کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 3 رکوع 9 سورہ آل عمران آیت نمبر1 تا 9

الٓمَّٓۙ(۱)

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ(۲)

اللہ ہے جس کے سوا کسی کی پوجا نہیں (ف۲) آپ زندہ اورو ں کا قائم رکھنے والا

(ف2)

شان نزول: مفسرین نے فرمایا :کہ یہ آیت وفد نجران کے حق میں نازل ہوئی جو ساٹھ سواروں پر مشتمل تھا اس میں چودہ سردار تھے اور تین اس قوم کے بڑے اکابر و مقتدا ایک عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا یہ شخص امیر قوم تھا اور بغیر اس کی رائے کے نصارٰی کوئی کام نہیں کرتے تھے دوسرا سید جس کا نام ایہم تھا یہ شخص اپنی قوم کا معتمد اعظم اور مالیات کا افسرِ اعلیٰ تھا خوردو نوش اور رسدوں کے تمام انتظامات اسی کے حکم سے ہوتے تھے تیسرا ابو حارثہ ابن علقمہ تھا یہ شخص نصارٰی کے تمام علماء اور پادریوں کا پیشوا ئے اعظم تھا سلاطین روم اس کے علم اور اس کے دینی عظمت کے لحاظ سے اس کا اکرام و ادب کرتے تھے یہ تمام لوگ عمدہ اور قیمتیں پوشاکیں پہن کر بڑی شان و شکوہ سے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مناظرہ کرنے کے قصد سے آئے اور مسجد اقدس میں داخل ہوئے حضورِ اقدس علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات اس وقت نماز عصر ادا فرمارہے تھے ان لوگوں کی نماز کا وقت بھی آگیا اور انہوں نے بھی مسجد شریف ہی میں جانب شرق متوجہ ہو کر نماز شروع کردی فراغ کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو شروع کی حضور علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے فرمایا :تم اسلام لاؤ کہنے لگے ہم آپ سے پہلے اسلام لاچکے حضور علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے فرمایا یہ غلط ہے یہ دعوٰی جھوٹا ہے تمہیں اسلام سے تمہارا یہ دعوٰی روکتا ہے کہ اللہ کے اولاد ہے اور تمہاری صلیب پرستی روکتی ہے اور تمہارا خنزیر کھانا روکتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر عیسےٰ خدا کے بیٹے نہ ہوں تو بتائیے ان کا باپ کون ہے اور سب کے سب بولنے لگے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے ضرور مشابہ ہوتا ہے انہوں نے اقرار کیا پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب حی لایموت ہے اس کے لئے موت محال ہے اور عیسےٰعلیہ الصلوٰۃ و التسلیمات پر موت آنے والی ہے انہوں نے اس کا بھی اقرار کیا پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمار ارب بندوں کا کار ساز اور انکا حافظ حقیقی اور روزی دینے والا ہےانہوں نے کہا ہاں حضور نے فرمایا کیا حضرت عیسیٰ بھی ایسے ہی ہیں کہنے لگے نہیں فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالٰے پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں انہوں نے اقرار کیا حضور نے فرمایاکہ حضرت عیسیٰ بغیر تعلیم الٰہی اس میں سے کچھ جانتے ہیں انہوں نے کہا نہیں حضور نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عیسیٰ حمل میں رہے پیدا ہونے والوں کی طرح پیدا ہوئے بچوں کی طرح غذا دیئے گئے کھاتے پیتے تھے عوارضِ بشری رکھتے تھے انہوں نے اس کا اقرار کیا حضور نے فرمایاپھر وہ کیسے اِلٰہ ہوسکتے ہیں جیسا کہ تمہارا گمان ہے اس پر وہ سب ساکت رہ گئے اور ان سے کوئی جواب بن نہ آیا اس پر سور ۂ آل عمران کی اوّل سے کچھ اوپراسی ۸۰ آیتیں نازل ہوئیں 

فائدہ صفات الٰہیہ میں حی بمعنی دائم باقی کے ہے یعنی ایسا ہمیشگی رکھنے والا جس کی موت ممکن نہ ہو 

قیوم وہ ہے جو قائم بالذات ہو اور خلق اپنی دُنیوی اور اُخروی زندگی میں جوحاجتیں رکھتی ہے اس کی تدبیر فرمائے۔

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ(۳)

اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور اُس نے اس سے پہلے توریت اور انجیل اتاری

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ۬ؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ(۴)

لوگوں کو راہ دکھاتی اور فیصلہ اُتارا بے شک وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوئے (ف۳) ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے

(ف3)

اس میں وفد نجران کے نصرانی بھی داخل ہیں

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ(۵)

اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں نہ آسمان میں

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۶)

وہی ہے کہ تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے(ف۴) اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا (ف۵)

(ف4)

مرد ۔ عورت ۔گورا، کالا، خوب صورت بدشکل وغیرہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتمہارا مادۂ پیدائش ماں کے پیٹ میں چالیس روز جمع ہوتا ہے پھر اتنے ہی دن علقہ یعنی خونِ بستہ کی شکل میں ہوتا ہے پھر اتنے ہی دن پارۂ گوشت کی صورت میں رہتا ہے پھر اللہ تعالٰے ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کا رزق اس کی عمر اس کے عمل اس کا انجام کار یعنی اس کی سعادت و شقاوت لکھتا ہے پھر اس میں روح ڈالتا ہے تو اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں آدمی جنّتیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور جنت میں ہاتھ بھر کا یعنی بہت ہی کم فرق رہ جاتا ہے تو کتاب سبقت کرتی ہے اور وہ دوزخیوں کے سے عمل کرتا ہے،اسی پر اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور داخل جہنّم ہوتاہے اور کوئی ایسا ہوتا ہے کہ دوزخیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور دوزخ میں ایک ہاتھ کا فرق رہ جاتا ہے پھر کتاب سبقت کرتی ہے اور اس کی زندگی کا نقشہ بدلتا ہے اور وہ جنّتیوں کے سے عمل کرنے لگتا ہے اسی پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور داخل جنت ہو جاتا ہے

(ف5)

اس میں بھی نصارٰی کا رد ہے جو حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کو خدا کا بیٹا کہتے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ ﳘ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ﳕ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ-كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاۚ-وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۷)

وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں (ف۶) وہ کتاب کی اصل ہیں (ف۷) اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے (ف۸) وہ جن کے دلوں میں کجی ہے (ف۹) وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں (ف۱۰) گمراہی چاہنے (ف۱۱) اور اس کا پہلو ڈھونڈھنے کو (ف۱۲) اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے (ف۱۳) اور پختہ علم والے (ف۱۴) کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے (ف۱۵) سب ہمارے رب کے پاس سے ہے (ف۱۶) اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے (ف۱۷)

(ف6)

جس میں کوئی احتمال و اشتباہ نہیں۔

(ف7)

کہ احکام میں ان کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور حلال و حرام میں انہیں پر عمل۔

(ف8)

وہ چند وجوہ کا احتمال رکھتی ہیں ان میں سے کون سی وجہ مراد ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے یا جس کو اللہ تعالیٰ اسکا علم دے۔

(ف9)

یعنی گمراہ اور بدمذہب لوگ جو ہوائے نفسانی کے پابند ہیں۔

(ف10)

اور اس کے ظاہر پر حکم کرتے ہیں یا تاویل باطل کرتے ہیں اور یہ نیک نیتی سے نہیں بلکہ (جمل)

(ف11)

اور شک و شبہ میں ڈالنے (جمل)

(ف12)

اپنی خواہش کے مطابق باوجودیکہ وہ تاویل کے اہل نہیں(جمل و خازن)

(ف13)

حقیقت میں (جمل) اور اپنے کرم و عطا سے جس کو وہ نوازے

(ف14)

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے آپ فرماتے تھے کہ میں راسخین فی العلم سے ہوں اور مجاہد سے مروی ہے کہ میں ان میں سے ہوں جو متشابہ کی تاویل جانتے ہیں۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ راسخ فی العلم وہ عالم باعمل ہے جو اپنے علم کا متبع ہو اور ایک قول مفسرین کا یہ ہے کہ ر اسخ فی العلم وہ ہیں جن میں چار صفتیں ہوں۔تقوٰی اللہ کا۔تواضع لوگوں سے زُہددنیا سےمجاہدہ نفس کے ساتھ (خازن)

(ف15)

کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو معنی اس کی مراد ہیں حق ہیں اور اس کا نازل فرمانا حکمت ہے

(ف16)

محکم ہو یا متشابہ۔

(ف17)

اور راسخ علم والے کہتے ہیں۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةًۚ-اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ(۸)

اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بے شک تو ہے بڑا دینے والا

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠(۹)

اے رب ہمارے بے شک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے (ف۱۸) اس دن کے لیے جس میں کوئی شبہہ نہیں (ف۱۹) بے شک اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا (ف۲۰)

(ف18)

حساب یا جزا کے واسطے

(ف19)

وہ روزِ قیامت ہے

(ف20)

تو جس کے دل میں کجی ہو وہ ہلاک ہوگا اور جو تیرے منت واحسان سے ہدایت پائے وہ سعید ہوگا نجات پائے گا 

مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کذب منافی الوہیت ہے لہذا حضرت قدوس قدیر کا کذب محال اور اس کی طرف اس کی نسبت سخت بے ادبی (مدارک وابومسعو د وغیرہ)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.