اِنِّىۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَ بِاِثۡمِىۡ وَ اِثۡمِكَ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ‌ۚ وَذٰ لِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ‌ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 29

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنِّىۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَ بِاِثۡمِىۡ وَ اِثۡمِكَ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ‌ۚ وَذٰ لِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

میں چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ تیرے ہی ذمہ ہو اور تو جہنمیوں سے ہوجائے اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ہابیل نے کہا) میں چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ تیرے ہی ذمہ لگے۔ (المائدہ : ٢٩) 

ہابیل کے اس قول کی توجیہہ کہ میرا اور تیرا گناہ تیرے ذمہ لگے :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

احنف بن قیس بیان کرتے ہیں کہ میں اس شخص (حضرت علی) کی مدد کے لیے روانہ ہوا ‘ میری حضرت ابوبکرہ سے ملاقات ہوئی ‘ انہوں نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا : میں اس شخص کی مدد کے لیے جارہا ہوں۔ انہوں نے کہا واپس جاؤ‘ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب دو مسلمان تلواروں سے مقابلہ کرتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جائیں گے۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ تو قاتل ہے ‘ مقتول کا کیا سبب ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ بھی تو اپنے حریف کے قتل پر حریص تھا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٣١) 

گویا کہ ہابیل نے یہ ارادہ کیا کہ میں تمہارے قتل پر حریص نہیں ہوں۔ پس وہ گناہ جو میرے حریص ہونے کی صورت میں مجھے لاحق ہوتا ‘ میرا ارادہ ہے کہ وہ بھی تم کو لاحق ہو ‘ کیونکہ صرف تم میرے قتل پر حریص ہو۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے ؟ صحابہ (رض) نے کہا ہم میں مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس نہ پیسے ہوں اور نہ سامان ہو۔ آپ نے فرمایا میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نمازیں ‘ روزے اور زکوۃ لے کر آئے اور اس نے کسی کو گالی دی ہو ‘ کسی پر تہمت لگائی ہو اور کسی کا مال کھایا ہو اور کسی کا خون بہایا ہو ‘ اور کسی کو مارا ہو تو اس کو اس کی نیکیوں میں سے دیا جائے گا ‘ اور اگر ان کے حقوق پورے ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں تو ان کے گناہ اس شخص پر ڈال دیئے جائیں گے۔ پھر اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : المسلسل ٢٥٨١‘ رقم الحدیث : الکتاب ٥٩) 

اس حدیث کے اعتبار سے ہابیل کے قول کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جب تم مجھے قتل کرو گے تو تمہاری نیکیاں مجھے مل جائیں گی ‘ اور پھر بھی حق پورا نہ ہوا تو میرے گناہ تم پر ڈال دیئے جائیں گے ‘ سو تم میرے اور اپنے گناہوں کے ساتھ لوٹوگے اور دوزخ میں ڈال دیئے جاؤ گے۔ نیز قرآن مجید ہے : 

(آیت) ” ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم “۔ (العنکبوت : ١٣) 

ترجمہ : اور وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کئی اور بوجھ۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو بھی ظلما قتل کیا جائے گا ‘ تو اس کے خون (کے گناہ) کا ایک حصہ پہلے ابن آدم پر ہوگا ‘ کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کو ایجاد کیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٣٤‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٧٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٨٢‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٩٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ٢٦١٦‘ مسنداحمد ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٣٠‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٧١٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٩ ص ٣٦٤‘ سنن کبری ‘ ج ٨‘ ص ١٥) 

ابو الحسن بن کیسان سے سوال کیا گیا ایک مسلمان یہ ارادہ کس طرح کرسکتا ہے کہ اس کا بھائی گنہ گار ہو اور دوزخ میں داخل ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہابیل نے یہ ارادہ اس وقت کیا تھا جب قابیل ان کی طرف قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھا چکا تھا۔ پھر ان سے سوال کیا گیا ہابیل نے یہ کیسے کہا : میرے گناہ اور تمہارے گناہ ‘ جبکہ انہیں ظلما قتل کیا گیا تھا اور انہوں نے گناہ نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ میرے قتل کا گناہ اور تمہارا وہ گناہ جس کی وجہ سے تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی ‘ تم ان دونوں گناہوں کا بوجھ اٹھاؤ گے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ تم مجھ کو قتل کرنے کا گناہ اٹھاؤ گے اور مجھ پر زیادتی کرنے کا گناہ اٹھاؤ گے۔ (الجامع الاحکام القرآن ‘ ج ٣ ص ٩٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 29