اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيۡنَ يُحَارِبُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَسۡعَوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ يُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ يُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ يُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ‌ؕ ذٰ لِكَ لَهُمۡ خِزۡىٌ فِى الدُّنۡيَا‌ وَ لَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 33

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيۡنَ يُحَارِبُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَسۡعَوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ يُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ يُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ يُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ‌ؕ ذٰ لِكَ لَهُمۡ خِزۡىٌ فِى الدُّنۡيَا‌ وَ لَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں ڈاکے ڈالتے ہیں ان کی یہی سزا ہے کہ ان کو چن چن کر قتل کیا جائے یا ان کو سولی دی جائے یا ان کے ہاتھ ایک جانب سے اور پیر دوسری جانب سے کاٹ دیے جائیں یا ان کو (اپنے وطن کی) زمین سے نکال دیا جائے ‘ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ ماسوا ان لوگوں کے جنھوں نے تمہارے ان پر قابوپانے سے پہلے توبہ کرلی سو جان لو کہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔ (المائدہ : ٣٤۔ ٣٣) 

حدود کے کفارہ ہونے میں فقہاء احناف اور فقہاء مالکیہ کا نظریہ : 

اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ دنیا میں سزا پانے کے بعد بھی مجرموں کو آخرت میں عذاب عظیم ہوگا ‘ البتہ ! جو لوگ توبہ کرلیں گے ‘ ان کو آخرت میں عذاب نہیں ہوگا۔ فقہاء احناف نے اسی آیت کے پیش نظریہ کہا ہے کہ حدود بغیر توبہ کے کفارہ نہیں ہوتیں اور حدیث میں جو ہے کہ حدود کفارہ ہوتی ہیں ‘ وہ توبہ کے ساتھ مقید ہے ‘ تاکہ قرآن مجید اور حدیث شریف میں موافقت رہے۔ 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ فقہاء احناف کے نزدیک مطلقا حدود کفارہ نہیں ہوتیں ‘ ہاں اگر مسلمان مجرم اجراء حد سے پہلے توبہ کرلے تو پھر حد اس کے لیے اخروی عذاب سے کفارہ ہوجاتی ہے اور اگر اس نے اجراء حد سے پہلے توبہ نہیں کی تو وہ عذاب اخروی کا مستحق ہوگا۔ (احکام القرآن ج ٢‘ ص ٤١٢‘ مطبوعہ لاہور) 

علامہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ نے لکھا ہے کہ امام مالک کا بھی یہی مذہب ہے۔ (احکام القرآن ج ٣ ص ١٠٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

حدود کے کفارہ ہونے میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ اور احناف کا جواب : 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

جس شخص نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ‘ پھر اس پر حد لگا دی گئی تو وہ حد اس کے گناہ کا کفارہ ہوجاتی ہے۔ (شرح مسلم ‘ ج ٢‘ ص ٧٣‘ مطبوعہ کراچی) 

امام شافعی کا استدلال اس حدیث سے ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبادہ بن صامت (رض) بدری صحابی ہیں اور وہ شب عقبہ کے نقباء میں سے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا تم مجھ سے (ان امور پر) بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے ‘ اور نہ تم چوری کرو گے ‘ اور نہ تم زنا کرو گے ‘ اور نہ تم اپنی اولاد کو قتل کرو گے ‘ اور نہ تم کسی بےقصور پر بہتان باندھو گے ‘ اور نہ کسی نیکی میں نافرمانی کرو گے۔ سو تم میں سے جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا ‘ اس کا اجر اللہ کے ذمہ (کرم پر) ہے ‘ اور جس نے ان میں سے کوئی (ممنوع) کام کرلیا ‘ اور اس کو دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو وہ سزا اس کا کفارہ ہے ‘ اور جس نے ان میں سے کوئی (ممنوع) کام کرلیا ‘ پھر اللہ نے اس کا پر دوہ رکھا تو وہ اللہ کی طرف مغوض ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس کو معاف کر دے ‘ اور اگر وہ چاہے تو اس کو عذاب دے۔ سو ہم نے (ان امور پر) آپ سے بیعت کرلی۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧٨٤‘ ١٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٠٩‘ ٤٣٨١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٤٤‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٧٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٠٣‘ مسند احمد ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٧٩٥‘ مسند حمیدی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٧‘ سنن دارمی ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٣١) 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ حد قائم کرنا مجرم کے گناہ کا کفار ہے۔ خواہ اس نے توبہ نہ کی ہو۔ (فتح الباری ‘ ج ١ ص ٦٨‘ مطبوعہ لاہور) 

علامہ عماد الدین منصور بن الحسن الترشی الکازرونی الشافی المتوفی ٨٦٠ ھ لکھتے ہیں : 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام نووی نے اپنے فتاوی اور شرح صحیح مسلم میں یہ لکھا ہے کہ جب کوئی شخص قصاص میں قتل کردیا جائے تو اس سے آخری عذاب ساقط ہوجاتا ہے۔ تو اس شخص کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم کس طرح ہوگا ؟ تو ہم یہ کہیں گے کہ ڈاکو جب قصاص میں قتل کردیا جائے تو اس سے قتل کا گناہ ساقط ہوجاتا ہے اور مسلمانوں کی جماعت کو ڈرانے ‘ دھمکانے کا گناہ اس کے ذمہ باقی رہتا ہے۔ کیونکہ اس سے مسلمانوں کو جماعت کو ضرر پہنچتا ہے ‘ سو اس کو ڈرانے کی وجہ سے آخرت میں عذاب عظیم ہوگا ‘ اور یہ سزا ہر ڈاکو کے لیے عام ہے۔ لیکن یہ امر حدیث صحیح کے خلاف ہے ‘ جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے کس جرم کا ارتکاب کیا اور اس کو اس جرم کی سزادے دی گی ‘ تو اس کے لیے آخرت میں یہ سزا کفارہ ہوجائے گی ‘ کیونکہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر ڈاکو نے فقط ڈرایا ‘ دھمکایا اور اس کو سزا کے طور پر جلا وطن کردیا گیا ‘ تو اس کو آخرت میں عذاب نہیں ہوگا ‘ لیکن آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس کو آخرت میں عذاب ہوگا ‘ اور اس حدیث کی توجیہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سزا ملنے سے وہ عذاب ساقط ہوجائے گا جس کا تعلق اللہ کے حق سے ہے ‘ اور بندہ کا حق باقی رہے گا اور اس کی آخرت میں سزا ہوگی ‘ کیونکہ جس ڈاکو نے لوگوں کو ڈرایا دھمکایا ‘ اس نے اللہ کی حکم عدولی بھی کی اور بندوں کو بھی نقصان پہنچایا ‘ اور حد جاری کرنے سے اللہ کے حق ضائع کرنے کی تلافی ہوگی ‘ بندوں کے حق کی تلافی نہیں ہوگی۔ سو اس بنا پر آخرت میں عذاب ہوگا۔ (حاشیۃ الکازرونی علی البیضاوی ‘ ج ٢ ص ٣٢١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ) 

علامہ کا زرونی نے نہایت عمدہ توجہیہ کی ہے ‘ لیکن فقہاء شافعیہ کا مذہب یہ ہے کہ حدجاری ہونے کے بعد مطلقا عذاب نہیں ہوگا ‘ جیسا کہ ہم علامہ نووی اور علامہ عسقلانی سے نقل کرچکے ہیں۔ 

علامہ زین الدین ابن نجیم مصری حنفی متوفی ٩٧٠ ھ امام شافعی پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ حد جاری ہونے کے بعد توبہ کے بغیر آیا کوئی شخص گناہ سے پاک ہوجاتا ہے یا نہیں ؟ ہمارے علماء کا مذہب یہ ہے کہ گناہوں سے پاک کرنا حد کے احکام میں سے نہیں ہے۔ پس جب ایک شخص پر حد قائم کی گئی اور اس نے توبہ نہیں کی ‘ تو ہمارے نزدیک اس سے وہ گناہ ساقط نہیں ہوگا۔ ہمارے علماء نے قرآن مجید میں قطاع الطریق کی آیت پر عمل کیا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ذلک لھم خزی فی الدنیا ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم الا الذین تابوا “ یہ ان (ڈاکوؤں) کے لیے دنیا کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے عذاب عظیم ہے ‘ ماسوا ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کرلی۔ اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب کو توبہ سے ساقط کیا ہے ‘ اور اس پر اجماع ہے کہ توبہ سے دنیا کی حد ساقط نہیں ہوتی۔ اس لیے یہ استثناء عذاب آخرت ہی کی طرف راجع ہے ‘ اور وہ جو بخاری کی روایت میں ہے کہ جس شخص نے ان میں سے کوئی گناہ کیا اور اس کو دنیا میں سزا دے دی گئی تو وہ اس کا کفارہ ہے “ تو اس حدیث کو اس صورت پر محمول کرنا واجب ہے ‘ جب اس نے سزا کے وقت توبہ کرلی ہو ‘ کیونکہ حدیث ظنی ہے اور قرآن مجید قطعی ہے اور جب ظنی اور قطعی میں تعارض ہو تو ظنی کو قطعی کے موافق کرنا واجب ہے ‘ اور اس کے برعکس کرنا جائز نہیں ہے۔ (البحر الرائق ج ٥‘ ص ٣۔ ٢‘ مطبوعہ مطبع علمیہ ‘ مصر ‘ ١٣١١ ھ) 

حدود کے کفارہ ہونے میں فقہاء حنبیلہ کا نظریہ : 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : 

مسلمان ڈاکوؤں کی سزا میں اختلاف ہے۔ ہمارے اصحاب کا مذہب یہ ہے کہ توبہ کرنے سے اللہ کی حدود ساقط ہوجاتی ہیں مثلا قتل کرنا ‘ سولی دینا ‘ ہاتھ پیر کاٹنا اور شہر بدر کرنا۔ توبہ کے بعد یہ حدود نافذ نہیں ہوں گی ‘ لیکن انسان کے حقوق توبہ سے ساقط نہیں ہوں گے مثلا مال لوٹا ہے تو واپس لیا جائے گا اور کسی کو زخمی کیا ہے تو اس کو بھی زخمی کیا جائے گا اور یہی امام شافعی کا قول ہے۔ (زادالمیسر ج ٢ ص ‘ ٣٤٧‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

علامہ ماوردی شافعی متوفی ٤٥٠ ھ نے بھی شافعی کا یہی مذہب بیان کیا ہے۔ (النکت والعیون ج ٢‘ ص ٣٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

اگر ڈاکوؤں نے پکڑے جانے سے پہلے توبہ کرلی تو ان سے اللہ کی حدود ساقط ہوجائیں گی لیکن اگر انہوں نے کسی کو قتل کیا ہے یا زخمی کیا ہے یا مال لوٹا ہے تو ان سے بدلہ لیا جائے گا ‘ ماسوا اس کے کہ صاحب حق اس کو معاف کر دے۔ 

اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ اصحاب رائے (فقہاء احناف) اور ابو ثور کا بھی یہی مذہب ہے ‘ اس وجہ سے ڈاکوؤں سے حتمی قتل ‘ ہاتھ پیر کاٹنے اور شہر بدر کرنے کی حد ساقط ہوجائے گی ‘ اور ان پر قتل کرنے ‘ زخمی کرنے اور مال لوٹنے کا بدلہ لیا جائے گا اور اگر انہوں نے پکڑے جانے کے بعد توبہ کی ہے تو ان سے کوئی حد ساقط نہیں ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ماسوا ان لوگوں کے جنہوں نے تمہارے ان کو پکڑنے سے پہلے توبہ کرلی۔ (المائدہ : ٣٤) سو پکڑے جانے والوں پر اللہ تعالیٰ نے حد واجب کردی۔ (المغنی ج ٩ ص ١٢٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) 

حدود کے کفارہ ہونے کے متعلق دو حدیثوں میں تطبیق : 

ہم اس سے پہلے کتب صحاح کے حوالے سے حضرت عبادہ بن الصامت (رض) کی یہ روایت بیان کرچکے ہیں کہ جب مجرم پر حد لگا دی جائے تو وہ اس کے جرم کا کفارہ ہوجاتی ہے ‘ لیکن ایک روایت اس کے خلاف ہے۔ 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں (ازخود) نہیں جانتا کہ تبع نبی تھے یا نہیں اور میں از خود نہیں جانتا کہ ذوالقرنین نبی تھے یا نہیں ‘ اور میں از خود نہیں جانتا کہ حدود ان کے اصحاب کے لیے کفارہ ہیں یا نہیں۔ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور مجھے اس کی کسی علت (ضعف) کا پتا نہیں اور امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (امام ذہبی نے امام حاکم کی موافقت کی ہے) (المستدرک ج ١‘ ص ٣٦‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ ‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ٣٢٩‘ ملتان) 

اس تعارض کا ایک جواب یہ ہے کہ حضرت عبادہ بن الصامت کی حدیث حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ‘ اس لیے ان میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت جس میں مذکور ہے ‘ مجھے پتا نہیں حدود کفارہ ہیں یا نہیں۔ یہ پہلے کا واقعہ ہے، کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) سات ہجری میں فتح خبیر کے وقت اسلام لائے تھے اور حضرت عبادہ بن الصامت کی حدیث جس میں مذکورہ ہے حدود کفارہ ہوتی ہیں ‘ یہ بعد کا واقعہ ہے ‘ کیونکہ یہ بیعت فتح مکہ کے بعد لی گئی تھی ‘ کیونکہ امام مسلم نے اس کے بعد دوسری حدیث (رقم الحدیث : ٤٣٨٢) جو ذکر کی ہے ‘ اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم پر عورتوں کی آیت تلاوت کی (آیت) ” ان لا یشرکن باللہ شیئا “۔ (الممتحنہ ‘: ١٢) اور معجم طبرانی میں تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے اس طرح بیعت لی جس طرح فتح مکہ کے موقع پر بیعت لی تھی۔ اس سے واضح ہوگیا کہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث مقدم ہے اور حضرت عبادہ بن الصامت کی حدیث موخر ہے۔ نیز تیسرا جواب یہ ہے کہ حضرت عبادہ (رض) سے جب عقبہ (رض) اولی کے موقع پر آپ نے بیعت لی تھی ‘ اس وقت تو حدود نازل ہی نہیں ہوئی تھیں۔ اس لیے آپ کا یہ فرمانا جس پر حد جاری ہوگئی وہ اس کا کفارہ ہے ‘ اس موقع کا نہیں ہوسکتا۔ لامحالہ ‘ یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے ‘ جب آپ نے دوسری مرتبہ بیعت لی تھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت جس میں مذکور ہے مجھے پتا نہیں حدود کفارہ ہیں یا نہیں ؟ پہلے کا واقعہ ہے اور بعد میں آپ کو اللہ نے علم عطا فرما دیا اور آپ نے فرمایا حدود کفارہ ہیں ‘ (یعنی بشرط توبہ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 33

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.