس آگئے (جامع البیان ‘ ج ٦‘ ص ٢١٤‘ مطبوعہ بیروت) 

اس آیت میں فرمایا ہے ‘ ماسوا چند لوگوں کے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل کیے ‘ جیسے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب ‘ آپ ان سے خیانت کا خوف نہ کریں ‘۔ 

اس کے بعد فرمایا آپ ان کو معاف کیجئے اور درگزر کیجئے۔ بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ 

یہودیوں کے تین گروہ بنو قینقاع ‘ بنو النضیر اور بنو قریظہ کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نیک سلوک کیا۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد آپ نے ان سے صلح کی اور یہ معاہدہ کیا کہ وہ نہ خود آپ سے جنگ کریں گے اور نہ آپ کے خلاف آپ کے دشمنوں کی مدد کریں گے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مامون رہیں گے اور ان کے اموال اور ان کی جانیں محفوظ رہیں گی اور وہ مکمل آزادی کے ساتھ مدینہ میں رہیں گے ‘ یہ معاہدہ میثاق مدینہ کہلاتا تھا۔ لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہود نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خیانت کی اور کفار قریش کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ اس کے باوجود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو صرف حجاز سے جلاوطن کرنے پر اکتفاء کیا اور ان کے اس جرم پر ان کو قرار واقعی سزا نہیں دی۔ 

ایک قول یہ ہے کہ یہودیوں کو معاف کرنے اور ان سے درگزر کرنے کا حکم آیت سیف سے منسوخ ہوگیا۔ وہ آیت یہ ہے۔ 

(آیت) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “۔ (التوبہ : ٥) 

ترجمہ : تو تم مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 13

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.