رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یوں طہارت فرماتے

حدیث نمبر :445

روایت ہے حضرت شعبہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جب ناپاکی سے غسل کرلیتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر سات بارپانی ڈالتے۲؎ پھر استنجاءکرتے ایک دفعہ بھول گئے کہ کتنی بار پانی ڈالا ہے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ مجھےنہیں معلوم فرمایا تمہاری ماں نہ رہے تمہیں کس چیزنے جاننے سے روکا۳؎ پھرنماز کا سا وضو کرتے پھر اپنےجسم پر پانی بہاتے پھر فرماتے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی طہارت فرماتے تھے۴؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ آپ شعبہ ابن دینارہیں،سیدناعبداﷲ ابن عباس کے آزادکردہ غلام ہیں۔امام نسائی فرماتے ہیں کہ شعبہ ضعیف ہیں،دیگرمحدثین ان کی توثیق کرتے ہیں۔

۲؎ کیونکہ ہاتھ میں نجاست لگی ہوئی تھی اورشروع اسلام میں نجاست سات بار دھوئی جاتی تھی،پھر سات کا حکم منسوخ ہوگیا،استحباب اب بھی باقی ہے۔(ازمرقات)لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں تین بار ہاتھ دھونے کا ذکر ہے۔ہوسکتا ہے کہ آپ یہ عمل کبھی کرتے ہوں نہ کہ ہمیشہ۔

۳؎ ماں نہ رہے پیار میں بھی بولتے ہیں اورعتاب میں بھی۔یہاں دونوں احتمال ہیں۔مولیٰ اور استاد کو حق ہے کہ بلاوجہ بھی عتاب کردے۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ شاگرد کو اپنے استاد کے ہرحال کا خیال رکھنا چاہیئے تاکہ بوقت ضرورت استاد کوبھی بتاسکے،اورلوگوں تک بھی پہنچاسکے۔یہاں ہاتھ دھونے کی گنتی مراد ہے۔

۴؎ کبھی کبھی یا سات کا حکم منسوخ ہونے سے پہلے یا اس وقت جب کہ نجاست سخت ہوکر بغیرسات بارکے نہ چھوٹے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.