وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖ يٰقَوۡمِ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۡۢـبِيَآءَ وَجَعَلَـكُمۡ مُّلُوۡكًا  ۖ وَّاٰتٰٮكُمۡ مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 20

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖ يٰقَوۡمِ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۡۢـبِيَآءَ وَجَعَلَـكُمۡ مُّلُوۡكًا  ۖ وَّاٰتٰٮكُمۡ مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور (یاد کیجئے) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم پر جو اللہ نے انعام کیا ہے اس کو یاد کرو جب اللہ نے تم میں نبیوں کو بنایا اور تم کو بادشاہ بنایا ‘ اور تم کو وہ کچھ دیا جو تمام جہانوں میں کسی کو نہیں دیا تھا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (یاد کیجئے) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم پر جو اللہ نے انعام کیا ہے اس کو یاد کرو جب اللہ نے تم میں نبیوں کو بنایا اور تم کو بادشاہ بنایا ‘ اور تم کو وہ کچھ دیا جو تمام جہانوں میں کسی کو نہیں دیا تھا۔ (المائدہ : ٢٠) 

آیات سابقہ سے مناسبت : 

اس آیت کی سابقہ آیات سے مناسبت اس طرح ہے کہ اس سے پہلے (المائدہ : ١٢ میں) فرمایا تھا اور بیشک اللہ نے بنو اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان میں سے بارہ نگران مقرر کیے۔ اس آیت میں بنو اسرائیل سے عہد اور میثاق لینے کا ذکر تھا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں اور اس کے مقابلہ میں بنواسرائیل کی سرکشی کا ذکر فرمایا ہے۔ ان کو ارض فلسطین میں داخل ہونے اور جبارین سے جہاد کرنے کا حکم دیا تھا اور انہوں نے اس حکم پر عمل کرنے سے انکار کردیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے رکوع میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور نبوت پر دلائل قائم کیے تھے اور یہ بتایا تھا کہ یہود آپ کی نبوت کو نہیں مانتے۔ اس رکوع میں دو چیزیں بیان فرمائی ہیں جو یہود کے عناد پر دلالت کرتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بکثرت نعمتوں کا انکار کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے ارض فلسطین میں داخل ہونے اور جبارین کے خلاف لڑنے سے انکار کیا۔ ان آیتوں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا مقصود ہے ‘ کہ اگر یہود عناد کے سبب آپ کی رسالت کو نہیں مانتے ‘ تو آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ عناد تو ان کی سرشت ہے ‘ یہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کرچکے ہیں۔ 

بنواسرائیل کے انبیاء کا بیان : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتنی نعمتیں انعام فرمائیں وہ قوم فرعون کی غلامی کرتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو فرعون سے نجات دی ‘ ان میں انبیاء کو مبعوث فرمایا ‘ جو وحی سے ان کے پاس اللہ کے احکام لاتے اور ان کو غیب کی خبریں دیتے تھے۔ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ نبوت کا معنی ہے وحی کے ذریعہ غیب کی خبریں بیان کرنا۔ 

اس آیت میں ایک نعمت یہ بیان فرمائی ہے ‘ جب اللہ نے تم میں نبیوں کو بنایا۔ 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت میں نبیوں سے مراد ہیں حضرت موسیٰ ‘ حضرت ہارون ‘ حضرت یوسف اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) ‘ کی تمام اولاد۔ جو ایک قول کے مطابق نبی ہیں اور ایک قول کے مطابق وہ ستر افراد جن کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے میقات کے لیے چنا تھا ‘ ابن السائب اور مقاتل نے کہا یہ نبی تھے۔ اور علامہ ماوردی نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ انبیاء ہیں جو اس کے بعد بنواسرائیل میں مبعوث کیے گئے۔ اور تحقق وقوع کے لیے ان کی بعثت کو ماضی سے تعبیر کردیا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ تم میں نبیوں کو بنایا : اس سے مراد عام ہے۔ خواہ وہ انبیاء مقدم ہوں یا موخر اور کسی امت میں اتنے انبیاء مبعوث نہیں کیے گئے ‘ جتنے انبیاء بنو اسرائیل میں مبعوث کیے گئے تھے۔ (روح المعانی ج ٦ ص ١٠٥‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

بنواسرائیل کے ملوک (بادشاہوں) کا بیان : 

اس آیت میں بنو اسرائیل پر دوسری نعمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملوک (بادشاہ) بنایا۔ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تم کو ایسا بنادیا کہ تم اپنے معاملات کے مالک تھے اور تم پر کوئی غالب نہیں تھا جبکہ اس سے پہلے تم فرعون کے مملوک اور غلام تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کر کے تم کو اس کی غلامی سے نجات دی۔ حسن بصری اور سدی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ ان میں سے ہر شخص اپنے اہل ‘ اپنی جان اور اپنے مال کا مالک تھا ‘ وہ اس اعتبار سے ملوک تھے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جب کسی شخص کے گھر میں کوئی انسان اس کی اجازت کے بغیر داخل نہ ہو سکے ‘ تو وہ مالک (بادشاہ) ہے۔ امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے پوچھا کیا ہم فقراء اور مہاجرین میں سے نہیں ہیں ؟ حضرت عبداللہ نے اس سے پوچھا کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں : پھر پوچھا کیا تمہاری رہائش کے لیے گھر ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! فرمایا : تم اغنیاء میں سے ہو۔ اس نے کہا میرا ایک خادم بھی ہے۔ فرمایا : پھر تم بادشاہوں میں سے ہو۔ حضرت ابن عباس (رض) اور مجاہد نے کہا ان کو اس لیے ملوک فرمایا کیونکہ ان پر من وسلوی نازل ہوا۔ ایک پتھر سے ان کے لیے بارہ چشمے پھوٹ پڑے ‘ اور ان پر بادل سایہ کرتا تھا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ٨٣ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

بنواسرائیل کا اپنے زمانہ میں سب سے افضل ہونا : 

نیز اس آیت کے آخر میں فرمایا : اور تم کو وہ کچھ دیا جو تمام جہانوں میں کسی کو نہیں دیا تھا۔ 

یہ حضرت موسیٰ کا اپنی قوم سے خطاب ہے ان کو جو کچھ دیا ‘ اس سے مراد من وسلوی ‘ پتھر سے پانی نکالنا اور بادل کا ان پر سایہ کرنا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے ان میں بہ کثرت انبیاء کا مبعوث ہونا مراد ہے اور اللہ کی طرف سے جو ان کے پاس نشانیاں آئیں۔ مثلا سمندر کو چیر دینا اور ان کے دشمن کو غرق کردینا وغیرہ ‘ جو نشانیاں ان کے ساتھ مخصوص تھیں۔ ان سے یہ لازم نہیں آتا ‘ کہ ان کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت سے زیادہ نعمتیں دی گئیں تھیں ‘ کیونکہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ان کے زمانہ میں ان کو سب سے زیادہ نعمتیں دی گئیں تھیں ‘ جو اس زمانہ میں اور کسی کو نہیں دی گئیں تھیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 20

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.