حدیث نمبر :438

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ان گھروں کو مسجدسے پھیردو ۱؎ کیونکہ میں حائضہ اورجنبی کے لیئے مسجد کو حلال نہیں کرتا۲؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ اولًابعض صحابہ کے گھر کے درازے مسجد نبوی شریف میں تھے جن کی وجہ سے گھروں میں آنا جانا مسجد کے راستے سے ہوتا تھا۔حکم دیا کہ ان گھروں کے دروازے اورطرف نکالو یہ موجودہ دروازے بندکردو۔

۲؎ یعنی اگر دروازے مسجد میں رہے تو جنبی،حائضہ،نفساء مسجد سے گزریں گے حالانکہ انہیں مسجد میں بیٹھنا بھی حرام ہے۔یہ ہی امام اعظم کا مذہب ہے۔امام شافعی وغیرہم کے ہاں مسجد سے گزرنا جائز ہے،وہاں ٹھہرنا حرام ہے۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔قرآن کریم میں جو ارشاد ہوا”وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ”وہاں”عابری سبیل”سے مراد مسافر ہے،یعنی جنابت کی حالت میں بغیرغسل نماز کے قریب نہ جاؤ ہاں اگرمسافرہو اورپانی نہ پاؤ تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو وہاں مسجد سے گزرنا مراد نہیں،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ اﷲ تعالٰی نے حضورکو مالک احکام بنایا ہے فرماتے ہیں میں حلال نہیں کرتا۔معلوم ہوا کہ حلال وحرام حضورکرتے ہیں(صلی اللہ علیہ وسلم)۔