قرن رابع کے بعد تصانیف کی نوعیت

قرن رابع کے بعد تصانیف کی نوعیت

پانچویں صدی کے نصف تک تواسی انداز سے کام ہوتا رہا اور احادیث کا وافر ذخیرہ پوری احتیاط کے ساتھ تحریری شکل میں محفوظ کردیا گیا ۔اسکے بعد جو کام اس موضوع پرہوئے وہ مختلف کتابوں کے مجموعوں کی شکل میں زیادہ ہوئے ۔بعض نے صحاح ستہ کے مجموعے لکھے اور کسی نے مسانید وسنن کو جمع کرنے کی سعی بلیغ کی ۔مثلا :۔

جامع الاصول :۔ علامہ ابن اثیر ابوالسعادات مبارک بن محمد نے چھٹی صدی میں صحاح ستہ کے مجموعہ کے طور پر لکھی

جامع المسانید والسنن :۔ علامہ ابن کثیر نے صحاح ستہ اور مسند احمد ،مسند بزار ،مسند ابو یعلی ،معجم کبیر طبرانی کے مجموعہ کی حیثیت سے دس کتابوں کی احادیث پر مشتمل لکھی ۔

مجمع الزوائد :۔ میں ابو الحسن ھیثمی نے بارہ کتابوں کا مجموعہ تحریرکیا جس میں معجم اوسط اور معجم صغیر کوبھی شامل کیا البتہ صحاح ستہ کی روایات جو باقی چھ کتابوں میں تھیں انکو حذف کردیا ۔

جمع الفوائد :۔میں محمد بن مغربی نے مذکورہ بالابارہ کتابوں کے ساتھ سنن دارمی اور مؤ طا امام مالک کی احادیث کو بھی شامل کیا ۔

مصابیح السنہ:۔ امام ابو محمد حسین بن مسعود فراء بغوی کی اور اس پر کچھ اضافہ کے ساتھ شیخ ولی الدین تبریزی کی مشکوۃ المصابیح بھی اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں ۔

اور آخر میں علامہ حافظ جلال الدین سیوطی نے جمع الجوامع لکھی جس میں تمام احادیث متداولہ لو جمع کرنے کاعز م کیا لیکن وہ مکمل نہ کرسکے ،پھر بھی اتنی عظیم کتاب جس میں (۴۶۶۲۴)احادیث ہیں مشکل ہی سے دوسری دستیاب ہوسکتی ہے ۔

اس کتاب کی تبویب وترتیب کا کام شیخ علی متقی برھان پوری ھندی (ریاست ایم۔ پی) مہاجر مکی نے انجام دیا اور اسکا نام کنزالعمال رکھا جو اس زمانہ میں مطبوع اور دستیاب ہے ۔

ھندوستان کے یہ پہلے مصنف ہیں جنہوں نے اتنا بڑا کارنامہ علم حدیث میں انجام دیا لیکن اس وقت آپ کا قیام مکہ مکرمہ میں تھا ۔

آپ ہی کے شاگرد رشید ہیں شیخ عبد الوہاب متقی جن سے اکتساب فیض کے لئے محقق علی؎ الاطلاق شیخ عبد الحق محدث دہلوی مکہ مکرمہ پہونچے اور چند سال استفادہ کر کے ہندوستان واپس تشریف لائے اور اہل ہند کو علم حدیث کی دولت لازوال سے مالا مال فرمایا۔

آئندہ پیغامات میں مذکورہ بالاائمۂ حدیث اورائمۂ مجتہدین وفقہا میں سے بعض کی سوانح نیز انکی جلالت شان اورعلمی کارناموں سے متعلق قدرے تفصیلات ملاحظہ فرمائیں ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.