کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 3 رکوع 8 سورہ البقرہ آیت نمبر284 تا 286

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ-فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۲۸۴)

اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہرکرو جوکچھ (ف۶۱۶) تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا (ف۶۱۷) تو جسے چاہے گا بخشے گا (ف۶۱۸) اور جسے چاہے گا سزا دے گا (ف۶۱۹) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

(ف616)

بدی۔

(ف617)

انسان کے دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں ایک بطور وسوسہ کے ان سے دِل کا خالی کرنا انسان کی مقدرت میں نہیں لیکن وہ ان کو برا جانتا ہے اور عمل میں لانے کا ارادہ نہیں کرتا ان کو حدیث نفس اور وسوسہ کہتے ہیں اس پر مؤاخذہ نہیں بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ میری امت کے دلوں میں جو وسوسہ گزرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے تجاوز فرماتا ہے جب تک کہ وہ انہیں عمل میں نہ لائیں یا ان کے ساتھ کلام نہ کریں یہ وسوسے اس آیت میں داخل نہیں،دوسرے وہ خیالات جن کو انسان اپنے دل میں جگہ دیتا ہے اور ان کو عمل میں لانے کا قصد و ارادہ کرتا ہے ان پر مؤاخذہ ہو گا اور انہیں کا بیان اس آیت میں ہے مسئلہ : کُفرکا عزم کرنا کُفر ہے اور گناہ کا عزم کرکے اگر آدمی اس پر ثابت رہے اور اس کا قصد وارادہ رکھے لیکن اس گناہ کو عمل میں لانے کے اسباب اس کو بہم نہ پہنچیں اور مجبوراً وہ اس کو کر نہ سکے تو جمہور کے نزدیک اس سے مؤاخذہ کیا جائے گا شیخ ابو منصور ماتریدی اور شمس الائمہ حلوائی اسی طرف گئے ہیں اور ان کی دلیل آیہ ” اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ” اور حدیث حضرت عائشہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ بندہ جس گناہ کا قصد کرتا ہے اگر وہ عمل میں نہ آئے جب بھی اس پر عقاب کیا جاتا ہے۔ مسئلہ : اگر بندے نے کسی گناہ کا ارادہ کیا پھر اس پر نادم ہوا اور استغفار کیا تو اللہ اس کو معاف فرمائےگا۔

(ف618)

اپنے فضل سے اہلِ ایمان کو ۔

(ف619)

اپنے عدل سے۔

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵)

رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا (ف۶۲۰) اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو (ف۶۲۱) یہ کہتے ہوے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے (ف۶۲۲) اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا (ف۶۲۳) تیری معافی ہو اے رب ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے

(ف620)

زجاج نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں نماز۔ زکوۃ۔ روزے حج کی فرضیت اور طلاق ۔ ایلا ء حیض و جہاد کے احکام اور انبیاء کے واقعات بیان فرمائے تو سورت کے آخر میں یہ ذکر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مؤمنین نے اس تمام کی تصدیق فرمائی اور قرآن اور اس کے جملہ شرائع و احکام کے منزَّل مِنَ اللہ ہونے کی تصدیق کی ۔

(ف621)

یہ اصول و ضروریاتِ ایمان کے چار مرتبے ہیں۔ (۱) اللہ تعالٰی پر ایمان لانا یہ اسطرح کہ اعتقاد و تصدیق کرے کہ اللہ واحد اَحَدْ ہے اسکا کوئی شریک و نظیر نہیں اس کے تمام اسمائے حسنہ وصفاتِ عُلیاپر ایمان لائے اور یقین کرے اور مانے کہ وہ علیم اور ہر شئے پر قدیر ہے اور اس کے علم و قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔(۲) ملائکہ پر ایمان لانا یہ اس طرح پر ہے کہ یقین کرے اور مانے کہ وہ موجود ہیں معصوم ہیں پاک ہیں اللہ تعالٰی کے اور اس کے رسولوں کے درمیان احکام و پیام کے وسائط ہیں۔(۳) اللہ کی کتابوں پر ایمان لانا اس طرح کہ جو کتابیں اللہ تعالٰی نے نازل فرمائیں اور اپنے رسولوں کے پاس بطریق وحی بھیجیں بے شک و شبہہ سب حق و صدق اور اللہ کی طرف سے ہیں اور قرآن کریم تغییر تبدیل تحریف سے محفوظ ہے اور محکم ومتشابہ پر مشتمل ہے۔(۴) رسولوں پر ایمان لانا اسطرح پر کہ ایمان لائے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں جنہیں اُسنے اپنے بندوں کی طرف بھیجا اسکی وحی کے امین ہیں گناہوں سے پاک معصوم ہیں ساری خلق سے افضل ہیں ان میں بعض حضرات بعض سے افضل ہیں۔

(ف622)

جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کیا کہ بعض پر ایمان لائے بعض کا انکار کیا۔

(ف623)

تیرے حکم و ارشاد کو

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠(۲۸۶)

اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی (ف۶۲۴)اے رب ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں (ف۶۲۵) یا چوکیں اے رب ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا اے رب ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار(طاقت) نہ ہو اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مِہر(رحم) کر تو ہمارا مولیٰ ہے تو کافروں پر ہمیں مدد دے

(ف624)

یعنی ہر جان کو عمل نیک کا اجرو ثواب اور عمل بد کا عذاب و عقاب ہوگا اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے مؤمن بندوں کو طریقِ دُعا کی تلقین فرمائی کہ وہ اس طرح اپنے پروردگار سے عرض کریں۔

(ف625)

اور سہو سے تیرے کسی حکم کی تعمیل میں قاصر رہیں ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.