بشارت عظمی :۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور صلی اللہ تعالیٰعلیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے ،اسی مجلس میں سورئہ جمعہ نازل ہوئی ،جب آپ نے اس سورۃ کی آیت :۔آخرین منھم لما یلحقوبہم ۔پڑھی توحاضرین میں سے کسی نے پوچھا ،یارسول اللہ !یہ دوسرے حضرات کون ہیں جوابھی ہم سے نہیں ملے ؟حضور یہ سنکر خاموش رہے ،جب باربار پوچھاگیا تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاندھے پر دست اقدس رکھکر ارشاد فرمایا :۔

لوکان الایمان عندالثریا لنالہ رجل من ھؤلاء۔(الجامع الصحیح للبخاری ۔ تفسیر سورۃ الجمعۃ ۲/ ۷۲۷)

اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو اسکی قوم کے لوگ اسکو ضرور تلاش کرلیں گے ۔

یہ حدیث متعدد سندوں سے مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے ۔جسکا مفہوم ومعنی ایک ہے ۔

علامہ ابن حجر مکی نے حافظ امام سیوطی کے بعض شاگردوں کے حوالے سے لکھاہے کہ ہمارے استاد امام سیوطی یقین کے ساتھ کہتے تھے ۔

اس حدیث کے اولین مصداق صرف امام اعظم ابوحنیفہ ہیں ۔کیونکہ امام اعظم کے زمانے میں اہل فارس سے کوئی بھی آپ کے علم وفضل تک نہ پہونچ سکا۔(تذکرۃ المحدثین۔ مولانا غلام رسول سعیدی ۴۸)

الفضل ماشہدت بہ الاعداء ۔کے بموجب نواب صدیق حسن خاں بھوپالی کو بھی اس امر کا اعتراف کرناپڑا ۔لکھتے ہیں

ہم امام دراں داخل ست ۔(اتحاف النبلاء ۲۲۴)

امام اعظم بھی اس حدیث کے مصداق ہیں۔

امام بخاری کی روایت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت سلمان فارسی کیلئے یہ بشارت نہ تھی کہ آیت میں ،لمایلحقوبہم ،کے بارے میں سوال تھا اورجواب میں آئندہ لوگوں کی نشاندھی کی جارہی ہے ،لہذا وہ لوگ غلط فہمی کا شکارہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حدیث تو حضرت سلمان فارسی کیلئے تھی اوراحناف نے امام اعظم پر چسپاں کردی ۔قارئین غور کریں کہ یہ دیانت سے کتنی بعید بات ہے