‌قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ‌ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً‌‌  ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ‌ ؕ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 26

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

‌قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ‌ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً‌‌  ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ‌ ؕ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ  ۞

ترجمہ:

(اللہ نے) فرمایا یہ (ارض مقدسہ) چالیس سال تک ان پر حرام رہے گا ‘ یہ زمین میں بھٹکتے پھریں گے ‘ سو آپ ان نافرمان لوگوں پر افسوس نہ کریں ‘۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اللہ نے) فرمایا یہ (ارض مقدسہ) چالیس سال تک ان پر حرام رہے گا ‘ یہ زمین میں بھٹکتے پھریں گے ‘ سو آپ ان نافرمان لوگوں پر افسوس نہ کریں ‘۔ (المائدہ : ٢٦) 

میدان تیہ میں بنو اسرائیل کا بھٹکنا : 

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور ان نافرمان یہودیوں کو چالیس سال تک میدان تیہ میں بھٹکنے کی سزا دی۔ تیہ کا لغوی معنی ہے حیرت ‘ وہ میدان چھ فرسخ کا تھا ‘ یعنی اٹھارہ شرعی میل اور ستائیس انگریزی میل کا۔ وہ دن رات چلتے رہتے تھے ‘ لیکن اس میدان کو قطع نہیں کر پاتے تھے ‘ وہ صبح کو جہاں سے چلنا شروع کرتے ‘ شام کو پھر وہیں پہنچ جاتے تھے اور شام کو جہاں سے چلتے تھے ‘ صبح وہیں پہنچ جاتے تھے۔ اس میں اختلاف ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ان کے ساتھ تھے یا نہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ نہیں تھے ‘ کیونکہ میدان تیہ میں ہونا ان کے لئے سزا تھا۔ انہوں نے چالیس دن بچھڑے کی عبادت کی تھی ‘ تو ایک دن کے مقابلہ میں ایک سال انکی سزا مقرر کی گئی ‘ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا کی تھی کہ ہم میں اور ان فاسقوں میں فیصلہ یا علیحدگی کردے۔ اسکا بھی تقاضا ہے کہ وہ انکے ساتھ نہ ہوتے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ وہ انکے ساتھ تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ امر آسان کردیا تھا ‘ جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ ٹھنڈی کردی گئی تھی۔ 

اللہ تعالیٰ نے ارض مقدسہ میں داخلہ کو ان لوگوں پر حرام کردیا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ لوگ ارض مقدسہ میں داخل نہیں ہو سکے۔ البتہ ان کی اولاد داخل ہوئی اور یوشع اور کالب داخل ہوئے ‘ کیونکہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیے ہوئے عہد کو پورا کیا تھا ‘ اور وہ جبارین سے جنگ کے لیے تیار تھے۔ حضرت یوشع ان کی اولاد کو ساتھ لے کر ارض مقدسہ میں داخل ہوئے اور اس کو فتح کرلیا۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا بیس سال سے زیادہ عمر کا جو شخص بھی میدان تیہ میں داخل ہوا ‘ وہ مرگیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون بھی تیہ میں فوت ہوگئے۔ پہلے حضرت ہارون فوت ہوئے ‘ حضرت یوشع ان یہودیوں کی اولاد کے ساتھ ارض مقدسہ پر حملہ آور ہوئے ‘ جبارین سے مقابلہ کیا اور اس شہر کو فتح کرلیا۔ (جامع البیان ‘ جز ٣ ص ٢٤٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

حضرت یوشع کے لیے سورج کو ٹھہرانا :

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع بن نون کو نبوت عطا کی اور ان کو جبارین سے جنگ کرنے کا حکم دیا۔ اسی مقابلہ میں سورج کو ٹھہرا دیا گیا ‘ حتی کہ وہ شہر میں داخل ہوگئے اور اسی جنگ کا یہ واقعہ ہے کہ ایک شخص کی خیانت کی وجہ سے آگ نے مال غنیمت کو نہیں جلایا۔ اس واقعہ کی تفصیل اس حدیث میں ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انبیاء (سابقین) میں سے ایک نبی نے جہاد کیا اور اپنی قوم سے یہ کہا کہ جس شخص نے ابھی نکاح کیا ہو اور اس نے ہنوز شب زفاف نہ گزاری ہو اور وہ یہ عمل کرنا چاہتا ہو ‘ وہ میرے ساتھ نہ جائے ‘ اور نہ وہ شخص جائے جس نے مکان بنایا ہو اور اس نے ہنوز چھت بلند نہ کی ہو ‘ اور نہ وہ شخص جائے جس نے بکریاں اور گابھن اونٹنیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچہ دینے کا منتظر ہو۔ پھر اس نبی (علیہ السلام) نے جہاد کیا اور عصر کی نماز کے وقت ‘ یا اس کے قریب وہ ایک دیہات میں پہنچے تو انہوں نے سورج سے کہا : تم بھی حکم الہی کے ماتحت ہو ‘ اور میں بھی حکم الہی کے ماتحت ہوں۔ اے اللہ ! اس سورج کو تھوڑی دیر میرے خاطر روک دے ‘ پھر سورج روک دیا گیا ‘ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا کی۔ آپ نے فرمایا پھر انہوں نے مال غنیمت جمع کیا ‘ پھر اس مال کو کھانے کے لیے ایک آگ آئی ‘ لیکن اس نے مال کو نہ کھایا۔ اس نبی نے فرمایا تم میں سے کسی شخص نے خیانت کی ہے ‘ سو ہر قبیلہ کا ایک شخص مجھ سے بیعت کرے ‘ پھر سب نے بیعت کی اور ایک شخص کا ہاتھ نبی کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ نبی نے فرمایا خیانت کرنے والا تمہارے قبیلہ میں ہے۔ لہذا اب تمہارا پورا قبیلہ میری بیعت کرے ‘ انہوں نے بیعت کی ‘ آپ نے فرمایا پھر دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ پیغمبر کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ نبی نے فرمایا تمہارے اندر خیانت ہے۔ بالاخر وہ گائے کے سر کے برابر سونا نکال کر لائے۔ نبی نے فرمایا اس کو مال غنیمت میں اونچی جگہ پر رکھ دو ۔ پھر آگ نے آکر اس مال کو کھالیا (آپ نے فرمایا) سو ہم سے پہلے کسی کے لیے بھی مال غنیمت حلال نہیں تھا ‘ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ہمارا ضعف اور عجز دیکھا تو ہمارے لیے مال غنیمت کو حلال کردیا۔ (صحیح مسلم ‘ ج ٣ رقم الحدیث : ١٧٤٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سورج کو لوٹانا :

اس حدیث میں حضرت یوشع بن نون کے لیے غروب سے پہلے سورج کے ٹھہرانے کا ذکر ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غروب کے بعد سورج کو لوٹادیا تھا۔ 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت اسماء بنت عمیس (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی کی جا رہی تھی اور ان کا سر حضرت علی کی گود (رض) میں تھا۔ حضرت علی (رض) نے نماز نہیں پڑھی ‘ حتی کہ سورج غروب ہوگیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! بیشک علی تیری اطاعت اور تیرے رسول کی اطاعت میں مشغول تھے ‘ تو ان پر سورج لوٹا دے۔ حضرت اسماء (رض) نے کہا : میں نے دیکھا کہ سورج غروب ہوگیا تھا اور پھر غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہوگیا۔ (المعجم الکبیر ‘ ج ٢٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٠‘ ص ١٥٢۔ ١٥٠‘ مشکل الآثار ‘ للطحاوی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٥٠‘ ص ٣٦٨‘ مختصر تاریخ دمشق ج ١٧‘ ص ٣٧٨‘ سبل الھدی والرشاد ‘ ج ٩‘ ص ٤٣٩۔ ٤٣٥‘ التذکرہ ‘ ص ١٧‘ شرح مشکل الآثار للطحاوی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٦٧۔ ١٠٦٨) 

امام ابو جعفر طحاوی متوفی ٣٢١ ھ لکھتے ہیں : 

یہ حدیث نبوت کی عظیم علامتوں میں سے ہے۔ کیونکہ حضرت علی (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے اپنے آپ کو پابند رکھا۔ اس لیے آپ نے ان کے لیے سورج لوٹانے کی دعا کی۔ اس سے نماز عصر کی اہمیت بھی معلوم ہوتی ہے۔ (شرح مشکل الاثار ‘ ج ٣‘ ص ٩٨۔ ٩٧‘ مطبوعہ موسسہ الرسالہ بیروت) 

حدیث رد شمس کی سند کی تحقیق : 

ابن الجوزی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے۔ ابن تیمیہ ‘ ابن القیم ‘ ذہبی ‘ ابن کثیر اور ابن حزم کی بھی یہی رائے ہے۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ (رض) حضرت علی بن ابی طالب (رض) اور حضرت ابو سعید خدری سے بھی مروی ہے۔ امام ابو الحسن فضلی متوفی ٤٧٠ ھ نے اس حدیث کی تمام اسانید کو جمع کیا ہے اور ایک رسالہ لکھا ہے۔ ” تصحیح حدیث ردالشمس “ اور امام سیوطی نے ایک رسالہ لکھا ہے ‘۔ کشف اللبس عن حدیث الشمس “ اور امام محمد بن یوسف دمشقی نے ایک رسالہ لکھا ہے ” مزیل اللبس عن حدیث رد الشمس “۔ 

علامہ شمس الدین محمد بن عبدالرحمن سخاوی متوفی ٩٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

اس حدیث کے متعلق امام احمد نے کہا اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ علامہ ابن الجوزی نے ان کی پیروی کر کے اس حدیث کو موضوعات میں درج کیا ہے۔ لیکن امام طحاوی اور صاحب الشفاء نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام ابن مندہ اور امام ابن شاہین نے اس کو اسماء بنت عمیس سے روایت کیا ہے ‘ اور امام ابن مردویہ نے اس کو حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن سورج کو لوٹایا ‘ جس دن آپ نے اس قافلہ کے آنے کی خبر دی تھی۔ جس کو آپ نے شب معراج دیکھا تھا ‘ اس روز دن غروب ہو رہا تھا اور ابھی تک قافلہ نہیں آیا تھا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ایک ساعت سورج کو روک دیا گیا۔ (الخ) (المقاصدالحسنہ ‘ ص ٢٣٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

ابن اسحاق کی مغازی میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واقعہ معراج کی صبح کو جب کفار قریش کو یہ خبر دی کہ آپ نے ان کا قافلہ دیکھا ہے اور وہ طلوع آفتاب کے ساتھ آجائے گا ‘ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ‘ حتی کہ قافلہ آنے تک سورج ٹھہرا رہا۔ یہ حدیث منقطع ہے ‘ لیکن امام طبرانی کی اوسط میں حضرت جابر (رض) سے یہ روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورج کو حکم دیا تو وہ کچھ دیر متاخر ہوگیا۔ اس حدیث کی سند حسن ہے اور مسند احمد میں جو روایت ہے کہ حضرت یوشع کے سوا اور کسی کے لئے سورج نہیں ٹھہرایا گیا ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء سابقین میں سے اور کسی کے لیے سورج نہیں ٹھہرایا گیا اور اس حدیث میں اس بات کی نفی نہیں ہے کہ حضرت یوشع کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سورج ٹھہرایا گیا ہو اور امام طحاوی ‘ امام طبرانی ‘ امام حاکم ‘ اور امام بیہقی نے حضرت اسماء بنت عمیس (رض) سے یہ روایت کیا ہے جب حضرت علی (رض) کے زانو پر سر رکھ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے اور حضرت علی کی نماز عصر فوت ہوگئی ‘ تو سورج لوٹا دیا گیا حتی کہ حضرت علی (رض) نے نماز پڑھ لی ‘ اور اس کے بعد سورج غروب ہوگیا اور یہ آپکا بہت عظیم معجزہ ہے۔ اور تحقیق یہ ہے کہ ابن جوزی اور ابن تیمیہ نے اس حدیث کو موضوع قرار دینے میں خطا کی ہے۔ واللہ اعلم۔ 

البتہ قاضی عیاض نے جو یہ نقل کیا ہے کہ یوم خندق کو بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سورج کو لوٹایا گیا تھا ‘ حتی کہ آپ نے عصر کی نماز پڑھ لی تو اگر یہ ثابت ہو تو پھر یہ آپ کے لیے رد شمس کا تیسرا واقعہ ہے۔ (فتح الباری ج ٦ ص ٢٢٢۔ ٢٢١‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

علامہ بدر الدین عینی نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور علامہ ابن جوزی کا رد کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٥ ص ‘ ٤٣ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں : 

علامہ ابن الجوزی نے ابن عقدہ کی وجہ سے اس حدیث کو موضو لکھا ہے کیونکہ وہ رافضی تھا اور صحابہ کو برا کہتا تھا۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ محض کسی راوی کے رافضی یا خارجی ہونے کی وجہ سے اس کی روایت کے موضوع ہونے کا یقین کرلینا صحیح نہیں ہے ‘ جبکہ وہ اپنے دین کے لحاظ سے ثقہ ہو اور غالبا اسی وجہ سے امام طحاوی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اصل چیز راوی کی عدالت ہے۔ (شرح الشفاء علی ھامش نسیم الریاض ‘ ج ٣ ص ١١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

خاتم الحفاظ حافظ سیوطی اور علامہ سخاوی نے کہا ہے کہ ابن الجوزی کی کتاب الموضوعات کا اکثر حصہ مردود ہے ‘ حتی کہ انہوں نے بکثرت احادیث صحیحہ کو بھی موضوعات میں درج کردیا ہے۔ امام ابن الصلاح نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی متعدد اسانید ہیں ‘ جو اس کی صحت اور صدق پر شاہد ہیں ‘ اور ان سے پہلے بکثرت ائمہ حدیث نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ مثلا امام طحاوی ‘ امام ابن شاھین اور امام ابن مندہ اور انہوں نے اس کو اپنی اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ اور امام طبرانی نے اس کو اپنی معجم میں روایت کیا ہے اور اس کو حسن قرار دیا ہے۔ (نسیم الریاض ‘ ج ٣‘ ص ١١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

امام طبرانی نے اس حدیث کو کئی سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حافظ ھیثمی متوفی ٨٠٧ ھ نے لکھا ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورج کو ٹھہرنے کا حکم دیا ‘ تو وہ ایک ساعت ٹھہر گیا۔ (المعجم الاوسط ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٤٠٥١) اس حدیث کی سند حسن ہے اور ایک حدیث کی سند صحیح ہے۔ وہ ابراہیم بن حسن سے مروی ہے اور وہ ثقہ راوی ہے۔ امام ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔ (ہم نے اس روایت کو درج کیا ہے) (المعجم الکبیر ‘ ج ٢٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٠‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٨‘ ص ٢٩٧۔ ٢٩٦‘ مطبوعہ الکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ) 

علامہ اسماعیل بن محمد عجلونی متوفی ١١٦٢ ھ لکھتے ہیں : 

امام احمد نے کہا اس حدیث کی کوئی اصل نہیں اور علامہ ابن الجوزی نے کہا یہ موضوع ہے ‘ لیکن ان کی خطا ہے۔ اسی وجہ سے حافظ سیوطی نے کہا اس حدیث کو امام ابن مندہ اور ابن شاھین نے حضرت اسماء بنت عمیس سے روایت کیا ہے اور امام ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے اور ان دونوں حدیثوں کی سند حسن ہے اور امام طحاوی اور قاضی عیاض نے کو صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث کو امام طبرانی اور امام حاکم نے اور امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے۔ امام طحاوی نے کہا : احمد بن صالح کہتے تھے کہ جو شخص علم حاصل کرنا چاہتا ہو اس کو حضرت اسماء بنت عمیس (رض) کی اس حدیث کو نہیں چھوڑنا چاہیے ‘ کیونکہ وہ نبوت کی بہت بڑی علامت ہے۔ یہ حدیث متصل ہے اور اس کے تمام روای ثقہ ہیں اور ابن جوزی نے جو اس پر کلام کیا ہے ‘ اس کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔ (کشف الخفاء ومزیل الالباس ‘ ج ١ ص ٢٢٠‘ مطبوعہ مکتبہ الغزالی ‘ دمشق) 

اس حدیث پر مزید بحث وتمحیص ہم نے شرح صحیح مسلم جلد خامس میں بیان کردی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 26

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.