قرآن کو صرف پاک آدمی ہی چھوئے

حدیث نمبر :441

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی بکر ابن محمدابن عمرو ابن حزم سے ۱؎ کہ وہ خط جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن حزم کو لکھا۲؎ اس میں یہ تھا کہ قرآن کو صرف پاک آدمی ہی چھوئے۳؎(مالک دار قطنی)

شرح

۱؎ آپ خود،آپ کے والد اوردادا تمام تابعین میں سے ہیں،آپ مدینۂ منورہ کے بڑے عالم،متقی،تابعی ہیں۔انس بن مالک اورعروہ ابن زبیروغیرہ صحابہ سے احادیث لیں،ستر سال عمر پائی،۱۳۵ ھ؁ میں وفات ہوئی۔آپ کے دادا محمدابن عمرو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات شریف میں ۱۰ ھ ؁میں مقام نجران میں پیدا ہوئے،۵۳ سال عمر پائی،حرہ کی جنگ میں شہید ہوئے ۶۳ھ؁ میں۔

۲؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو ابن حزم انصاری کو یمن کے ایک علاقہ کا حاکم بنا کر بھیجا تب انہیں ایک فرمان نامہ لکھ کر عطا فرمایا جس میں فرائض،سنتیں،صدقات وغیرہ تحریر تھے۔اس کا یہاں ذکر ہے۔

۳؎ یعنی اس فرمان نامہ میں دوسرے احکام کے علاوہ یہ حکم بھی تھا کہ قرآن کریم صاف پاک آدمی ہی چھوئے نہ تو اسے بے وضو ہاتھ لگائے،نہ جنبی،نہ حائضہ ونفساء۔خیال رہے کہ بلاحائل قرآن چھونا ان تمام کو حرام ہے،ہاں جزداں یاکسی کپڑے کے ساتھ چھوناجائزہے جیسے کہ کتب فقہ میں مصرح ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے:”لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الْمُطَہَّرُوۡنَ

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.