پانی تو ناپاک نہیں ہوتا

الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :434

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے لگن میں غسل کیا ۱؎ حضور نے ا س سے وضو کرنا چاہا انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ میں ناپاک تھی۔فرمایا پانی تو ۱؎ ناپاک نہیں ہوتا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)دارمی نے اس کی مثل۔اور شرح سنہ میں انہیں سے وہ حضرت میمونہ سے راوی مصابیح کے الفاظ سے۔

شرح

۱؎ وہ بیوی حضرت میمونہ تھیں۔اور لگن میں غسل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس سے پانی لے کر غسل کیا نہ کہ اس میں بیٹھ کر یعنی بقیہ پانی حضرت میمونہ کا فضالہ تھا غسالہ نہ تھا۔

۲؎یعنی عورت کے فضالے سے مرد وضو وغسل کرسکتا ہے۔خیال رہے کہ تیسری فصل میں اس سے ممانعت بھی آرہی ہے مگر وہ ممانعت بیان کراہت کے لئے ہے اور یہ حدیث بیان جوا زکے لیے یعنی عورت کے فضالے سے مرد کا وضو یا غسل کرنا بہتر نہیں لیکن اگر کرے تو جائز ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.