کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 3 رکوع 5 سورہ البقرہ آیت نمبر267 تا 273

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۪-وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ(۲۶۷)

اے ایمان والو اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ دو (ف۵۶۶) اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا (ف۵۶۷) اور خاص ناقص کا ارادہ نہ کرو کہ دو تو اس میں سے (ف۵۶۸) اور تمہیں ملے تو نہ لو گے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو اور جان رکھو کہ اللہ بے پرواہ سراہا گیا ہے

(ف566)

مسئلہ : اس سے کسب کی اباحت اور اموال تجارت میں زکوٰۃ ثابت ہوتی ہے۔ (خازن و مدارک) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت صدقہ نافلہ و فرضیہ دونوں کو عام ہو (تفسیر احمدی)

(ف567)

خواہ وہ غلے ہوں یا پھل یا معادن وغیرہ۔

(ف568)

شانِ نزول بعض لوگ خراب مال صدقہ میں دیتے تھے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی

مسئلہ: مصدِّق یعنی صدقہ وصول کرنے والے کو چاہیئے کہ وہ متوسط مال لے نہ بالکل خراب نہ سب سے اعلٰی۔

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِۚ-وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًاؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ(۲۶۸)

شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے (ف۵۶۹) محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بے حیائی کا (ف۵۷۰) اور اللہ تم سے وعدہ فرماتا ہے بخشش اور فضل کا (ف۵۷۱) اور اللہ وسعت والا علم والا ہے

(ف569)

کہ اگر خرچ کرو گے صدقہ دو گے تو نادارہوجاؤ گے۔

(ف570)

یعنی بخل کا اور زکوۃ و صدقہ نہ دینے کا اس آیت میں یہ لطیفہ ہے کہ شیطان کسی طرح بخل کی خوبی ذہن نشین نہیں کرسکتا اسلئے وہ یہی کرتا ہے کہ خرچ کرنے سے ناداری کا اندیشہ دلا کر روکے آج کل جو لوگ خیرات کو روکنے پر مصر ہیں وہ بھی اسی حیلہ سے کام لیتے ہیں۔

(ف571)

صدقہ دینے پر اور خرچ کرنے پر۔

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًاؕ-وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۶۹)

اللہ حکمت دیتا ہے (ف۵۷۲) جسے چاہے اور جسے حکمت مِلی اُسے بہت بھلائی ملی اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے

(ف572)

حکمت سے یا قرآن و حدیث و فقہ کا علم مراد ہے یا تقویٰ یا نبوّت (مدارک و خازن)

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗؕ-وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ(۲۷۰)

اور تم جو خرچ کرو (ف۵۷۳) یا منت مانو (ف۵۷۴) اللہ کو اس کی خبر ہے (ف۵۷۵) اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

(ف573)

نیکی میں خواہ بدی میں۔

(ف574)

طاعت کی یا گناہ کی نذر عرف میں ہدیہ اور پیش کش کو کہتے ہیں اور شرع میں نذر عبادت اور قربتِ مقصودہ ہے اسی لئے اگر کسی نے گناہ کرنے کی نذر کی تو وہ صحیح نہیں ہوئی نذر خاص اللہ تعالٰی کے لئے ہوتی ہے اور یہ جائز ہے کہ اللہ کے لئے نذر کرے اور کسی ولی کے آستانہ کے فقراء کو نذر کے صرف کا محل مقرر کرے مثلاً کسی نے یہ کہا یارب میں نے نذر مانی کہ اگر تو میرا فلاں مقصد پورا کردے کہ فلاں بیمار کو تندرست کردے تو میں فلاں ولی کے آستانہ کے فقراء کو کھانا کھلاؤں یا وہاں کے خدام کو روپیہ پیسہ دوں یا ان کی مسجد کے لئے تیل یا بوریا حاضر کروں تو یہ نذر جائز ہے۔(ردالمحتار)

(ف575)

وہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَۚ-وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْؕ-وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۲۷۱)

اگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لیے سب سے بہتر ہے(ف ۵۷۶) اورا س میں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے

(ف576)

صدقہ خواہ فرض ہو یا نفل جب اخلاص سے اللہ کے لئے دیا جائے اور ریا سے پاک ہو تو خواہ ظاہر کرکے دیں یا چھپا کر دونوں بہتر ہیں ۔

مسئلہ: لیکن صدقہ فرض کا ظاہر کرکے دینا افضل ہے اور نفل کا چھپا کر

مسئلہ : اور اگر نفل صدقہ دینے والا دوسروں کو خیرات کی ترغیب دینے کے لئے ظاہر کرکے دے تو یہ اظہار بھی افضل ہے(مدارک)

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْؕ-وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِؕ-وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ(۲۷۲)

انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں (ف۵۷۷) ہاں اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے (ف۵۷۸) اور تمہیں خرچ کرنا مناسب نہیں مگر اللہ کی مرضی چاہنے کے لیے اور جو مال دو تمہیں پورا ملے گا اور نقصان نہ دیے جاؤ گے

(ف577)

آپ بشیر و نذیر و داعی بنا کر بھیجے گئے ہیں آپ کا فرض دعوت پر تمام ہوجاتا ہے اس سے زیادہ جہد آپ پر لازم نہیں۔

شانِ نزول: قبل اسلام مسلمانوں کی یہود سے رشتہ داریاں تھیں اس وجہ سے وہ ان کے ساتھ سلوک کیا کرتے تھے مسلمان ہونے کے بعد انہیں یہود کے ساتھ سلوک کرنا ناگوار ہونے لگا۔ اور انہوں نے اس لئے ہاتھ روکنا چاہا کہ ان کے اس طرز عمل سے یہود اسلام کی طرف مائل ہوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

(ف578)

تو دوسروں پر اس کا احسان نہ جتاؤ۔

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ٘-یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِۚ-تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْۚ-لَا یَسْــٴَـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًاؕ-وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠(۲۷۳)

ان فقیروں کے لیے جو راہ خدا میں روکے گئے (ف۵۷۹) زمین میں چل نہیں سکتے (ف۵۸۰) نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب (ف۵۸۱) تو انہیں ان کی صورت سے پہچان لے گا (ف۵۸۲) لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑگڑانا پڑے اور تم جو خیرات کرو اللہ اسے جانتا ہے

(ف579)

یعنی صدقات مذکورہ جو آیۂ ” وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ ” میں ذکر ہوئے ان کا بہترین مصرف وہ فقراء ہیں جنہوں نے اپنے نفوس کو جہاد و طاعت الٰہی پر رو کا

شانِ نزول: یہ آیت اہل صفّہ کے حق میں نازل ہوئی ان حضرات کی تعداد چار سو کے قریب تھی یہ ہجرت کرکے مدینہ طیّبہ حاضر ہوئے تھے نہ یہاں ان کا مکان تھا نہ قبیلہ کنبہ نہ ان حضرات نے شادی کی تھی ان کے تمام اوقات عبادت میں صرف ہوتے تھے رات میں قرآن کریم سیکھنا دن میں جہاد کے کام میں رہنا آیت میں ان کے بعض اوصاف کا بیان ہے۔

(ف580)

کیونکہ انہیں دینی کاموں سے اتنی فرصت نہیں کہ وہ چل پھر کر کسب معاش کرسکیں

(ف581)

یعنی چونکہ وہ کسی سے سوال نہیں کرتے اس لئے ناواقف لوگ انہیں مالدار خیال کرتے ہیں۔

(ف582)

کہ مزاج میں تواضع و انکسا رہے ،چہروں پر ضعف کے آثار ہیں، بھوک سے رنگ زرد پڑ گئے ہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.