وَمِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰٓى اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَهُمۡ فَنَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوۡا بِهٖ ۖ فَاَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ‌ ؕ وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 14

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰٓى اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَهُمۡ فَنَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوۡا بِهٖ ۖ فَاَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ‌ ؕ وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا جنہوں نے کہا ہم نصاری ہیں تو اس کے بڑے حصے کو انہوں نے بھلا دیا جس کے ساتھ ان کو نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض کو روز قیامت تک لازم کردیا اور عنقریب اللہ انھیں ان کاموں کی خبر دے گا جن کو وہ کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔ اور ہم نے ان لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا جنہوں نے کہا ہم نصاری ہیں تو اس کے بڑے حصے کو انہوں نے بھلا دیا جس کے ساتھ ان کو نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض کو روز قیامت تک لازم کردیا۔ (المائدہ : ١٤) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے نصاری سے بھی اس بات کا پختہ عہد لیا تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں گے اور آپ کی پیروی کریں گے اور آپ کی مدد کریں گے ‘ لیکن انہوں نے بھی یہود کی طرح اس عہد کو توڑ دیا اور انہوں نے اپنے دین کے احکام پر عمل نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی سزا یہ دی کہ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف عداوت اور بغض کو ڈال دیا ‘ اور وہ قیامت تک اسی مخالفت میں برقرار رہیں گے۔ عیسائیوں کے کئی فرقے ہیں جو ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں ‘ اور ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہیں ‘ اور عنقریب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو ان کے کاموں کی خبر دے گا ‘ جو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول پر افتراء باندھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹے کو منسوب کیا اور اس کا شریک بنایا اور آخرت میں ان کو ان کے اس شرک کی سزا دے گا۔ 

استخراج مسائل : 

(١) یہود نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو توڑا تو اللہ نے ان پر لعنت کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو توڑنے کی سزا لعنت ہے۔ 

(٢) احکام شرعیہ کی تبلیغ کے لیے بنو اسرائیل میں بارہ نقیب مقرر کیے گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خبر واحد حجت ہے۔ 

(٣) بارہ نقیبوں کو جبابرہ کے احوال کی تفتیش کے لیے شام بھیجا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دشمن کے علاقہ میں جاسوس بھیجنا جائز ہے۔ 

(٤) اللہ کے سب رسولوں پر ایمان لانا ‘ نماز پڑھنا ‘ زکوۃ ادا کرنا اور نفلی صدقات دینا گناہوں کی مغفرت اور دخول جنت کا سبب ہے۔ 

(٥) یہود اور نصاری نے اپنی کتابوں میں لفظی اور معنوی تحریف کردی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 14

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.