تاریخ و دن و وقت معین کرکے کسی امر کا بجا لانا

ایک وہابی صاحب کہنے لگے

کہ تاریخ و دن و وقت معین کرکے.کسی.امرکا بجا لانا بدعت و.ناجائز ہے

ہم نے کہا پھر تو اپ کے نکاح کا

کارڈ یوں چھپتا ہوگا

"کسی نہ کسی دن

کسی نہ کسی وقت

کسی نہ کسی ساعت

تشریف لے آئیے گا

کسی نہ کسی دن

کسی نہ کسی وقت

مجھ چمار سے زیادہ زلیل کا نکاح ہوگا

آپکے شرکت کے متمنی

*فلاں نجدی بن فلاں نجدی”

یا پھر نماز کا اعلان یوں ھوتا ھوگا

فجر کی نماز

کسی بھی وقت طلوع فجر سے قبل ادا کی جائے گی

ظہر کی نماز

عصر سے قبل کسی نہ کسی وقت کسی نہ کسی ساعت ادا کی جائے گی

اسی طرح عصر کی نماز

ِظہر کے بعدکسی بھی لمحے کسی بھی گھڑی پڑھائی جائے گی

اور مغرب کی نماز عشاء سے پہلے کسی نا کسی. وقت کسی نا کسی گھڑی پڑھائی جاوے گی اور عشاء کا تو آپکو معلوم ہے کہ فجر سے پہلے پہلے ادا کی جاوے گی آپ جماعت کے وقت مسجد میں تشریف لے آئیں چونکہ دن تاریخ وقت مقرر کرنا بدعت ہے اس لئے ٹائم کی کوئ تخصیص نھیں

وہ وہابی تلملا.کر بولے

اس میں.عوام کے لئے سہولت ہے

ہم.نے کہا

تیجہ دسواں چالیسواں برسی شب.برات و معراج و.عید میلاد میں بھی عوام کی.سہولت

ہے

اصل میں ان نجدیوں کو ایصال ثواب گیارہویں بارہویں شب معراج شب براءت عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چڑ ہے اور کوئی بات نہیں

تبھی توان امور کو مقرر کرکے منانے کو بدعت کہتے ہیں ان خبیث شیطان پرستوں کو امت مسلمہ کی کوئی نیکی دیکھی ہی نہیں جاتی

اورجب اپنی پر ائے تو جو یہ کام مقرر کرکے کرتے ہیں وہ سب جائز کیسے ھوجاتے ہیں؟؟؟؟؟؟

آئندہ سارے نجدی اپنے باپ کے جنازے کا اعلان کس طرح کریں یہ بھی ملاحظہ ہو

حضرات ایک اعلان ضروری سماعت فرمائیں

میرا ابا مر کے مٹی ہوگیا ہے

جسکو کسی بھی وقت

کسی بھی دن

کسی بھی ساعت

کسی بھی جگہ

قبر میں ڈالا جائے گا

یاد رہے قبر میں ڈالنے سے پہلے

کسی بھی وقت

کہیں بھی

کسی بھی ساعت

مجبوراً نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی

سہولت کے لیے ابھی سے قبرستان کے گورکن سے نمبر لے لو جب ہمارا موڈ بنا ہم مردے کو قبر میں پھینک آئیں گے وہ مر کے مٹی تو ویسے ہی ہو چکا ہے

جنازے میں شریک ہوکر ثواب دارین حاصل کریں

نقاب کشائی : لئیق احمد دانش

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.