اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جو

الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :452

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جو میدانی زمین میں ہو اور اس پر چوپائے اور درندے آتے ہوں فرمایا جب پانی دوقلے ہوتو گندگی کو نہیں اٹھاتا(احمد،ابوداؤد، ترمذی،نسائی، دارمی،ابن ماجہ)ابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے کہ وہ نجس نہیں ہوتا ۱؎

شرح

۱؎ یہ حدیث امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل ہے کہ دو مٹکے پانی گندگی پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا۔مٹکوں سے حجر کے مٹکے مراد لیتے ہیں جو ڈھائی مشک کا ہوتا ہے او ر شرعی پچاس من کا۔روافض بھی یہی کہتے ہیں۔ہمارے امام اعظم اس حدیث پر چند طرح گفتگو فرماتے ہیں:ایک یہ کہ حدیث صحیح نہیں حتی کہ امام بخاری کے استاد علی ابن مدینی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔دوسرے یہ کہ حدیث اجماع صحابہ کے خلاف ہے کہ ایک بار چاہ زمزم میں ایک حبشی گر کر مر گیا تو حضرت ابن عباس و ابن زبیر نے تمام صحابہ کی موجودگی میں کنواں پاک کرنے کا حکم دیا کسی نے انکار نہ کیا حالانکہ چاہ زمزم میں ہزاروں قلے پانی تھا۔تیسرے یہ کہ لفظ قلہ مشترک ہے جس کے بہت معانی ہیں۔چنانچہ پہاڑ کی چوٹی،اونٹ کا کوہان،سر کی کھوپڑی،بڑے مٹکے سب کو قلہ کہا جاتا ہے۔پھر مٹکے کی مقدار حدیث میں معین نہیں،اتنے اجمال کے ہوتے ہوئے اس حدیث پر عمل کیونکر کیا جاتا ہے۔چوتھے یہ کہ یہ حدیث امام شافعی کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ اگر قلتین میں اتنی گندگی گر جائے جس سے پانی کی بو،مزہ یا رنگ بدل جائے تو پانی نجس ہوجاتا ہے،مگر اس حدیث کے اطلاق سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی نجس نہیں ہوتا۔پانچواں یہ کہ یہ حدیث اس معنی سے دوسری احادیث صحیحہ کے سخت خلاف ہوگی۔حضور نے فرمایا کہ ٹھہرے پانی میں پیشاب نہ کرو،نیز ارشاد فرمایا کہ جب کتا پانی کے برتن میں منہ ڈال دے تو پانی ناپاک اور برتن بھی پلید ہوگیا۔ان دونوں حدیثوں میں قلتین کا استثناء نہیں کیا گیا۔چھٹے یہ کہ لَمْ یَحْمِلْ کے معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ قلتین میں پانی نجاست کو برداشت نہیں کرتا،یعنی نجس ہوجاتا ہے،رب فرماتا ہے:”مَثَلُ الَّذِیۡنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوۡہَا”۔عرف میں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص صدمہ نہیں اٹھا سکتا۔ساتویں یہ کہ اس حدیث کے معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جب جاری پانی کو دو انسانوں کے قد کے برابر بہنے کا موقع مل جائے تو گندگی پڑنے سے ناپاک نہیں ہوگا،وہ ماءجاری ہے اس کی طرح کہ ایک گڑھے سے پانی آرہا ہے دوسرے میں گررہا ہے دونوں گڑھوں کے درمیان دو قد انسانی قریبًا دس فٹ کا فاصلہ ہے تو چونکہ یہ پانی جاری ہے لہذا گندگی سے ناپاک نہ ہوگا۔اس صورت میں حدیث پر کوئی اعتراض نہ پڑے گا لہذا مذہب امام اعظم رحمۃاللہ علیہ نہایت قوی ہے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "جاءالحق” حصہ دوم میں دیکھو۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.