درس 038: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 038: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَلَنَا) قَوْله تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} [المائدة: 6]

أَمْرٌ بِالْغَسْلِ، وَالْمَسْحِ مُطْلَقًا عَنْ شَرْطِ النِّيَّةِ، وَلَا يَجُوزُ تَقْيِيدُ الْمُطْلَقِ إلَّا بِدَلِيلٍ.

اور ہماری دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے” اے ایمان والو! جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اپنے چہروں کو دھولو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھولو اور اپنے سروں کا مسح کرو اوراپنے پیروں کو ٹخنوں سمیت دھولو۔

اللہ تعالی نے دھونے اور مسح کرنے کا مطلقا (بغیر کسی قید کے)حکم دیا ہے اور نیت کی شرط نہیں لگائی، لہذا مطلق کو بغیر دلیل کے مقید کرنا جائز نہیں ہے۔

وقَوْله تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلا جُنُبًا إِلا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا} [النساء: 43]

نَهَى الْجُنُبَ عَنْ قُرْبَانِ الصَّلَاةِ إذَا لَمْ يَكُنْ عَابِرَ سَبِيلٍ إلَى غَايَةِ الِاغْتِسَالِ مُطْلَقًا عَنْ شَرْطِ النِّيَّةِ، فَيَقْتَضِي انْتِهَاءَ حُكْمِ النَّهْي عِنْدَ الِاغْتِسَالِ الْمُطْلَقِ

وَعِنْدَهُ لَا يَنْتَهِي إلَّا عِنْدَ اغْتِسَالٍ مَقْرُونٍ بِالنِّيَّةِ، وَهَذَا خِلَافُ الْكِتَابِ

اسی طرح اللہ تعالی کا یہ ارشاد: اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک سمجھنے نہ لگو وہ بات جو تم کہو اورنہ ناپاکی کی حالت میں (نماز کے قریب جاؤ) حتی کہ تم غسل کرلو سوائے اس کے کہ تم حالتِ سفر میں ہو (تو تم تیمم کرلو)۔

اللہ تعالی نے جنبی (ناپاک شخص) کو منع فرمایا ہے کہ وہ نمازکے قریب نہ جائے جبکہ وہ حالتِ سفر میں نہ ہو، اس میں بغیر نیت کے مطلقا غسل کا حکم ہے۔ تو آیتِ کریمہ کا تقاضا یہ ہے کہ ممانعت کا حکم اس وقت ختم ہوجائے جب وہ مطلقا غسل کرلے (یعنی نیت ہو یا نہ ہو)۔

اور امام شافعی کے نزدیک مطلقا غسل کرنے سے حکمِ ربانی پر عمل نہیں ہوگا جب تک وہ نیت نہ کرلے، اور یہ موقف حکمِ قرآنی کے خلاف جاتا ہے۔

وَلِأَنَّ الْأَمْرَ بِالْوُضُوءِ لِحُصُولِ الطَّهَارَةِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى فِي آخِرِ آيَةِ الْوُضُوءِ {وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ} [المائدة: 6] ، وَحُصُولُ الطَّهَارَةِ لَا يَقِفُ عَلَى النِّيَّةِ بَلْ عَلَى اسْتِعْمَالِ الْمُطَهِّرِ فِي مَحَلٍّ قَابِلٍ لِلطَّهَارَةِ

نیز وضو کا حکم طہارت کے حصول کی وجہ سے دیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی آیتِ وضو کے آخر میں ارشاد فرماتاہے: اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک و صاف کردے۔

اور طہارت کا حصول نیت پر موقوف نہیں ہوتا بلکہ پاک کرنے والی چیز (مطہر) کو ایسی جگہ استعمال کرنے سے ہوتا ہے جو پاک ہونے کے قابل ہو۔

وَالْمَاءُ مُطَهِّرٌ لِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «خُلِقَ الْمَاءُ طَهُورًا لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ إلَّا مَا غَيَّرَ طَعْمَهُ، أَوْ رِيحَهُ، أَوْ لَوْنَهُ».وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا} [الفرقان: 48] وَالطَّهُورُ اسْمٌ لِلطَّاهِرِ فِي نَفْسِهِ الْمُطَهِّرُ لِغَيْرِهِ، وَالْمَحَلُّ قَابِلٌ عَلَى مَا عُرِفَ

اور پانی مطہر یعنی پاک کرنے والا ہے، اس لئے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: پانی کو پاک کرنے والا پیدا کیا گیا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر یہ کہ اس کا ذائقہ، بو اور رنگ تبدیل ہوجائے۔ اور اللہ تعالی نے فرمایا: اورہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔

*طہور* ایسی شے کو کہتے ہیں جو خود بھی پاک ہو، دوسری شے کو پاک کرنے والی ہو اور وہ شے بھی پاک ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو جیسا کہ معلوم ہے۔

وَبِهِ تَبَيَّنَ أَنَّ الطَّهَارَةَ عَمَلُ الْمَاءِ خِلْقَةً، وَفِعْلُ اللِّسَانِ فَضْلٌ فِي الْبَابِ

اور یہی سے واضح ہوگیا کہ پانی کا استعمال فطری طور پر طہارت کاسبب ہے، اور زبان کا فعل اس باب میں ایک اضافی چیز ہے۔

حَتَّى لَوْ سَالَ عَلَيْهِ الْمَطَرُ أَجْزَأَهُ عَنْ الْوُضُوءِ وَالْغَسْلِ فَلَا يُشْتَرَطُ لَهُمَا النِّيَّةُ

حتی کہ اگر کسی پر بارش برس جائے تو یہ عمل وضو اور غسل کے لئے کفایت کرجائے گا اور ان دونوں کے لئے نیت شرط نہیں ہوگی۔

إذْ اشْتِرَاطُهَا لِاعْتِبَارِ الْفِعْلِ الِاخْتِيَارِيِّ

اس لئے کہ نیت کی شرط فعلِ اختیاری میں معتبر ہوتی ہے۔

وَبِهِ تَبَيَّنَ أَنَّ اللَّازِمَ لِلْوُضُوءِ مَعْنَى الطَّهَارَةِ، وَمَعْنَى الْعِبَادَةِ فِيهِ مِنْ الزَّوَائِدِ، فَإِنْ اتَّصَلَتْ بِهِ النِّيَّةُ يَقَعُ عِبَادَةً، وَإِنْ لَمْ تَتَّصِلْ بِهِ لَا يَقَعُ عِبَادَةً لَكِنَّهُ يَقَعُ وَسِيلَةً إلَى إقَامَةِ الصَّلَاةِ لِحُصُولِ الطَّهَارَةِ كَالسَّعْيِ إلَى الْجُمُعَةِ.

اوریہ بھی واضح ہوا کہ وضو کے لئے لازم شے طہارت کا مفہوم ہے، اور عبادت کا مفہوم ایک اضافی شے ہے، اگروضو کے ساتھ نیت متصل ہوگئی تو وضو عبادت بن جائے گا اور اگر متصل نہ ہوئی تو وضو عبادت نہیں بنے گا، مگر نماز کی ادائیگی کے لئے حصولِ طہارت کا وسیلہ ہوجائے گا جیسے نمازِ جمعہ کے لئے جانا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

وضو میں نیت فرض نہ ہونے پر علامہ کاسانی نے احناف کے موقف کی وضاحت کی ہے، ہم یہاں ان دلائل کا خلاصہ لکھ دیتے ہیں۔

1- اللہ تعالی نے دھونے اور مسح کرنے کاحکم مطلقا دیا ہے یعنی نیت کی قید لگائے بغیر۔۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ کلامِ الہی کے مطلق حکم کوبغیر کسی ٹھوس دلیل کے مقید کرنا جائز نہیں ہے، لہذا وضو سے پہلے نیت کی شرط لگانا درست نہیں ہے۔

2- اللہ تعالی نے حکم فرمایا ہے کہ ناپاکی کی حالت میں نماز کے قریب نہ جایا جائے یعنی نماز ادا نہ کی جائے لیکن حالتِ سفر میں ہو تو تیمم کرلے، اس حکمِ ربانی کا تقاضا یہ ہے کہ ممانعت اس وقت ختم ہوجانے چاہئے جب حَتَّى تَغْتَسِلُوا پر عمل ہوجائے، یعنی غسل کرلیا جائے نیت ہو یا نہ ہو۔

3- اللہ تعالی نے وضو کا حکم اسلئے دیا ہے کہ طہارت حاصل ہوجائے اور طہارت محض نیت کرنے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ مطہر (پاک کرنے والی چیز) کو ایسی جگہ استعمال کرنے سے ہوتی ہے جو قابلِ طہارت ہو۔ مثلا پانی مطہر یعنی پاک کرنے والا ہے اور چہرہ قابلِ طہارت جگہ ہے لہذا پانی جب چہرے پر بہے گا تو چہرہ کی طہارت حاصل ہوجائے گی، اس میں نیت کا عمل دخل نہیں ہے۔

4- *پانی کا استعمال* تخلیقی طور پر ایسی صلاحیت رکھتا ہے کہ جس شے پر اس کا استعمال ہوجائے اگر وہ پاک ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو تو پاک ہوجاتی ہے، لہذا بارش میں بھیگ جانے یا نہر میں ڈوبکی لگا لینے سے وضو ہوجاتاہے، اس میں یہ شرط لگانا کہ نیت ہوگی تو پانی پاک کرے گا ایک اضافی شے ہے جس کا پانی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آسان الفاظ میں پانی کا کام پاک کرنا ہے نیت ہو یا نہ ہو وہ قابلِ طہارت جگہ کو پاک کردے گا۔

نوٹ: کتبِ احناف میں نیت کا وقت لکھا ملتا ہے کہ چہرہ دھونے سے پہلے نیت کرنا سنت ہے۔۔۔!

دراصل یہ امام شافعی کے قول کا جواب ہے کیونکہ ان کے نزدیک چہرہ دھونے سے پہلے پہلے نیت کرنا شرط ہےورنہ چہرے کی فرضیت بغیر نیت کے ہوگی جس کے سبب وضو نہیں ہوگا، لہذا ہمارے فقہاء نے لکھا کہ چہرے سے پہلے نیت فرض نہیں سنت ہے۔

لیکن صحیح یہ ہے کہ نیت کا وقت ہاتھ دھونے سے پہلے ہے تاکہ سنتوں کا ثواب بھی حاصل ہوجائے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.