دعوت و تبلیغ کے چند اصول

اللہ عزوجل کی وحدانیت اور رسول اللہﷺ کی رسالت کی سچائی کو دوسروں تک پہنچانا تبلیغ ہے۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنہون عن المنکر و تؤمنون باللہ‘‘ تم بہتر امت ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں، بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (آلِ عمران:110، کنز الایمان)

اسلام کی صداقت کو واضح کرنا اور اسے عام کرنا ایک بھلائی ہے اس کے ذریعہ مخلوق کا تعلق خالق سے ہوتا ہے اور اس کی دعوت دینے والے کو ’’خیرَ اُمۃٍ‘‘ کے مبارک لقب سے یاد کیا گیا ہے۔

آج دنیا کے لئے بہت سے مسائل ہیں مثلا ظلم و ستم، دہشت گردی وکرپشن، چوری و حق تلفی، شراب و جوا اور دیگر سماجی و معاشرتی برائیاں اور فحاشی و عریانیت وغیرہ، ادیانِ عالم میں ان کے سد باب کے لئے کوئی واضح تصور نہیں جیسا کہ اسلام میں موجود ہے اور یہ فطرت کا تقاضا ہے کہ انسانیت کا رخ نکھراوستھرا رہے۔ شعبہ ہائے حیات کے لئے تمام قوانین و مبادیات اسلام میں موجود ہیں اور برائیوں کے خاتمہ کے تمام ذرائع اس میں موجود ہیں۔ لیکن یہ سب سے بڑی برائی ہے کہ اللہ عزوجل و رسول کونین اکی معرفت نہ ہو اور اس معرفت کے لئے سعی و کاوش کرنا ہی در اصل تبلیغ ہے۔

تبلیغ محض علما و صوفیا کے مقدس گروہ کی ہی ذمہ داری نہیں بلکہ بحیثیت مسلمان کوئی فرد اس سے عہدہ بر آ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے پہلے خود کو سنوارنا ہوگا۔ اگر ایک مسلمان کا ہر کام رحمتِ عالم ا کے بتلائے ہوئے طریقوں کے مطابق ہو تو اس کی ذات خود ایک نمونہ ہو گی۔ ظاہر ہے جو اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارے گا وہ گناہوں سے آلودہ ہونے سے بچے گا، جھوٹ و غیبت، حسد و جلن اور شراب و رباب اور زنا سے بچے گا، منکرات سے بچے گا، بایں ہمہ اس کی زندگی اسلام کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوگی اور اس کی ذات دوسروں کے لئے رہنما ہوگی۔

یوں تو دعوت و تبلیغ سے منسلک موضوعات کثیر ہیں تا ہم یہاں چند اصولوں پر ہی کلام کیا جاتا ہے وہ بھی اختصاراً مثلاً (۱)حکمت (۲)مواعظِ حسنہ (۳)استعداد کی رعایت (۴)اخلاق و کردار کی آراستگی۔

اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:’’ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمۃ و الموعظۃ الحسنۃ و جادلہم بالتی ہی احسن‘‘ اور اپنے رب کی طرف بلائو پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہے۔ (النحل:۱۲۵کنزالایمان)

مذکورہ آیت میں دعوت حق کے کئی اصول بیان ہوئے ہیں مثلاً تدبر و تفکر، پند و نصیحت، حکمت و فراست اور بامقصد گفتگو و تفہیم کی عمدگی۔ وغیرہ۔

یہاں یہ پہلو بھی ملحوظ رہے کہ علم چوں کہ مسلمانوں کی میراث ہے اور ہر علم صالح اسلام کا ہی مرہون منت ہے۔ جدید دور میں علوم کی درجہ بندی کی جا چکی ہے۔ دینی و دنیوی۔ ماضی کا مطالعہ کرنے والے بخوبی واقف ہوں گے کہ ماضی میں ایک عالم دین دنیاوی علوم کا بھی ماہر ہوتا تاتھا بایں سبب ان کی سماج پر گرفت مضبوط ہوتی تھی، وہ دعوت و تبلیغ کے ضوابط سے واقف ہوتے تھے۔ دورِ حاضر میں ایک مبلغ کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ جدید علوم بھی حاصل کرے۔ نیت صالح ہو تو علوم جدیدہ یا عصری علوم کا حصول معیوب نہیں۔ ہاں اسلامی عقائد کے علم کو فوقیت و اولیت ہو۔ مقصد یہ کہ اگر دنیاوی علوم سے بھی آگہی ہو تو نوپید فتنوں کا سدِ باب اور احقاقِ حق بہتر طریقے سے ہو سکے گا۔

یہ امر ملحوظ رکھا جانا چاہئے کہ دعوت مخاطب کی استعداد کے مطابق پیش ہو۔ اگر مخاطب عام لوگ ہیں نا خواندہ ہیں تو عام فہم الفاظ کا انتخاب ہو، لب و لہجہ مٹھاس سے پر ہو، گفتگو میں ترشی، درشتی اور تلخی و سختی نہ ہو۔ یہ ضرور ہو کہ حق کی وضاحت میں استدلال سے کام لیا جائے اور مثالیں بھی قائم کی جائیں۔ اور اگر گفتگو دانش ور، تعلیم یافتہ اور اصحابِ علم و فن سے کی جا رہی ہو تو فصاحت و بلاغت کا سہارا ہو، قوی دلائل و براہین کے ساتھ ہی حسنِ کلام بھی ہو کہ مخاطب قائل ہو اور حق کی طرف میلان و رغبت بڑھے۔

استعداد کی رعایت ایک حکمت کا نکتہ ہے اس کی ایک آسان مثال یہ ہے کہ امام احمد رضا محدثِ بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے فتاویٰ (فتاویٰ رضویہ) میں عوام کے دریافت شدہ مسئلوں کے جواب آسان و سادہ لفظوں میں دئے ہیں کہ کم علم بھی آشنا ہو اور خواص علماء محققین نے رجوع کیا تو کلام کی جامعیت، زبان کی فصاحت و بلاغت، دلائل و براہین کی کثرت، مسئلے کے تمام جزئیات پر تحقیق اور پھر اقول کے تحت قول فیصل کا صدور اور نتائج کا استنباط عدیم النظیر ہے۔

مذہب کا تصور چند تقریبات و رسومات اور مواقع تک محدود سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کا تصور اس سے مختلف ہے۔ مبلغِ اسلام حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں ہدایت مہیا کرتا ہے۔ اگر دین ایک ضابطۂ حیات ہے تو پھر ہمیں یہ سوال پوچھنا چاہئے کہ کیا ہمیں کامیاب زندگی کے لئے کسی ضابطۂ حیات کی ضرورت ہے یہ سوال ہمیں ہمارے موضوع ’’دین و شریعت کی ضرورت‘‘ پر سوچ و بچار کی طرف لے آتا ہے۔ اس موضوع پر بحث کرنے کے لئے ہمیں پوری نسلِ انسانی کی نفسیات کا مطالعہ کرنا پڑے گا‘‘ (تبلیغ اسلام کے اصول و فلسفہ ص:۱۶)

اسلام حیاتِ انسانی کے کل گوشوں کو محیط ہے بایں ہمہ علوم کائنات کا مطالعہ ایک مسلمان کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔ علوم و فنون کا مادیت کی بنیادوں پر ویسٹرن کلچر نے اپنا محور بنا رکھا ہے اور ان کا روحانیت سے عاری تصور دنیا کو اپنے شکنجے میں کسا ہوا دیکھنا چاہتا ہے اس کے لئے انسانوں کا قتل و خون دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے بطورِ خاص مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے کہ اگر مسلمان اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہو گیا تو دنیا میں اسلام کا نور مزید واشگاف ہو جائیگا اور امن و سکون کے تلاش کرنے والے اسلام کے دامن میں پناہ لیں گے۔اس لئے کہ اسلام ہی دنیا کو راحت و طمانیت دے سکتا ہے۔

حق کی تلاش میں سرگرداں فطرت کے موتی کی جستجو کرتے ہیں۔ دینِ فطرت کی پر نور کرنیں ماضی اور حال کے ساتھ ہی مستقبل کو بھی محیط ہیں لہٰذا ایک مبلغ و داعی کی ذمہ داری ہے کہ اسلام کے وسیع نظام کی افادیت کو اجاگر کرے۔ اس دہلیز پر اخلاق و حکمت دونوں کی کارفرمائی ہے۔

حکمت کی مختلف توضیحات اربابِ علم نے کی ہے لیکن اس کا جو قریب تر مفہوم معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ کسی شئی کو اس کے اصل مقام پر رکھنا اور اس کے غلط استعمال سے روکنا بالفاظِ دیگر شئی کی حقیقت جان لینا اور اس کے حق کے مطابق عمل کرنا۔ رسولانِ عظام علیہم الصلوٰۃ و السلام کو کتاب کے ساتھ ہی حکمت بھی عطا کی گئی۔ قرآنِ مقدس میں جو احکام ہیں اور جن پر عمل کی ترغیب ہے اور جن سے بچ رہنے کی تلقین ہے جس کی تعلیم بارگاہِ سید عالم ا سے ملتی ہے اور جسے سنت کہتے ہیں اور یہ قرآنِ مقدس کی تفہیم بھی کرتی ہے اسے علما حکمت کہتے ہیں۔ اسلام کے اصول دعوت میں حکمت کی جلوہ گری بجا طور پر ملتی ہے۔ اس کے لئے کردار و افکار کی تزئین درکار ہے۔ اقبال نے کہا تھا ؎

ہند میں حکمتِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے

نہ کہیں لذتِ کردار نہ افکارِ عمیق

اسلافِ کرام اور صوفیائے حق کے احوال میں دعوت و تبلیغ کے لئے حکمت کے آبدار موتی بکھرے ہوئے ہیں ۔ پہلی دعوتِ حق جو حضور سید عالم ﷺ نے کوہِ صفا سے پیش کی وہ بھی پر از حکمت تھی۔ سرورِ کونینﷺ نے فرمایا تھا اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے عقب سے لشکر آرہا ہے تو تم کو یقین آئے گا؟ سب نے کہا ہاں کیوں کہ تم سچ بولتے ہو۔ سرورِ کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا میں یہ کہتا ہوں اگر تم ایمان نہ لائو گے تو تم پر شدید عذاب نازل ہو گا۔

یہ دعوت و تبلیغ کی پہلی بنیاد رکھی گئی تھی اس کے اثرات رفتہ رفتہ ظاہر ہوئے اور اسلام کا نور نہاں خانۂ دل کو فروزاں و تاباں کرتا گیا۔ مواعظِ حسنہ اور حکمت و صداقت سے پیش کی جانے والی دعوت کے اثرات دھیرے دھیرے ہی سہی لیکن گہرے مرتسم ہوتے ہیں۔

داعی کے افکار میں بنیادی طور پر اسلام کی آفاقیت کا گوشہ شامل رہنا چاہئے اور یہ کہ اسلام ہی انسانیت کا نجات دہندہ ہے اور دنیا کے مسائل کا حل صرف اسلام میں ہے لہٰذا کامیابی ہماری دعوت کا نتیجہ ثابت ہوگی۔ یہاں رحمت و عافیت کی جلوہ گری بھی ہے ایک لفظ ’’رحمت‘‘ بظاہر سادہ سا لفظ ہے لیکن اس میں امن و سکون اور آسودگی و راحت کا ایک جہاں پنہاںہے۔ ہمارے آقا سید عالم ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں، اسلام سلامتی کا نفاذ کرتا ہے اور رحمت و سلامتی جہاں ہو وہاں برائیاں پنپ نہیں سکتیں۔ شاید اسی لئے پروپگینڈے کا سہارا لیا گیا اور اسلام کے چشمۂ رواں پر بند باندھنے کے لئے اسلام کو دہشت گردی کا مذہب اور مسلمان کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ میڈیا اور اسلام دشمن حکومتوں کا یہی رول بن چکا ہے، جھوٹ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

علامہ قمر الزماں خان اعظمی مصباحی فرماتے ہیں ’’میں یورپ میں دیکھتا ہوں کہ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہے جب وہاں کے کسی نیشنل پیپر National News paperمیں کوئی آرٹیکل Article اسلامک ٹیررزم Islamic Terrorism کے بارے میں نہ آرہا ہے یہاں تک کہ امریکہ میں اگر وہاں کی کوئی قوم بمباری کرتی ہے، کوئی حادثہ کرتی ہے تو اس کا نام بھی مسلمانوں کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ کوئی اور تھا۔ لیکن پہلے مسلمانوں کا نام لیا جاتا ہے، سسپیکٹ Suspect کیا جاتا ہے کہ یہ مڈل ایسٹ Middle Eastمشرقِ وسطیٰ کے ٹیررسٹ ہوں گے، یہ افغانی ہوں گے۔ یہ خبر پہلے آجاتی ہے کہ ایک ذہن بنایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ جہاں بانی کے قابل نہیں یہ لوگ قیادت کے قابل نہیں، یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں‘‘ (خطباتِ مفکرِ اسلام اول، مطبوعہ مکتبۂ طیبہ ممبئی ص:۱۸۲،۱۸۳)

حسنِ اخلاق انسانیت کا زیور ہے۔ سرورِ کونین ا معلمِ اخلاق کی حیثیت سے جلوہ گر ہوئے۔ اپنی حیات تابندہ سے اخلاق کی تکمیل فرمائی۔ قرآنِ مقدس نے اخلاق کے نظام کا وسیع تصور عطا کیا ہے یہ جوہر فکر و نظر کو مہمیز دیتا ہے۔ ایک داعی اپنے مشن میں سرورِ کونین ا کے عطا کردہ اخلاقی اصولوں کو پیشِ نظر رکھے۔ اوصافِ حمیدہ بھی اخلاق سے متعلق ہیں۔ یہ خصائل ہوں تو مدعو اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ مبلغ و داعی کے لئے درکار اوصاف کے چند اصولوں کی وضاحت امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی:۵۰۵ھ؁) کی ان معروضات سے ہوتی ہے:

’’سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ مبلغ کا بردبار طبیعت رکھنے والا یعنی حلیم الطبع اور نرم مزاج ہونا نہایت ضروری ہے کیوں کہ اپنی نیک بختی جتانے اور دوسروںپر اعتراض کرنے کی نیت سے تبلیغ یا وعظ کرنے کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا بلکہ اس سے لوگوں کو صدمہ ہوتا اور برافروختگی بڑھتی ہے اور لوگ گناہوں سے باز آنے کی بجائے ضد اور اصرار کرتے ہوئے گناہوں کا مزید جرأت و سرعت کے ساتھ ارتکاب کرنے لگتے ہیں۔۔ جب وعظ و نصیحت کی غرض سے بیان کرو تو نہایت نرمی سے کرو اور نیت یہی رکھو کہ کاش اللہ عزوجل جس شخص کو میں تبلیغ کر رہا ہوں اس کی گناہوں کی عادت چھوڑنے میں آسانی پیدا فرمادے اور میں نہیں تو کوئی دوسرا ہی مبلغ اس کی ان بری عادات کو چھڑا دے تو کافی ہے کیوں کہ خود معترض اور ناصح بننے کی عزت کا خواست گار ہونا خلوص کے خلاف ہے‘‘(خطباتِ غزالی، مطبوعہ رضوی کتاب گھردہلی، ص:۶۸)

امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے تبلیغ کے اصولوں میں نصیحت کے ضمن میں نرمی کو اہمیت دی ہے اور حقائق کا برملا اظہار ہو، احقاقِ حق اور ابطالِ باطل میں اخلاقِ حسنہ کے ساتھ دعوت پیش کی جائے اس راہ میں صبر و تحمل اور استقامت بھی چاہئے اور اس راہ میں ترکِ دنیا نہ ہو، دنیا میں رہ کر دنیا سے بچ رہنا یوں ہے کہ دنیا کی محبت و رغبت نہ ہو کہ یہ محبت غافل کر دیتی ہے۔ حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے امام محمد غزالی رقم طراز ہیں: ’’دنیا طالب بھی ہے اور مطلوب بھی، جو خوشنودیٔ خدا کا طالب ہوتا ہے دنیا اس کی طالب رہتی ہے اور اسے رزق بہم پہنچاتی ہے اور جو دنیا کا طالب ہوتا ہے اسے آخرت طلب کرتی ہے اور موت اسے گدی سے پکڑ کر لے جاتی ہے‘‘ (مکاشفۃ القلوب، ص:۲۱۹)

دعوت وتبلیغ کی بنا پر مبلغ محبتوں کا آئینہ دار ہو، ہاں اس کے واسطے وہ محبت بھی لازمی ہے جو شرطِ ایمان ہے محبتِ سرورِ کونین ا امام احمد رضا محدثِ بریلوی تحریر فرماتے ہیں: ’’ایمان ان کی محبت و عظمت کا نام اور مسلمان وہ جس کا کام ہے نامِ خدا کے ساتھ ان کے نام پر تمام‘‘(اعتقاد الاحباب:ص:۲۴)

نبوی دعوت کے جو اسلوب ہیں اور صحابۂ کرام کی مقدس جماعت نے تبلیغ دین کے لئے جو عمل پیش فرمایا ہے اگر اس پر عمل پیرا ہو جائیں اور پھر ثابت قدم ہو جائیں تو ہمارا یہ شعبہ زندگی کے دھارے میںصحیح سمت موڑدے گا اور بے راہ روی کا سدِ باب ہو سکے گا۔ موجودہ دور میں جب کہ چہار سمت سے مخالفت ہو رہی ہے اور جدید ذرائع بھی صف آرا ہیں اگر خلوص و للہیت اور ذوق و یقین اور عشق و عرفان کے پاکیزہ جذبات کے ساتھ دعوتِ حق کو پیش کیا جائے تو فکریں روشن ہو جائیں گی اور کاوشیں بار آور ہوں گی۔ تفصیلات سے صرفِ نظر میں علامہ یٰسین اختر مصباحی کا یہ پیغام پیش ہے جو داعیانِ حق کے خیالات کو یقینا مہمیز دے گا ’’اٹھو اور اٹھ کے شرق و غرب اور بحر و بر کی وسعتوں میں پھیل جائو پھر ساری کائنات تمہاری ہے، جس کی خلافت تمہیں سونپی گئی اور تمہیں جس کا وارث اور امین بنایا گیا ہے، سچ پوچھو تو تمہارا صحیح مقام یہی ہے جس کا حصول تمہیں بہار ابد کی نعمتوں سے سرفراز کر سکتا ہے‘‘ (پیغامِ عمل ص:۷۸،۷۹)

خلاصۂ کلام یہ کہ تبلیغ و دعوت کا جذبہ موجوں سے بلند ہو، علم و فکر کی گہرائی و گیرائی ہو اور حق کی توضیح و تعلیم اس عمدگی سے ہو کہ مدعا دل و ذہن میں اتر جائے اور اسلام کا نور من کی دنیا کو روشن روشن کر دے۔

کبھی دریا سے مثلِ موج ابھر کر

کبھی دریا کے سینے میں اتر کر

کبھی دریا کے ساحل سے گزر کر

مقام اپنی خودی کا فاش تر کر

ژژژ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.