يَّهۡدِىۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ بِاِذۡنِهٖ وَيَهۡدِيۡهِمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 16

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَّهۡدِىۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ بِاِذۡنِهٖ وَيَهۡدِيۡهِمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

اللہ اس کے ذریعہ سلامتی کے راستوں پر ان لوگوں کو چلاتا ہے جو اس کی رضا کی پیروی کرتے ہیں اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور ان کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ اس کے ذریعہ سلامتی کے راستوں پر ان لوگوں کو چلاتا ہے جو اس کی رضا کی پیروی کرتے ہیں اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور ان کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (المائدہ : ١٦) 

قرآن مجید کے فوائد اور مقاصد :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ ان لوگوں کو سلامتی کے راستہ پر چلاتا ہے جن کا مقصد محض دین کی پیروی کے لیے اللہ کے پسندیدہ دین پر عمل کرنا ہو اور جو بغیر غور وفکر کے صرف اپنے باپ دادا کے طریقہ پر چلنا چاہتے ہوں ‘ وہ اللہ کی رضا کے طالب نہیں ہیں۔ 

اللہ عزوجل کی رضا کا معنی کیا ہے ؟ اس میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے کہا اللہ کی رضا کا معنی یہ ہے کہ وہ کسی عمل کو قبول کرلے اور اس کی مدح وثناء فرمائے۔ بعض علماء نے کہا اللہ جس کے ایمان کو قبول کرے اور اس کے باطن کو پاکیزہ کرے ‘ وہ اس سے راضی ہے اور بعض نے کہا اللہ جس پر ناراض نہ ہو ‘ وہ اس سے راضی ہے۔ 

سلامتی کے راستوں سے مراد وہ راستے ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیے ہیں اور جن پر چلنے کی بندوں کو دعوت دی ہے اور جن راستوں کی اس کے رسولوں نے پیروی کی ہے اور اس کا مصداق دین اسلام ہے۔ اللہ اسلام کے سوا اور کسی طریقہ کو قبول نہیں کرے گا۔ نہ یہودیت کو نہ عیسائیت کو اور نہ مجوسیت کو۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ سلامتی کے رستوں سے مراد سلامتی کے رستوں کا گھر ہے اور وہ جنت ہے۔ اس تقدیر پر معنی یہ ہوگا کہ اللہ اس کتاب کے ذریعہ جنت کے راستوں پر ان لوگوں کو چلاتا ہے جو اس کی رضا کی پیروی کرتے ہیں۔ 

اللہ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کو کفر کے اندھیروں سے نکال کر نور ایمان کی طرف لاتا ہے۔ کفر کے اندھیرے اس لیے فرمایا کہ جس طرح انسان اندھیرے میں حیران اور پریشان ہوجاتا ہے ‘ اسی طرح کافر بھی اپنے کفر میں حیران ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ‘ وہ اپنے اذن سے اندھیروں سے نکالتا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے وہ اپنی توفیق سے انہیں کفر کے اندھیروں سے ایمان کی روشنی میں لاتا ہے۔ پھر فرمایا : انہیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ صراط مستقیم سے مراد دین حق ہے ‘ کیونکہ دین حق واحد راستہ ہے اور اس کی تمام جہات متفق ہیں۔ اس کے برخلاف دین باطل میں متعدد جہات ہوتی ہیں اور اس کے راستہ میں کجی ہوتی ہے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین فائدے بیان فرمائے ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص اللہ کی رضا کی پیروی کرے اس کو قرآن مجید آخروی عذاب سے سلامتی اور نجات کے راستہ کی ہدایت دیتا ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ مومنوں کو کفر اور شرک کے اندھیروں سے نکال کر ایمان اور توحید کی روشنی میں لاتا ہے اور تیسرا یہ کہ وہ دین کے احکام پر عمل کرنے کے لیے صحیح اور سیدھے راستہ کی ہدایت دیتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 16

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.