قَالُوۡا يٰمُوۡسٰٓى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا‌ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قَاعِدُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 24

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا يٰمُوۡسٰٓى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا‌ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قَاعِدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

انھوں نے کہا اے موسیٰ ! بیشک ہم ہرگز کبھی بھی اس زمین میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اس میں ہیں ‘ سو آپ اور آپ کا رب جائیں اور دونوں (ان سے) جنگ کریں بیشک ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انھوں نے کہا اے موسیٰ ! بیشک ہم ہرگز کبھی بھی اس زمین میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اس میں ہیں ‘ سو آپ اور آپ کا رب جائیں اور دونوں (ان سے) جنگ کریں بیشک ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔ (المائدہ : ٢٤) 

(آیت) ” فاذھب انت وربک “ میں بنو اسرائیل کے کفر اور فسق کی وجوہات :

بنواسرائیل کا یہ کہنا کہ جب تک جبارین اس زمین میں ہیں ‘ ہم اس زمین میں داخل نہیں ہوں گے۔ جہاد کے حکم سے عناد انکار کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت سے مایوس ہونا ہے۔ اور انہوں نے جو یہ کہا کہ تم اور تمہارا رب جاؤ اور جاکرلڑو یہ اللہ تعالیٰ کی صفات سے صریح جہالت ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ آنے جانے اور منتقل ہونے سے منزہ ہے ‘ اور ان کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مشبہ کی طرح اللہ کی جسمیت کے قائل تھے۔ حسن بصری نے کہا اس وجہ سے ان کا یہ قول کفر ہے اور اگر ان کے قول کا یہ مطلب ہو کہ اگر آپ رسول برحق ہیں ‘ تو ہماری بہ نسبت اللہ تعالیٰ کی نصرت حاصل کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اس لیے اللہ کی نصرت پر توکل کرکے آپ ہی جا کر ان سے لڑیں ‘ تب بھی یہ قول کفر ہے۔ کیونکہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت میں شک کیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے قول میں رب سے مراد حضرت ہارون ہیں۔ کیونکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے ‘ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کی اطاعت کرتے تھے۔ تب بھی ان کے اس قول کے فسق ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے بعد والی آیت میں ان کو فاسق ہی فرمایا ہے۔ یہ یہودیوں کا اپنے نبی کے ساتھ سلوک تھا ‘ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کا اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ معاملہ دیکھئے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن حضرت مقدار نے کہا یا رسول اللہ ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا سو آپ اور آپ کا رب جائیں اور دونوں (ان سے) جنگ کریں ‘ بیشک ہم یہیں بیٹھے رہیں گے لیکن آپ چلئے ہم آپ کے ساتھ رہیں گے تو گویا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے پریشانی کا بادل چھٹ گیا۔ (ابن جریر نے روایت کیا ہے کہ حضرت مقداد سے سن کر دوسرے صحابہ بھی اسی طرح کہنے لگے) (صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٠٩‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٩٨‘ جامع البیان ‘ ج ٦‘ ص ٢٤٥ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 24

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.