قَالُوۡا يٰمُوۡسٰٓى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ ‌ۖ وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا‌ ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 22

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا يٰمُوۡسٰٓى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ ‌ۖ وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا‌ ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ ۞

ترجمہ:

انھوں نے کہا اے موسیٰ اس سرزمین میں تو بہت بڑے بڑے جسموں والے لوگ ہیں ‘ اور ہم اس زمین میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ زمین سے نکل نہ جائیں ‘ پھر اگر وہ اس سے نکل گئے تو ہم ضرور اس میں داخل ہوں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انھوں نے کہا اے موسیٰ اس سرزمین میں تو بہت بڑے بڑے جسموں والے لوگ ہیں ‘ اور ہم اس زمین میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ زمین سے نکل نہ جائیں ‘ پھر اگر وہ اس سے نکل گئے تو ہم ضرور اس میں داخل ہوں گے۔ (المائدہ : ٢٢) 

جبارین کا بیان : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا تو انہوں نے انکار کردیا اور اس کی یہ وجہ بیان کی اس جگہ جبارین رہتے ہیں ‘ جن سے ہم لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ان کو جبارین اس لیے کہا : کہ ان کے جسم بہت بڑے بڑے تھے۔ اصل میں جبار اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے اور دوسروں کے معاملات کی اصلاح کرنے والا ہو۔ پھر اس کے استعمال میں وسعت ہوئی اور ہر اس شخص کو جبار کہا جانے لگا جو زور اور طاقت سے نفع حاصل کرے ‘ خواہ وہ اس کا حق ہو یا نہ ہو۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) نے کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جبارین کے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا۔ حضرت موسیٰ روانہ ہوئے ‘ حتی کہ اس شہر کے قریب پہنچ گئے ‘ اس شہر کا نام اریحا تھا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنو اسرائیل کے ہر قبیلہ سے ایک ایک آدمی کو چن لیا اور ان بارہ آدمیوں کو جبارین کی جاسوسی کے لیے ان کے شہر بھیجا ‘ جب وہ لوگ اس شہر میں داخل ہوئے تو انہوں نے غیر معمولی جسامت والے انسان دیکھے۔ وہ ان میں سے کسی کے باغ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے دیکھا : کہ باغ والا ‘ اپنے باغ سے پھل توڑ رہا ہے ‘ اس نے ان جاسوسوں کو دیکھ لیا۔ اس نے ان میں سے ایک ایک کو پکڑ کو اپنی آستین سے نکال کر ان کو زمین پر ڈال دیا ‘ بادشاہ نے ان سے کہا : تم نے ہماری جسامت اور طاقت کا حال دیکھ لیا ہے ‘ جاؤ جا کر اپنے سردار کو مطلع کردو۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٢٣٨۔ ٢٣٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا ‘ کہ ہم اس زمین میں داخل ہوں گے اور ان لوگوں پر غالب ہوں گے۔ پھر ان جاسوسوں نے آکر بیان کیا کہ ان جبارین کے بہت بڑے بڑے جسم ہیں اور وہ بہت زور والے ہیں ‘ ہم تو ان کی نظروں میں ٹڈوں کی طرح ہیں ‘ یہ سن کر بنواسرائیل آہ وبکا کرنے لگے۔ افسوس ! ہم یہاں آگئے، کاش ! ہم مصر ہی میں رہتے اور انہوں نے جبارین کے ساتھ لڑنے سے صاف انکار کردیا۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٢٣٩‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 22

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.