امام دارمی ، ابو الجوزاء اوس بن عبد اللہ سے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ

حدثنا أبو النعمان ثنا سعید بن زید ثنا عمرو بن مالک النکری حدثنا أبو الجوزاء أوس بن عبد اللہ قال : قحط أہل المدینۃ قحطا شدیدا فشکوا إلی عائشۃ فقالت انظروا قبر النبی صلی اللہ علیہ و سلم فاجعلوا منہ کووا إلی السماء حتی لا یکون بینہ وبین السماء سقف قال ففعلوا فمطرنا مطرا حتی نبت العشب وسمنت الإبل حتی تفتقت من الشحم فسمی عام الفتق

قال حسین سلیم أسد : رجالہ ثقات وہو موقوف علی عائشۃ

مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلاء ہوگئے تو انہوں نے حضرت عائشہ سے شکایت کی آپ نے فرمایا کہ حضور کی قبر مبارک کے پاس کھڑے ہوجاو اور اس سے ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طر ح کھولو کہ قبر انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ ہو راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا ہی کیا پس بہت بارش ہوئی حتی کہ خوب سبزہ اگ گیا اور اتنے موٹے ہوگئے کہ ایسا لگتا تھا کہ چربی سے پھٹ پڑیں گے ۔لہذا اس سال کا نام عام الفتق (سبزہ و کشادگی کا سال) رکھ دیا گیا

حوالہ جات

الشفاء۔الخصائص الکبری۔مناہل الصفطفی فی تخریج احادیث الشفاء میں اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد لکھا کہ ابن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں بکر بن عبد اللہ مزنی اور بزار نے اپنی مسند میں عبد اللہ بن مسعود سے صحیح اسناد کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے اور اس بات کی تائید علامہ خفاجی اور ملا علی قاری نے الشفاء کی شرح میں کی ہے

ابن جوزی نے اس روایت کو الوفاء باحوال المصطفی میں اور علامہ تقی الدین سبکی نے یہ حدیث شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام میں بکر بن عبداللہ سے روایت کی اور احمد بن عبد الہادی نے الصارم المنکی میں کہا کہ اس کی اسناد صحیح ہیں اور بکر ثقہ تابعین میں سے ہے

ابو نعمان عارم

کانام محمد بن الفضل سدوسی ہے

امام ذہبی میزان الاعتدال میں کہتے ہیں کہ یہ امام بخاری کا شیخ اور حدیثیں یاد رکھنے والا انتہائی راست باز تھا لیکن عمر کے آخرمیں مختلط ہوگیا تھا۔

و قال الدارقطنی: تغیر بآخرۃ ، و ما ظہر لہ بعد اختلاطہ حدیث منکر ، و ہو ثقۃ .

قرأت بخط الذہبی : لم یقدر ابن حبان أن یسوق لہ حدیثا منکرا ، و القول فیہ ما قال الدارقطنی .

وقد أنکر صاحب المیزان قول ابن حبان ہذا ونسبہ إلی التخسیف والتہویر وقال لم یقدر ابن حبان أن یسوق لہ حدیثا منکرا فأین ما زعم.

امام ذہبی لکھتے ہیں کہ امام دار قطنی کہتے ہیں کہ وہ عمر کے آخر حصہ میں مختلط ہوگیا تھا لیکن اختلاط کے بعد اس کسے کوئی منکر حدیث اس سے ظاہر نہیں ہوئی اور وہ ثقہ راوی ہے اور ابن حبان کا یہ کہنا کہ ابو نعمان کی اختلاط کے بعد کئی مناکیر احادیث واقع ہوئی ہیں اس کا مام ذہبی نے رد فرمایا اور لکھا کہ امام ابن حبان ابو نعمان کے مختلط ہوجانے کے بعد ایک منکر حدیث بطور حوالہ کے پیش کرنے سے قاصر رہے

حافظ عراقی نے التقیید والایضا ح میں امام ذہبی کے اس قول کا اقرار کیا ہے اور امام ذہبی نے الکاشف میں اس کی یہ وضاحت فرمائی کہ تغیر موت سے پہلے واقع ہوا مگر پھر اس نے حدیث روایت نہیں کی ۔

اس لئےسعید بن ابوالحسن بصری امام ذہبی الکاشف میں لکھتے ہیں کہ سعید بن زید پر ضعف کا الزام لگانا درست نہیں کیونکہ امام مسلم نے اس سے روایات لی ہیں اور ابن معین نے اس کو ثقہ کہا ہے

حاافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں

قال البخاری : حدثنا مسلم قال : حدثنا سعید بن زید أبو الحسن صدوق ، حافظ .

امام بخاری نے کہا کہ مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیا ن کیا کہ سعید بن زید ابو الحسن صدوق اور حافظ ہے

و قال عباس الدوری ، عن یحیی بن معین : ثقۃ .

امام عباس دوری نے ابن معین سے روایت کیا کہ سعید بن زید ثقہ راوی ہے

و قال العجلی : بصری ثقۃ .

امام عجلی نے اس کو بصرہ کا ثقہ راوی بتلایاہے

و قال أبو زرعۃ : سمعت سلیمان بن حرب یقول : حدثنا سعید بن زید ، و کان ثقۃ .

و قال أبو جعفر الدارمی : حدثنا حبان بن ہلال حدثنا سعید بن زید ، و کان حافظا

صدوقا .

ابو زرعہ نے کہا کہ میں سلیمان بن حرب کوسنا کہ وہ فرمارہے تھے کہ سعید بن زید نے ہم کو حدیث بیان کی اور وہ ثقہ تھا

ابو جعفر دارمی نے کہا کہ حبان بن ھلال نے فرمایا کہ سعید بن زید حافظ تھا

ابن سعد نے اس کو ثقہ راوی کہا

عمرو بن مالک نکری

و قال المزی :

ذکرہ ابن حبان فی کتاب ” الثقات ” ، و قال : مات سنۃ تسع و عشرین و مءۃ .

روی لہ البخاری فی ” أفعال العباد ” و الأربعۃ .

عمرو بن مالک نکری کو حافظ ابن حبان نے ثقات میں شمار فرمایا ہے

اسی طرح امام ذہبی نے بھی ثقہ ہونے کی طرف اشارہ فرمایا

علامہ ناصر الدین البانی انہوں نے اپنی کتاب تعلیق علی فضل الصلوۃ علی النبی صفحہ ۸۸ پر لکھا کہ عمرو بن مالک نکری ثقہ ہے جیسا کہ امام ذہبی نے کہا اور سلسلۃالاحادیث الصحیحہ جلد ۵ صفحہ ۶۰۸ پر اس کو ثقہ کہا ہے

ابو الجوزاء

قال أبو حاتم : ثقۃ رضی .

و قال البزار : بصری ثقۃ مأمون .

و ذکرہ ابن حبان فی ” الثقات ” . کان عابدا فاضلا .

ابو حاتم ، امام بزار نے ابو الجوزاء کو ثقہ فرمایا اور ابن حبان نے اس کو ثقہ راویوں میں شمار فرمایا

فہذہ الکلمۃ من البخاری لیس فیہا جرح لذات الرجل، لما تقدم، نیؤکدہ: أنہ قال فی أبی خداشزیاد بن الربیع الیحمدی

1685): ” فی إسنادہ نظر “، ومع ذلک فقد احتج بہ فی ” صحیحہ “.

انظر ” الکامل ” 3: 1052، و ” المیزان ” 2 2937).

امام بخاری کاابو الجوزاء کے لئے یہ فرمانا کہ اس کی اسناد میں نظر ہے یہ کلمات کسی شخص کی جرح کے لئے نہیں ہیں کہ امام بخاری نے أبی خداشزیاد بن الربیع الیحمدی کے بارے میں بھی کہا کہ اس کی اسناد میں نظر ہے اس کے باوجود اپنی کتاب بخاری میں اس سے دلیل پکڑی ہے

فہذا ظاہرہ أنہ لم یشافہہا ، لکن لا مانع من جواز کونہ توجہ إلیہا بعد ذلک فشافہہا ، علی مذہب مسلم فی إمکان اللقاء

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں

پس یہ اس کا ظاہر ہے کہ اس نے حضرت عائشہ سے بالمشافہ ملاقات نہیں کی لیکن یہ بات اس چیز کے جواز میں مانع نہیں ہے کہ اس نے اس کے بعد حضرتت عائشہ سے ملاقات نہ کی ہو پس اس نے حضرت عائشہ سے امام مسلم کے مذہب پر ملاقات کے امکان پربالمشافہ ملاقات کی ہے

اور امام مسلم نے ابوالجوزاء کی روایت کو مسلم میں لیا بھی ہے جو کہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہ چقہ راوی تھا نیز اس کے علاوہ بھی دیگر صحاح ستہ کے محدثین نے اس کی روایت کو لیا ہے ۔

وقال فی جامع الأصول: أبوالجوزاء سمع من عائشۃ، فارتفعت العلۃ رأساً.

جامع الاصول میں ہے کہ ابو الجوزاء نے حضرت عائشہ سے سماع کیا ہے پس وہ علت مرتفع ہوگئی

اس بحث سے یہ ثابت ہوا کہ یہ حدیث درست ہے اور قابل حجت ہے اور اور اس کے راوی صحیح ہیں۔

اب مجھے معلوم ہے کہ بعض حضرات کو یہ باتیں ہضم نہیں ہونگی وہ اس پر بھی نکتہ چینی کریں گے اور کہیں گے کہ جناب ان راویوں کو فلاں جگہ ضعیف کہا گیا ہے فلا ں جگہ یہ کہا گیا ہے وغیرہ وغیرہ

اب چونکہ ان کا کام ہے لوگوں پر شرک کا فتوی دینے کا اور لگوں کو گمراہ کہنے کا لہذا یہ ان محدثین کے بارے میں ان ثقہ (سچا ) ہونے کو نہیں لیں گے بلکہ یہ وہ قول لیں گے کہ جس سے ان محدثین کو جھوٹا یا کذاب یا ضعیف کہا جائے کیونکہ انہیں تو اسی میں مزہ آتا ہے کاش کبھی تو مسلمانوں کی سچائی اور دیانت داری والے قول کو لے لیں

1- حسين سليم أسد الداراني : رجاله ثقات وهو موقوف على عائشة

2- ابن حجر العسقلاني : تخريج مشكاة المصابيح (ج5 / ص362): [حسن كما قال في المقدمة]

3- محمود سعيد ممدوح : رفع المنارة ص203: قلت : هذا إسناد حسن إن شاء الله تعالى

4- تقي الدين علي السبكي : شفاء السقام ص128: استدل بالحديث

5- حسن بن علي السقاف: الإغاثة ص25: وهذا صريح أيضاً بإسناد صحيح

6- ذكر العلامة السمهودي في خلاصة الوفا : إن من الأدلة على صحة التوسل بالنبي صلى الله عليه وسلم بعد وفاته ما رواه الدارمي في صحيحه عن أبي الجوزاء ثم ذكر الحديث …

صحح السند (وليس المتن) المذكور كل من – والسند هو: أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ:

7- المحقق شعيب الأرنؤوط : مسند احمد (ج6 / ص72) ح24478: مرفوعه صحيح لغيره وهذا إسناد حسن

8- الحافظ الهيثمي : مجمع الزوائد (ج7 / ص392) ح13035: رواه أحمد والطبراني في الأوسط ورجاله رجال الصحيح، غير عمرو بن مالك البكري وهو ثقة. 

9- المحقق حمزة الزين : مسند احمد (ج17 / ص330): اسناده صحيح،،،

دعاگو۔ اسدفرحان

181020170011810201700218102017003