کیا ہم بضاعہ کنویں سے وضو کریں

حدیث نمبر :453

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں عرض کیا گیا یارسول اﷲ کیا ہم بضاعہ کنویں سے وضو کریں ۱؎ وہ ایساکنواں تھا جس میں حیض کے لتے کتوں کے گوشت اورگندگیاں ڈالے جاتے تھے ۲؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پانی پاک ہے اسے کوئی چیزناپاک نہیں کرتی۳؎ (احمد،ترمذی،ابوداؤد،و نسائی)

شرح

۱؎ یہ کنواں مدینہ منورہ محلہ بنی ساعدہ میں واقع ہے،بنی ساعدہ خزرج کا ایک قبیلہ ہے۔فقیر نے اس کنوئیں کی زیارت بھی کی ہے اور اس کاپانی بھی پیا ہے۔

۲؎ یعنی یہ کنواں گویا مدفون کوڑی تھا کہ مدینہ کی گلیاں و کوچے صاف کرکے کوڑا کرکٹ وہاں ڈال دیا تھا جیسے ہمارے ہاں بھی ایسے گڑھے دیکھے گئے ہیں۔

۳؎ اَلْمَاءُ میں الف لام عہدی ہے یعنی یہ پانی پاک ہے ان گندگیوں سے ناپاک نہیں ہوتا۔امام شافعی کے نزدیک تو اس لئے کہ وہ پانی قلتین سے زیادہ تھا،امام اعظم کے نزدیک اس لیے کہ وہ پانی جاری تھایعنی مدفون نہر پر یہ کنواں واقع تھا جیسا کہ مکہ مکرمہ میں نہر زبیدہ پراور مدینہ طیبہ میں نہر زرقاءپرتمام کنوئیں ہیں جو بظاہر کنوئیں معلوم ہوتے ہیں مگر حقیقت میں دبی ہوئی نہر،امام اعظم کا قول قوی ہے کیونکہ قلتین تو کیاسینکڑوں قلے پانی اتنی گندگی پڑنے سے بگڑ جائے گا ہمارے کنوئیں میں اگر ایک بلی پھول پھٹ جائے تو پانی سڑجاتا ہے،لہذا یہ حدیث امام شافعی کے خلاف ہوگی۔ہاں جاری پانی چونکہ سب کچھ بہا کر لے جائے گا،اس لئے کہ اس کے ناپاک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اب بھی بیر بضاعہ وغیرہ میں جھانک کر دیکھو تو پانی بہتا ہوانظر آتا ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.