يٰۤـاَهۡلَ الۡـكِتٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلُـنَا يُبَيِّنُ لَـكُمۡ عَلٰى فَتۡرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا جَآءَنَا مِنۡۢ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ‌ فَقَدۡ جَآءَكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 19

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَهۡلَ الۡـكِتٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلُـنَا يُبَيِّنُ لَـكُمۡ عَلٰى فَتۡرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا جَآءَنَا مِنۡۢ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ‌ فَقَدۡ جَآءَكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

اے اہل کتاب ‘ بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا جو انقطاع رسل کی مدت کے بعد تمہارے لیے (احکام شرعیہ) بیان کرتا ہے تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا ‘ پس بیشک تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے اہل کتاب ‘ بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا جو انقطاع رسل کی مدت کے بعد تمہارے لیے (احکام شرعیہ) بیان کرتا ہے تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا ‘ پس بیشک تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (المائدہ : ١٩) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل ‘ حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت عقبہ بن وھب (رض) نے یہودیوں سے کہا : اے یہودیو ! اللہ سے ڈرو۔ بخدا تم کو یقینا معلوم ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ آپ کی بعثت سے پہلے تم ہم سے آپ کے مبعوث ہونے کا ذکر کیا کرتے تھے اور آپ کی صفات کا ذکر کیا کرتے تھے۔ وھب بن یہوذا اور رافع نے کہا ہم نے تم سے یہ نہیں کہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کوئی کتاب نازل کی اور نہ کسی رسول کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ‘ تب ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (زاد المسیر ‘ ج ١٢ ص ٣١٩‘ الدرالمنثور ‘ ج ٢‘ ص ٢٢٩) 

فترت کا لغوی اور اصطلاحی معنی : 

اس آیت میں فرمایا ہے اہل کتاب فترت کے بعد تمہارے پاس ہمارے رسول آگیا ‘ جب کسی چیز کی حدت اور تیزی ختم ہوجائے اور اس کا پہلا اثر منقطع ہوجائے تو اس کو فترت کہتے ہیں اور اصطلاح شرع میں دو نبیوں کے درمیان اس زمانہ کو فترت کہتے ہیں جس میں کوئی رسول نہ آیا ہو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی رسول نہیں آیا اس لیے یہ زمانہ فترت تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے اہل کتاب ! فترت رسل کے بعد تمہارے پاس ہمارا رسول آیا۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں حضرت عیسیٰ بن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں ‘ تمام انبیاء علاتی (باپ شریک) بھائی ہیں میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٤٤٢‘ صحیح مسلم ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٦٥‘ طبع بیروت) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں : 

یہ ایک طویل حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ حضرت سماک بن حرب (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خالد بن سنان کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا وہ نبی ہیں ‘ ان کی قوم نے ان کو ضائع کردیا۔ نیز حضرت سماک بن حرب نے کہا کہ خالد بن سنان کا بیٹا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا میرے بھتیجے مرحبا۔ امام حاکم نے یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے ‘ لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (المستدرک ‘ ج ٢‘ ص ٦٠٠۔ ٥٩٩) 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

صحیح البخاری کی اس (مذکورالصدر) حدیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد صرف ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا گیا ہے۔ اس پر یہ اعتراض ہے کہ سورة یسین میں جب تین رسولوں کا ذکر ہے جن کو بستی والوں کی طرف بھیجا گیا تھا وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے تھے اور جرجیس اور خالد بن سنان بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نبی تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے مقابلہ میں بلاتردد ضعیف ہے ‘ یا پھر اس کی تاویل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مستقل شریعت کے ساتھ کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ (فتح الباری ‘ ج ٦‘ ص ٤٨٩‘ مطبوعہ لاہور ‘ ١٤٠١ ھ) 

علامہ محمد بن خلفہ وشتانی ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ لکھتے ہیں : 

علامہ خطابی نے کہا ہے کہ یہ حدیث ان لوگوں کے قول کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے ‘ جنہوں نے یہ کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان رسل اور انبیاء ہیں اور حواریین بھی نبی تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد لوگوں کی طرف بھیجے گئے اور یہ اکثر نصاری کا قول ہے۔ میں کہتا ہوں کہ امام بخاری نے سلمان سے روایت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ہمارے نبی کے درمیان زمانہ فترت چھ سو سال ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ‘ ج ٨‘ ص ١١٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک کا زمانہ : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان زمانہ فترت چھ سو سال ہے (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٢٢٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

امام ابوالقاسم علی بن الحسن ابن العساکر متوفی ٥٧١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا حضرت آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا ان کے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ فرمایا : بیس صدیاں۔ اس نے پوچھا حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ آپ نے فرمایا دس صدیاں ! اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! رسول کتنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تین سو پندرہ۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٤ ص ‘ ٢٢٥ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان دس صدیاں ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان سترہ صدیاں ہیں۔ (تفسیر منیر ‘ ج ٦‘ ص ١٤٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١١ ھ) 

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک چھ ہزار تین سو سال کا زمانہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 19

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.