کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 3 رکوع 11 سورہ آل عمران آیت نمبر21 تا 30

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّۙ-وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(۲۱)

وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے (ف۴۸) اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو دردناک عذاب کی

(ف48)

جیسا کہ بنی اسرائیل نے صبح کو ایک ساعت کے اندر تینتالیس(۴۳) نبیوں کو قتل کیا پھر جب ان میں سے ایک سو بارہ عابدوں نے اٹھ کر انہیں نیکیوں کا حکم دیااور بدیوں سے منع کیا تو اسی روز شام کو انہیں بھی قتل کردیا اس آیت میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے یہود کو تو بیخ ہے کیونکہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے ایسے بدترین فعل سے راضی ہیں

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ٘-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ(۲۲)

یہ ہیں وہ جن کے عمل اکارت گئے دنیا و آخرت میں (ف۴۹) اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۵۰)

(ف49)

مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی جناب میں بے ادبی کفر ہے اور یہ بھی کہ کُفر سے تمام اعمال اکارت ہوجاتے ہیں

(ف50)

کہ انہیں عذابِ الٰھی سے بچائے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ(۲۳)

کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا (ف۵۱)کتابُ اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ وہ ان کا فیصلہ کرے پھر ان میں کا ایک گروہ اس سے رُوگرداں ہو کر پھر جاتا ہے (ف۵۲)

(ف51)

یعنی یہود کو کہ انہیں توریت شریف کے علوم و احکام سکھائے گئے تھے جن میں سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف و احوال اور دینِ اسلام کی حقانیت کا بیان ہے اس سے لازم آتا تھا کہ جب حضور تشریف فرما ہوں اور انہیں قرآنِ کریم کی طرف دعوت دیں تو وہ حضور پر اور قرآن شریف پر ایمان لائیں اور اس کے احکام کی تعمیل کریں لیکن ان میں سے بہتوں نے ایسا نہیں کیا اس تقدیر پر آیت میں ” مِنَ الْکِتَابِ ” سے توریت اور کتاب اللہ سے قرآن شریف مراد ہے۔

(ف52)

شان نزول اس آیت کے شان نزول میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت یہ آئی ہے کہ ایک مرتبہ سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم بیت المِدراس میں تشریف لے گئے اور وہاں یہود کو اسلام کی دعوت دی نُعَیۡم ابن عمرو اور حارث ابن زید نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کس دین پر ہیں فرمایا، ملّتِ ابراہیمی پر وہ کہنے لگے حضرت ابراہیم علیہ السلام تو یہودی تھے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا توریت لاؤ ابھی ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ ہوجائے گا اس پر نہ جمے اور منکر ہوگئے اس پر یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی اس تقدیر پر آیت میں کتاب اللہ سے توریت مراد ہے انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ یہود خیبر میں سے ایک مر دنے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا تھا اور توریت میں ایسے گناہ کی سزا پتھر مار مار کر ہلاک کردینا ہے لیکن چونکہ یہ لوگ یہودیوں میں اونچے خاندان کے تھے اس لئے انہوں نے ان کا سنگسار کرنا گوارہ نہ کیا اوراس معاملہ کو بایں امید سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے پاس لائے کہ شایدآپ سنگسار کرنے کا حکم نہ دیں مگر حضور نے ان دونوں کے سنگسار کرنے کا حکم دیا اس پر یہود طیش میں آئے اور کہنے لگے کہ اس گناہ کی یہ سزا نہیں آپ نے ظلم کیا ، حضور نے فرمایا کہ فیصلہ توریت پر رکھو کہنے لگے یہ انصاف کی بات ہے توریت منگائی گئی اور عبداللہ بن صوریا یہود کے بڑے عالم نے اس کو پڑھا اس میں آیت رجم آئی جس میں سنگسار کرنے کا حکم تھا عبداللہ نے اس پر ہاتھ رکھ لیا اور اس کو چھوڑ گیا حضرت عبداللہ بن سلام نے اس کا ہاتھ ہٹا کر آیت پڑھ دی یہودی ذلیل ہوئے اور وہ یہودی مرد و عورت جنہوں نے زنا کیا تھا حضور کے حکم سے سنگسار کئے گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ۪- وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۲۴)

یہ جرأٔت (ف۵۳) انہیں اس لیے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہر گز ہمیں آ گ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے دنوں (ف۵۴) اور ان کے دین میں انہیں فریب دیا اُس جھوٹ نے جو باندھتے تھے (ف۵۵)

(ف53)

کتابِ الٰہی سے رو گردانی کرنے کی۔

(ف54)

یعنی چالیس دن یا ایک ہفتہ پھر کچھ غم نہیں۔

(ف55)

اور ان کا یہ قول تھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں وہ ہمیں گناہوں پر عذاب نہ کرے گا مگر بہت تھوڑی مدت

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ۫-وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۲۵)

تو کیسی ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن کے لیے جس میں شک نہیں (ف۵۶) اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھردی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا

(ف56)

اور وہ روز قیامت ہے۔

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ٘-وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ-بِیَدِكَ الْخَیْرُؕ-اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۲۶)

یوں عرض کر اے اللہ ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جسے چاہے سلطنت چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے بے شک تو سب کچھ کرسکتا ہے (ف۵۷)

(ف57)

شانِ نزول فتح مکہ کے وقت سیّد انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو ملک فارس و روم کی سلطنت کا وعدہ دیا تو یہود و منافقین نے اس کو بہت بعید سمجھا اور کہنے لگے کہاں محمد مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور کہاں فارس و روم کے ملک وہ بڑے زبردست اور نہایت محفوظ ہیں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور آخر کار حضور کا وہ وعدہ پورا ہوکررہا۔

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ٘-وَ تُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ٘-وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۲۷)

تو رات کا حصہ دن میں ڈالے اوردن کا حصہ رات میں ڈالے(ف۵۸) اور مُردہ سے زندہ نکالے اور زندہ سے مردہ نکالے (ف۵۹) اور جسے چاہے بے گنتی دے(آیت ۲۷)

(ف58)

یعنی کبھی رات کو بڑھائے دن کو گھٹائے اور کبھی دن کو بڑھا کر رات کو گھٹائے یہ تیری قدرت ہے تو فارس و روم سے ملک لے کر غلامانِ مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کو عطا کرنا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے

(ف59)

زندے سے مردے کا نکالنا اس طرح ہے جیسے کہ زندہ انسان کو نطفۂ بے جان سے اور پرند کے زندہ بچے کو بے روح انڈے سے اور زندہ دِل مؤمن کو مردہ دل کافر سے اور زندہ سے مُردہ نکالنا اس طرح جیسے کہ زندہ انسان سے نطفۂ بے جان اور زندہ پرند سے بے جان انڈا اور زندہ دل ایمان دار سے مردہ دِل کافر

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةًؕ-وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ(۲۸)

مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا (ف۶۰) اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ(تعلق) نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو (ف۶۱) اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے

(ف60)

شانِ نزول حضرت عبادہ ابنِ صامت نے جنگِ احزاب کے دِن سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے عرض کیا کہ میرے ساتھ پانچسو یہودی ہیں جو میرے حلیف ہیں میری رائے ہے کہ میں دشمن کے مقابل ان سے مدد حاصل کروں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور کافروں کو دوست اور مدد گار بنانے کی ممانعت فرمائی گئی۔

(ف61)

کفار سے دوستی و محبّت ممنوع و حرام ہے، انہیں راز دار بنانا اُن سے موالات کرنا ناجائز ہے اگر جان یا مال کا خوف ہو تو ایسے وقت صرف ظاہری برتاؤ جائز ہے۔

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُؕ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۲۹)

تم فرمادو کہ اگر تم اپنے جی کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ﳝ- وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍۚۛ-تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًاؕ-وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ-وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠(۳۰)

جس دن ہر جان نے جو بھلا کام کیا حاضر پائے گی (ف۶۲) اور جو بُرا کام کیا امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا (ف۶۳) اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے اور اللہ بندوں پر مہربان ہے

(ف62)

یعنی روز قیامت ہر نفس کو اعمال کی جزا ملے گی اور اس میں کچھ کمی و کوتاہی نہ ہوگی

(ف63)

یعنی میں نے یہ برا کام نہ کیا ہوتا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.