استقبال رمضان کے حوالے سے چند گزارشات

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ

وَ عَلٰی آلِکَ وَ اَصْحَابِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہِ ﷺ

اللہ عزوجل کا بے پناہ احسان ہے اور اس کا شکر ہے کہ اس نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کے صدقہ و طفیل ہمیں بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں، اگر ہم اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہیں تو نہیں کر سکیں گے۔ جیسا کہ خود اسی کا فرمان ہے ’’وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لاَ تُحْصُوْہَا‘‘ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو تم نہیں کر سکتے۔

اس سے پتہ چلا کہ رب قدیر جل جلالہٗ نے ہمیں بے حساب و کتاب نعمتیں عطا فرمائیں، بن مانگے اور بن محنت کے ، یہ اللہ عزوجل ہی کی ذات ہے کہ نعمتِ کثیرہ سے ہمیں نوازے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی نعمتوں کا شکریہ نعمتوں کی قدر کے ذریعہ ادا کریں۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! آج ماہِ رمضان المبارک جو اللہ عز وجل کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے اس کے استقبال اور گزارنے کے حوالے سے کچھ باتیں لکھنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں تاکہ ہم اللہ عزوجل کی عظیم نعمت ماہ رمضان المبارک کی برکتوں سے مالا مال ہو سکیں اور جب اس نعمت کے حوالے سے قیامت میں سوال کیا جائے تو ہم ماہ رمضان المبارک کے روزوں کی شفاعت کے حقدار بن جائیں۔

آئیے سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کے نام اور اس کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ مقصدِ رمضان المبارک ہماری فہم میں آسکے۔

ماہِ رمضان کی وجہ تسمیہ:

’’رمضان‘‘ ’’رمض‘‘ کا مصدر ہے، رمض کا معنی ہے ’’جلنا‘‘ مفسرینِ کرام نے رمضان کی چند وجوہ تسمیہ بتائی ہیں۔

(۱) رمضان کو رمضان اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں بھوک اور پیاس کی وجہ سے جگر کمزور ہو جاتا ہے اور جل جاتا ہے۔

(۲) روزہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔

(۳) جب اس ماہ کے نام رکھنے کی باری آئی تو سخت گرمی تھی اس وجہ سے اس کا نام رمضان رکھا گیا۔ جیسا کہ ربیع الاول، ربیع الثانی کے جس وقت نام رکھے گئے اس وقت موسم بہار تھا۔

(۴) ’’رمضان‘‘ اللہ تعالیٰ کا ایک نام ہے لہٰذا اس لحاظ سے اسے رمضان نہیں بلکہ ’’شہر‘‘ کی اس کی جانب اضافت کر کے ’’شہر رمضان‘‘ یعنی اللہ کا مہینہ کہنا چاہئے۔ جیسا کہ مروی ہے ’’وَ لاَ تَقُوْلُوْا جَائَ رَمَضَانُ وَ ذَہَبَ رَمَضَانُ‘‘ یہ نہ کہو کہ رمضان آیا، رمضان گیا بلکہ یہ کہو کہ ماہِ رمضان آیا، ماہِ رمضان گیا۔

رمضان کے پانچ حروف:

بزرگانِ دین نے فرمایا کہ رمضان میں پانچ حروف ہیں۔ (ر) سے رضائے الٰہی، (م) سے مغفرتِ الٰہی، (ض) سے ضمانتِ الٰہی، (الف) سے الفتِ الٰہی، (ن) سے نوال و عطائے الٰہی مراد ہے۔ گویا جس نے رمضان المبارک میں عبادت کیا وہ ان ساری چیزوں کا حقدار ہے۔

دوسرے مہینوں پر ماہِ رمضان کی فضیلت

دوسرے مہینوں پر ماہِ رمضان المبارک کی فضیلت چند اعتبار سے ہے۔

٭ قرآنِ مقدس میں یہ تو مذکور ہے کہ مہینے بارہ ہیں اور یہ بھی مذکور ہے کہ ان میں سے چار حرمت والے ہیں لیکن صرف ماہِ رمضان المبارک کا نام قرآنِ مقدس میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے باقی کسی بھی مہینے کا نام صراحت کے ساتھ مذکور نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ‘‘ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا۔

٭ رمضان میں قرآنِ مقدس کا نزول ہوا، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں ہے۔

٭ اسی ماہ میں شبِ قدر ہے، جس کا قیام ہزار مہینوں کے قیام سے بہتر ہے۔

٭ ہر ماہ میں عبادت کے لئے وقت مقرر ہے مگر اس ماہ میں روزہ دار کا لمحہ لمحہ عبادت میں شمار ہوتا ہے۔

٭ اس ماہ میں نیکیوں کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔

٭ نفل کا ثواب فرض کے برابراور فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر ہوجاتا ہے۔

٭ اللہ تعالیٰ اس ماہ میں اپنے بندوں پر خصوصی توجہ فرماتا ہے۔

٭ جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔

٭ جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں۔

٭ آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور بندوں کی جائز دعائیں بابِ اجابت

تک بالکل آسانی کے ساتھ پہونچ جاتی ہیں۔

٭ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے اسی ماہ کی ایک تاریخ کو نازل ہوئے۔

٭ توریت شریف اسی ماہ کی ۶؍تاریخ کو نازل ہوئی۔

٭ انجیل شریف اسی ماہ کی ۱۳؍تاریخ کو نازل ہوئی۔

٭ قرآنِ مقدس اسی ماہ کی چوبیس تاریخ کو نازل ہوا۔

٭ خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال اسی ماہ کی ۳؍تاریخ کو ہوا۔

٭ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال اسی ماہ کی ۱۷؍تاریخ کو ہوا۔

٭ جنگِ بدر اسی ماہ کی ۱۷؍تاریخ کو ہوئی۔

٭ فتحِ مکہ اسی ماہ کی ۲۰؍تاریخ کو ہوئی۔

٭ حضرت علی مشکل کشا شیرِ خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اسی ماہ کی ۲۱؍تاریخ کو ہوئی۔

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.