شفاء دینے والاہاتھ

حکایت نمبر190: شفاء دینے والاہاتھ

حضرت سیدنا ابوبکر حری علیہ رحمۃ اللہ القو ی فرماتے ہیں،میں نے حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں تقریباً بیس سال تک ساحلوں، جنگلوں ، پہاڑوں اورصحراؤں میں صرف اس لئے گھومتا رہا کہ شاید اللہ عزوجل کے کسی ولی سے ملاقات ہوجائے اور میں اس کی صحبتِ بابرکت سے فیض حاصل کروں، ایک دن اسی مقصدکے تحت میں ایک جنگل میں گیا۔ وہاں مجھے ایک غار نظر آیا ۔میں اس غار میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں ایک لُنجا، دو اندھے اوربہت سے کوڑھ کے مریض موجود تھے، میں نے ان سے پوچھا: ”تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو اوراس ویران جنگل میں اس وقت تم کس لئے جمع ہوئے ہو؟تو انہوں نے جواب دیا: ”ہم اللہ عزوجل کے ایک ولی کا انتظار کر رہے ہیں ،جس کی شان یہ ہے کہ وہ جس بیمارپر اپنا مبارک ہاتھ رکھ دیتا ہے اس کی سب بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔آج وہ یہاں آ ئے گا، ہم اس کے انتظار میں یہاں جمع ہیں ۔ ”

حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں،میں نے دل میں کہا:”ان شاء اللہ عزوجل آج میری مراد پوری ہو جائے گی اورآج میں کسی ولی ئ کامل کی زیارت سے ضرورمشرف ہوں گا۔”چنانچہ میں بھی ان مریضوں کے ساتھ بیٹھ گیا اوراس

ولی کامل کاانتظار کرنے لگا ، انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اورایک نہایت کمزور ونحیف شخص اُون کا جُبہ زیب تن کئے ہماری طرف آیا، اس نے آتے ہی سلام کیا اوربیٹھ گیاپھر اندھے شخص کو اپنے پاس بلایا۔اس کی آنکھوں کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ اندھا فوراً اکھیارا ہوگیا۔ 

پھر اس مردِ صالح نے اپنے دستِ مبارک سے لنُجے شخص کی طرف اشارہ کیا،وہ بھی فوراً درست ہوگیاپھر کوڑھ کے مریضوں کو بلایا اوران کی طرف بھی اپنا ہاتھ بڑھا کر اشارہ کیا توسب کے سب کوڑھ پن سے نجات پاگئے اوربالکل تندرست ہو گئے،جب وہاں موجود تمام مریضوں کو اپنے اپنے مرض سے شفامل گئی تو وہ نیک شخص اٹھا اور جانے لگا۔ 

حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:”جب میں نے اسے جاتے دیکھا تومیں فوراً اٹھاا وران کا دامن تھام لیا۔” وہ کہنے لگا:” اے سری علیہ رحمۃ اللہ القوی !تو میری طرف راغب نہ ہو، بے شک اللہ عزوجل غیّور ہے ۔ اللہ کی بارگاہ میں تیرا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے لیکن اس نے تیرا راز پوشیدہ رکھاہوا ہے۔ اگر تو اسے چھوڑ کر کسی اورکی طرف راغب ہوگا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی بارگاہ میں تیری قدرومنزلت کم ہوجائے۔ بس اس ایک ذات پر کامل بھروسہ رکھ اوراسی کی طرف ہر دم متوجہ رہ۔” 

کوہِ لکام کا عارف:

ماقبل میں مذکور حکایت اس طرح بھی منقول ہے :حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:”میں اللہ عزوجل سے چالیس سال تک یہ دعا کرتا رہا کہ وہ مجھے اپنا کوئی کامل ولی دکھا دے، اے کاش ! میں اس کے سچے عاشق کی ایک جھلک دیکھ لوں، ایک مرتبہ میں ”لکام ”کی پہاڑیوں میں تھا، وہاں ایک جگہ میں نے بہت سے مریضوں کو جمع دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا:” تم لوگ یہاں کیوں جمع ہو ؟” انہوں نے کہا: ”مہینے میں ایک مرتبہ یہاں اللہ عزوجل کا ایک نیک بندہ آتا ہے، وہ ہم جیسے مریضوں کے لئے دعا کرتاہے، اس کی دعا کی برکت سے مریض فوراً تندرست ہوجاتے ہیں، آج ان کے آنے کا دن ہے، بس وہ آنے والا ہی ہوگا، ابھی ہم یہ باتیں کرہی رہے تھے کہ ایک نورانی چہرے والا شخص ہماری طرف آیا، پھر اس نے کچھ پڑھا اورسب مریضوں پر دم کیا۔ فوراً سارے مریض تندرست ہوگئے پھر وہ مردِصالح وہاں سے اٹھا اور واپس جانے لگاتو میں بھی اس کے پیچھے ہولیاا ورعرض کی: ”اے اللہ عزوجل کے بندے! کچھ دیر کے لئے ٹھہر جاؤ، میں تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتاہوں ۔” 

وہ نیک بندہ میری طرف متوجہ ہوا اورکہنے لگا:” اے سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی! اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اورکی طرف متوجہ نہ ہو، ہر وقت اسی کی یاد میں مگن رہ، کسی اورکی طرف التفات ہی نہ کر، ورنہ خطرہ ہے کہ کہیں تو اس کی بارگاہ میں غیر مقبول نہ ہوجائے۔ لہٰذا اس کے علاوہ کسی اورکی طرف متوجہ نہ ہو، اتنا کہنے کے بعد اللہ عزوجل کا وہ نیک بندہ جس سمت سے آیا تھا اسی طرف چلا گیا۔ 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.