کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 3 رکوع 10 سورہ آل عمران آیت نمبر10 تا 20

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ(۱۰)

بے شک وہ جو کافر ہوئے (ف۲۱) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ سے انہیں کچھ نہ بچاسکیں گے اور وہی دوزخ کے ایندھن ہیں

(ف21)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منحرف ہو کر

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَۙ-وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۚ-فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْؕ-وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۱۱)

جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا طریقہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑا اور اللہ کا عذاب سخت

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَؕ-وَ بِئْسَ الْمِهَادُ(۱۲)

فرما دو کافروں سے کوئی دم جاتا ہے کہ تم مغلوب ہو گے اور دوزخ کی طرف ہان کے جاؤ گے (ف۲۲) اور وہ بہت ہی برُا بچھونا

(ف22)

شان نزول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب بدر میں کفار کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکست دے کر مدینہ طیبہ واپس ہوئے تو حضور نے یہود کو جمع کرکے فرمایاکہ تم اللہ سے ڈرو اور اس سے پہلے اسلام لاؤ کہ تم پر ایسی مصیبت نازل ہو جیسی بدر میں قریش پر ہوئی تم جان چکے ہو میں نبی مرسل ہوں تم اپنی کتاب میں یہ لکھا پاتے ہو اس پر انہوں نے کہا کہ قریش تو فنونِ حرب سے نا آشنا ہیں اگر ہم سے مقابلہ ہوا تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں خبر دی گئی کہ وہ مغلوب ہوں گے اور قتل کئے جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے ان پر جِزیہ مقرر ہوگا، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز میں چھ سو کی تعداد کو قتل فرمایا اور بہتوں کو گرفتار کیا اور اہلِ خیبر پر جِزیہ مقرر فرمایا۔

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَاؕ-فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِؕ-وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ(۱۳)

بے شک تمہارے لیے نشانی تھی (ف۲۳) دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے (ف۲۴) ایک جتھا(گروہ) اللہ کی راہ میں لڑتا (ف۲۵) اور دوسرا کافر (ف۲۶) کہ انہیں آنکھوں دیکھا اپنے سے دُونا سمجھیں اور اللہ اپنی مدد سے زور دیتا ہے جسے چاہتا ہے (ف۲۷) بے شک اس میں عقلمندوں کے لیے ضرور دیکھ کر سیکھنا ہے

(ف23)

اس کے مخاطب یہود ہیں اور بعض کے نزدیک تمام کفار اور بعض کے نزدیک مومنین (جمل)

(ف24)

جنگ بدر میں ۔

(ف25)

یعنی نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب ان کی کل تعداد تین سو تیرہ تھی ستتّر مہاجر اور دو سو چھتیس انصار مہاجرین کے صاحبِ رابیت حضرت علی مرتضےٰ تھے اور انصار کے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہمااس کل لشکر میں دو گھوڑے ستر اونٹ اور چھ زرہ آٹھ تلواریں تھیں اور اس واقعہ میں چودہ صحابہ شہید ہوئے چھ مہاجر اور آٹھ انصار

(ف26)

کفار کی تعداد نو سو پچاس تھی ان کاسردار عتبہ بن ربیعہ تھا اور انکے پاس سو(۱۰۰) گھوڑے تھے اورسات سو اونٹ اور بکثرت زرہ اور ہتھیار تھے (جمل)

(ف27)

خواہ اس کی تعداد قلیل ہی ہو اور سروسامان کی کتنی ہی کمی ہو۔

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِؕ-ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ(۱۴)

لوگوں کے لیے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت (ف۲۸) عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کیے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے (ف۲۹) اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا (ف۳۰)

(ف28)

تاکہ شہوت پرستوں اور خدا پرستوں کے درمیان فرق و امتیاز ظاہر ہو جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا اِنَّا جَعَلْنَامَاعَلَی الاَرۡضِ زِیْنَۃً لَّھَالِنَبْلُوَھُمْ اَیُّھُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ۔

(ف29)

اس سے کچھ عرصہ نفع پہنچتا ہے پھر فنا ہوجاتی ہے انسان کو چاہئے کہ متاع دنیا کو ایسے کا م میں خرچ کرے جس میں اس کی عاقبت کی درستی اور سعادتِ آخرت ہو۔

(ف30)

جنّت تو چاہیٔے کہ اس کی رغبت کی جائے اور دُنیاۓناپائیدار کی فانی مرغوبات سے دل نہ لگایا جائے۔

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ(۱۵)

تم فرماؤ کیا میں تمہیں اس سے (۳۱) بہتر چیز بتادوں پرہیز گاروں کے لیے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور ستھری بیبیاں (ف۳۲)اور اللہ کی خوشنودی (ف۳۳) اور اللہ بندوں کو دیکھتا ہے (ف۳۴)

(ف31)

متاع دنیا سے۔

(ف32)

جو زنانہ عوارض اور ہر ناپسند و قابلِ نفرت چیز سے پاک۔

(ف33)

اور یہ سب سے اعلیٰ نعمت ہے۔

(ف34)

ا ور ان کے اعمال و احوال جانتا اور ان کی جزا دیتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ(۱۶)

وہ جو کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے تو ہمارے گناہ معاف کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷)

صبر والے (ف۳۵) اور سچے (ف۳۶) اور اَدب والے اور راہ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے (ف۳۷)

(ف35)

جو طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کریں اور گناہوں سے باز رہیں۔

(ف36)

جن کے قول اور ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوں۔

(ف37)

اس میں آخر شب میں نماز پڑھنے والے بھی داخل ہیں اور وقت سحر کے دعا و استغفار کرنے والے بھی یہ وقت خلوت واجابت دعا کا ہے۔ حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے فرزند سے فرمایا کہ مُرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سحر سے ندا کرے اور تم سوتے رہو

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىٕمًۢا بِالْقِسْطِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ(۱۸)

اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۳۸) اور فرشتوں نے اور عالموںنے (ف۳۹) انصاف سے قائم ہو کر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا

(ف38)

شان نزول احبار شام میں سے دو شخص سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب انہوں نے مدینہ طیبہ دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ نبی آخر الزماں کے شہر کی یہی صفت ہے ، جو اس شہر میں پائی جاتی ہے جب آستانہ اقدس پر حاضر ہوئے تو انہوں نے حضور کے شکل و شمائل توریت کے مطابق دیکھ کر حضور کو پہچان لیا اور عرض کیا آپ محمد ہیں حضور نے فرمایا ہاں،پھر عرض کیا کہ آپ احمد ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فرمایا ہاں، عرض کیا ہم ایک سوال کرتے ہیں اگر آپ نے ٹھیک جواب دے دیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے فرمایا سوال کرو انہوں نے عرض کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے بڑی شہادت کون سی ہے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس کو سن کر وہ دونوں حِبر مسلمان ہوگئے حضرت سعید بن جُبَیْر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کعبہ معظمہ میں تین سو ساٹھ بت تھے جب مدینہ طیبہ میں یہ آیت نازل ہوئی تو کعبہ کے اندر وہ سب سجدہ میں گر گئے۔

(ف39)

یعنی انبیاء و اولیاء نے ۔

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫-وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(۱۹)

بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے (ف۴۰) اور پھوٹ میں نہ پڑے کتابی (ف۴۱) مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا (ف۴۲) اپنے دلوں کی جلن سے (ف۴۳) اور جو اللہ کی آیتوں کا منکر ہو تو بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

(ف40)

اس کے سوا کوئی اور دین مقبول نہیں یہود و نصارٰی وغیرہ کفار جو اپنے دین کو افضل و مقبول کہتے ہیں اس آیت میں ان کے دعوٰے کو باطل کردیا۔

(ف41)

یہ آیت یہود و نصارٰی کے حق میں وارد ہوئی جنہوں نے اسلام کو چھوڑا اور انہوں نے سیّد انبیاء محمد مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت میں اختلاف کیا۔

(ف42)

وہ اپنی کتابوں میں سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت دیکھ چکے اور انہوں نے پہچان لیا کہ یہی وہ نبی ہیں جن کی کتبِ الٰہیہ میں خبریں دی گئی ہیں۔

(ف43)

یعنی ان کے اختلاف کا سبب ان کا حسد اور منافع دنیویہ کی طمع ہے۔

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِؕ-وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْؕ-فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْاۚ-وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠(۲۰)

پھر اے محبوب اگر وہ تم سے حجت کریں تو فرمادو میں اپنامنہ اللہ کے حضور جھکائے ہوں اور جو میرے پیرو ہوئے (ف۴۴) اور کتابیوں اور اَن پڑھوں سے فرماؤ (ف۴۵)کیا تم نے گردن رکھی (ف۴۶) پس اگر وہ گردن رکھیں جب تو راہ پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو تم پر تو یہی حکم پہنچادینا ہے (ف۴۷) اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے

(ف44)

یعنی میں اور میرے متبعین ہمہ تن اللہ تعالےٰ کے فرمانبردار اور مطیع ہیں ہمارا دین دینِ توحید ہے جس کی صحت تمہیں خود اپنی کتابوں سے بھی ثابت ہو چکی ہے تو اس میں تمہارا ہم سے جھگڑا کرنابالکل باطل ہے

(ف45)

جتنے کافر غیر کتابی ہیں وہ اُمیّین میں داخل ہیں انہیں میں سے عرب کے مشرکین بھی ہیں۔

(ف46)

اور دین اسلام کے حضور سر نیاز خم کیا یا باوجود براہین بیّنہ قائم ہونے کے تم ابھی تک اپنے کفر پر ہو یہ دعوت ِ اسلام کا ایک پیرایہ ہے اور اس طرح انہیں دینِ حق کی طرف بلایا جاتا ہے

(ف47)

وہ تم نے پورا کر ہی دیا اس سے انہوں نے نفع نہ اٹھایا تو نقصان میں وہ رہے اس میں حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکین خاطر ہے کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے سے رنجیدہ نہ ہوں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.