فَطَوَّعَتۡ لَهٗ نَفۡسُهٗ قَـتۡلَ اَخِيۡهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 30

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَطَوَّعَتۡ لَهٗ نَفۡسُهٗ قَـتۡلَ اَخِيۡهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

تو اس نے اپنے بھائی کے قتل کا منصوبہ بنایا سو اس کو قتل کردیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو اس نے اپنے بھائی کے قتل کا منصوبہ بنایا سو اس کو قتل کردیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔ (المائدہ : ٣٠) 

قابیل کے قتل کرنے کی کیفیت : 

امام محمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج نے بیان کیا کہ جس وقت ہابیل بکریاں چرا رہے تھے تو قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا۔ قابیل ‘ ہابیل کے پاس گیا اور اس کو یہ سمجھ نہیں آسکا کہ وہ اس کو کس طرح قتل کرے۔ اس نے ہابیل کی گردن مروڑی اور اس کے سرکے بالوں کو پکڑ لیا ‘ تب شیطان آیا ‘ اس نے کسی جانور یا پرندے کو پکڑا اس کا سر ایک پتھر پر رکھا ‘ پھر دوسرا پتھر اس کے سر پردے مارا ‘ قابیل دیکھ رہا تھا ‘ اس نے بھی اسی طرح ہابیل کو قتل کردیا۔ 

امام ابن جریر نے کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے یہ خبر دی ہے کہ ابن آدم نے اپنے بھائی کو قتل کردیا اور یہ خبر چاہیے جتنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتلایا ہے۔ 

(جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٣١ ‘۔ ٣٠ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

ہر نیک اور بدکام کے ایجاد کرنے والوں کو بعد والوں کے عمل سے حصہ ملتا رہتا ہے : 

ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو بھی ظلما قتل کیا جائے گا ‘ تو اس کے خون (کے گناہ) کا ایک حصہ پہلے ابن آدم پر ہوگا ‘ کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کو ایجاد کیا۔ اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جو شخص کسی برائی کا موجد ہو تو قیامت تک اس برائی کرنے والوں کے گناہ میں اس کا بھی حصہ ہوگا ‘ اسی طرح شیطان وہ پہلا شخص اور تکبر کرنے والوں کے گناہوں میں شیطان کا بھی حصہ ہوگا۔ اسی طرح جو شخص دین میں کسی بدعت سیئہ کو نکالے ‘ جیسے رافضیوں نے صحابہ کو برا کہنے اور ماتم کرنے کو ایجاد کیا اور اس کو دین میں داخل کرلیا اور کار ثواب قرار دیا ‘ ان کا بھی یہی حال ہے اور جس نے اسلام میں کسی اچھے اور پسندیدہ طریقہ کی ابتداء کی تو قیامت تک اس نیک کام کرنے والوں کی نیکیوں میں اس کا حصہ ہوگا۔ جیسے حضرت عمر (رض) نے رمضان کی تمام راتوں میں باجماعت تراویح ابتداء کی اور اس میں قرآن مجید پڑھوانے کا اہتمام کیا۔ حضرت عثمان غنی (رض) نے جمعہ کے دن خطیب کے سامنے دی جانے والی اذان سے پہلے لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ایک اور اذان کا اضافہ کیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مسجد میں محراب بنانے کی ابتداء کی۔ حجاج بن یوسف نے قرآن مجید پر اعراب لگائے۔ مروجہ محفل میلاد کی ابتداء اربل کے بادشاہ ابو سعید مظفر متوفی ٦٣٠ ھ نے کی ‘ اور اذانوں کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ وسلام پڑھنے کی ابتداء ٧٨١ ھ میں سلطان صلاح الدین ابو المظفر یوسف بن ایوب کے امر سے ہوئی۔ اس سے پہلے ایک بادشاہ کے بھانجہ پر سلام پڑھا جاتا تھا۔ ” السلام علی الامام الظاھر “۔ سلطان ابو المظفر نے یہ سلسلہ موقوف کرایا ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ وسلام پڑھنے کے طریقہ کو شروع کرایا۔ علامہ سخاوی ‘ علامہ ابن حجر مکی ‘ علامہ علاء الدین حصکفی ‘ علامہ طحطاوی اور شامی نے اس کو بدعت حسنہ قرار دیا۔ یہ تمام نیکی کے کام ہیں اور ہر نیکی ایجاد کرنے والوں کو قیامت تک کی جانے والی نیکیوں اور ہر برائی ایجاد کرنے والے قیامت تک کی جانے والی برائیوں میں سے اپنا اپنا حصہ ملتا رہے گا ‘ حدیث میں ہے : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اسلام میں نیک طریقہ ایجاد کیا اور اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کیا گیا ‘ اس کے لیے بھی اس پر عمل کرنے والوں کی مثل اجر لکھا جائے گا ‘ اور ان کے اجروں میں سے کوئی کمی نہیں ہوگی ‘ اور جس نے اسلام میں کسی برے طریقہ کو ایجاد کیا اور اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا ‘ اس کے لیے بھی اس پر عمل کرنے والوں کی مثل گناہ لکھا جائے گا اور ان کے گناہوں میں سے کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٧٤‘ ٢٦٧٣‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٠٩‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٨٣‘ سنن ابن ماجہ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٧‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٧‘ مسند احمد ‘ ج ١٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٠٥٧‘ ج ٩“ رقم الحدیث :‘ ١٠٥٠٤‘ بتحقیق احمد شاکر ‘ سنن دارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥١٣) 

نیز امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو یہ نصیحت کی مجھے تم پر جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے ‘ وہ گمراہ کرنے والے ائمہ ہیں۔ (مسند احمد ‘ ص ٤١١‘ طبع قدیم ‘ بیروت ‘ علامہ احمد شاکر نے کہا ‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مسند احمد ‘ بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ١٨‘ رقم الحدیث : ٢٧٣٥٨‘ مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ) 

تاہم ہر برائی کی ابتداء کرنے والے کو بعد کے عمل کرنے والوں کی مثل گناہ اس وقت ہوگا جب وہ اس گناہ سے توبہ نہ کرے ‘ اور اگر وہ اس گناہ اس گناہ سے توبہ کرلے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) پر یہ اعتراض نہیں ہوگا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے منع کرنے کے باوجود انسانوں میں سے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کی ‘ کیونکہ قرآن مجید نے خود شہادت دی ہے ‘ کہ حضرت آدم (علیہ السلام) بھول گئے تھے۔ ”(آیت) ” فنسی ولم نجدلہ عزما “ (طہ : ١١٥) ” سو وہ بھول گئے اور ہم نے ان کی نافرمانی کا قصد نہیں پایا اس کے باوجود حضرت آدم (علیہ السلام) نے توبہ کرلی تھی اور بھولنے والے اور توبہ کرنے والے سے مواخذہ نہیں ہوتا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سب سے پہلے توبہ کرنے والے ہیں اور بعد کے تائبین کے عمل سے ان کو حصہ ملتا رہے گا۔ 

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حسد بہت سنگین نفسانی مرض ہے۔ اس حسد کی وجہ سے قابیل نے ہابیل کے ساتھ خونی رشتہ کا لحاظ نہیں کی اور اپنے سگے بھائی کو قتل کردیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 30

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.