فَبَـعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِىۡ الۡاَرۡضِ لِيُرِيَهٗ كَيۡفَ يُوَارِىۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ‌ؕ قَالَ يَاوَيۡلَتٰٓى اَعَجَزۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِثۡلَ هٰذَا الۡغُرَابِ فَاُوَارِىَ سَوۡءَةَ اَخِىۡ‌ۚ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 31

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَبَـعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِىۡ الۡاَرۡضِ لِيُرِيَهٗ كَيۡفَ يُوَارِىۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ‌ؕ قَالَ يَاوَيۡلَتٰٓى اَعَجَزۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِثۡلَ هٰذَا الۡغُرَابِ فَاُوَارِىَ سَوۡءَةَ اَخِىۡ‌ۚ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کرید رہا تھا تاکہ وہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی لاش چھپائے ‘ اس نے کہا ہائے افسوس ! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا ‘ پس وہ پچھتانے والوں میں سے ہوگیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کرید رہا تھا تاکہ وہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی لاش چھپائے ‘ اس نے کہا ہائے افسوس ! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا ‘ پس وہ پچھتانے والوں میں سے ہوگیا۔ (المائدہ : ٣١) 

قابیل کا انجام : 

امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ضحاک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا قابیل ہابیل کو ایک جراب (چرمی تھیلا) میں ڈال کر ایک سال تک اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتا رہا ‘ اور اس کی سمجھ میں نہیں آہا تھا کہ اس لاش سے کس طرح گلو خلاصی حلاصی حاصل کرتے ‘ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کرید رہا تھا ‘ پھر اس نے زمین میں اس مردہ کوے کو دفن کردیا۔ تب اس نے کہا ہائے افسوس ! میں اس کوے جیسا بھی نہیں ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا۔ پس وہ پچھتانے والوں میں سے ہوگیا۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٢٦٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : 

قابیل کا پچھتانا اس کی توبہ نہیں تھی۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اس پر افسوس کر رہا تھا کہ اس کے دفن کرنے کے طریقہ کو نہیں جان سکا تھا ‘ اس کے قتل کرنے پر افسوس نہیں کیا تھا ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اگر وہ اس کے قتل پر نادم ہوتا تو یہ ندامت توبہ ہوجاتی ‘ وہ اس وجہ سے نادم تھا کہ اس قتل سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ‘ ماں باپ ‘ بہن اور بھائی ناراض ہوئے اور مقصود حاصل نہ ہوا ‘ یا اس وجہ سے کہ ایک سال تک بھائی کی لاش دفن نہ ہوسکی۔ 

روایت ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حواء (علیہ السلام) ہابیل کی قبر پر گئے اور کئی دن تک روتے رہے ‘ پھر قابیل ایک پہاڑ کی چوٹی پر گیا ‘ وہاں ایک بیل نے اس کو سینگھ مار کر نیچے گرا دیا اور وہ مرگیا۔ ایک روایت یہ ہے حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس کے خلاف دعا کی ‘ تو وہ زمین میں دھنس گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ ہابیل کو قتل کرنے کے بعد جنگلوں میں چلا گیا ‘ وہ کسی جانور کو بلندی سے زمین پر گرا دیتا اور اس کے مرنے کے بعد اس کو کھا لیتا ‘ چوٹ کھانے سے مرا ہوا جانور اس دن سے حرام کردیا گیا۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا بنو آدم (علیہ السلام) میں سے سب سے پہلے جہنم میں جانے والا قابیل ہے۔ اس ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنو آدم میں جو شخص سب سے پہلے فوت ہوا ‘ وہ ہابیل تھا۔ اسی وجہ سے قابیل اس کے دفن کرنے کے طریقہ کو نہیں جان سکا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ٩٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

ان آیات سے معلوم ہوا کہ حسد سب سے بڑی خرابی اور بہت بڑا جرم ہے۔ قابیل نے اس حسد کی آگ کی وجہ سے اپنے سگے بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔ (آیت ٢٩) میں ہے۔ ‘ ہابیل نے قابیل سے کہا اور تو جہنمیوں سے ہوجائے اور یہ ظالموں کی سزا ہے اس سے معلوم ہوا کہ قابیل معذب ہوگا۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ ظالم تھا کافر نہیں تھا۔ آیت ٢٨۔ ٢٧ میں ‘ ہابیل نے قابیل کو قتل کرنے سے باز رہنے کے تین محرکات بیان کیے۔ اول : یہ کہ وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں ‘ ثانی : یہ کہ قتل کرنے سے پہلے اور قتل کے گناہ قابیل کے ذمہ لگیں اور وہ دوزخ کا سزاوار ہو ‘ اور ثالث : یہ کہ وہ ظلم کرنا نہیں چاہتے۔ سو جو شخص بھی کسی گناہ سے باز رہنا چاہے ‘ اس کو گناہ سے باز رکھنے کے یہی تین محرکات ہوں گے۔ خوف خدا ‘ دوزخ کی سزا اور ارتکاب ظلم سے بچنا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 31

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.