سفید روٹی اور خطرناک اژدہا

حکایت نمبر193: سفید روٹی اور خطرناک اژدہا

حضرت سیدنا ابراہیم ہروی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں :” موسم گرما کی ایک دوپہر دوران سفر میں نے ایک شخص کو ایک سمت جاتے ہوئے دیکھا ،میں بھی اس کے ساتھ ساتھ چل دیا۔ کچھ دور جاکر اس نے راستہ چھوڑ دیا اور ایک وادی کی جانب مڑ گیا، میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا پھر وہ ایک غار میں داخل ہو گیا میں بھی غار میں چلا گیا۔ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میرے سامنے ایک بڑا اژدہا نمودار ہوا ۔میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنا بڑا اژدہا کبھی نہ دیکھا تھا پھر وہ اژدہا غار کے دہانے کے قریب کنڈلی مار کر بیٹھ گیا اور میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے دل میں کہا: ”شاید۱ آج یہ مجھے کھا جائے گا، یہ خیال تو مجھے ضرور آیا لیکن نہ تو میں گھبرایااور نہ ہی خوف زدہ ہوا۔ کچھ دیر وہ اژدہا مجھے دیکھتا رہا پھر وہ رینگنا ہوا میری طرف بڑھنے لگا۔ میں بھی اپنی جگہ کھڑا رہا جب وہ میرے بالکل قریب آگیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے منہ میں بہت ہی عمدہ قسم کے سفید آٹے کی ترو تازہ رو ٹی تھی، اس اژدھے نے وہ روٹی میرے قریب رکھی اور فوراً واپس چلا گیا،اور دوبارہ غار کے دھانے پر کنڈلی مار کر بیٹھ گیا، میں حیران و پریشان کھڑا رہا اور سوچتا رہا کہ اژدہا یہ روٹی کہاں سے لایا ہے ؟ پھر میں نے وہ روٹی کھا ئی اور دوپہر کا وقت گزارنے کے لئے آرام کی غرض سے غار ہی میں رک گیا، جب موسم کچھ ٹھنڈا ہو ا اور شام ہونے لگی تو میں اس غار سے نکلا اور چلتا ہوا اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا ۔مجھے دیکھ کر وہ کہنے لگے : ”تم کہاں سے آرہے ہو اور اب تک کہاں تھے ؟”میں نے وادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :” میں اس وادی سے آرہاہوں ۔”پھرانہوں نے پوچھا:” کیا تم نے بھی وہ چیزدیکھی ہے جو ہم نے دیکھی؟ ”میں نے جواباً کہا: ”تم کس چیز کی بات کر رہے ہو، ذرا وضاحت کرو؟” انہوں نے بتایا:”آج دوپہر کے وقت ہمارے سامنے ایک بہت بڑا اژدہا آیا، ہمارے بالکل قریب آکر وہ اپنی دم پر کھڑا ہو گیا اور زور زور سے پھنکارنے لگا ۔ہم خوفزدہ ہوگئے ،ہم میں ایک بزرگ بھی موجود تھے جو بہت دانا اور معاملہ فہم تھے انہوں نے ہم سے فرمایا:” میرا گمان ہے کہ یہ اژدہا بھوکا ہے، شاید خوراک کی تلاش میں ہم تک آ پہنچا ہے ۔”یہ کہنے کے بعد انہوں نے سفید آٹے کی عمدہ روٹی اس کی طرف پھینک دی ۔اژدھے نے وہ روٹی اپنے منہ میں لی اور وہاں سے چلا گیا۔ میں نے کہا :”وہ سفید آٹے کی روٹی میں نے ہی کھائی ہے پھر میں نے انہیں سارا واقعہ سنایا۔” 

(اللہ عزوجل تمام مخلوق کا رازق ہے ،وہ اپنی مخلوق کو جس طرح چاہے ان کے حصے کا رزق عطا فرمائے ،وہ ہرچاہے پر قادر ہے۔ چاہے تو موذی جانوروں کے ذریعے اپنے بندوں کو رزق عطا فرمادے جیسا کہ مذکورہ بالا حکایت میں ایک خطرناک اژدھے کے ذریعے حضرت سیدنا ابراہیم ہروی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو ان کے حصے کا رزق عطا فرما دیا گیا۔ بس انسان کو اپنے پاک پروردگار عزوجل پرکامل یقین ہونا چاہے، اللہ عزوجل ہمیں ہمارے اسلاف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے صدقے توکُّل کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ہمیں رزق حلال کھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ) ؎

غم روزگار میں تو مرے اشک بہہ رہے ہیں تیرا غم اگر رلاتا تو کچھ اور بات ہوتی

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.