قوتِ اجتماعی کی ضرورت

خالص اہلسنت کی ایک قوتِ اجتماعی کی ضرور ضرورت ہے مگر اس کے لئے تین چیزوں کی سخت حاجت ہے ۔

(1) علماء کا اتفاق

(2) تحمل شاق قدر بالطاق (یعنی بقدر طاقت مشقت کو برداشت کرنا)

(3) امراء کا انفاق لوجہ الخلاق (یعنی اہلسنت کے مالدار اور وسائل رکھنے والے افراد کا اللہ کی رضا کے لئے مال خرچ کرنا)

یہاں یہ سب باتیں مفقود ہیں فإن لله وإنا إليه راجعون .

علماء کی حالت ::

—————–

1- علماء کی یہ حالت ہے کہ رئیسوں سے بڑھ کر آرام طلب ہیں۔

2- حمایتِ مذہب (اہلسنت) کے نام سے گھبراتے ہیں۔

3- جو بندہ خدا اپنی جان اس (عقائد و نظریاتِ اہلسنت کے دفاع) پر وقف کرے اسے احمق بلکہ مفسد سمجھتے ہیں ۔

4- مداہنت (یعنی اپنے کسی فائدے کی خاطر حق بیان کرنے سے رک جانا) ان کے دلوں میں پیری (رچی بسی) ہوئی ہے۔

مداہنت کی مثال:

ایامِ ندوہ میں ہندوستان بھر کا تجربہ ہوا ، عباراتِ ندوہ سن کر ضلالت ضلالت کی رٹ لگادیں اور جب کہئے حضرت لکھ دیجئے ، بھائی لکھواؤ نہیں ہمارے فلاں دوست برا مانیں گے ، ہمارے فلاں استاد کو برا لگے گا ، بہت کو یہ خیال کہ مفت میں اوکھلی میں سر دے کر مُوسل کون کھائے (یعنی مفت میں اپنی جان کو خطرے میں کیوں ڈالا جائے) بدمذہب دشمن ہوجائیں گے ، دانتوں پر رکھ لیں گے ، گالیاں پھبتیاں اخباروں اشتہاروں میں چھاپیں گے۔ طرح طرح کے بہتان افتراء اُچھالیں گے ، اچھی بچھی جان کو کون جنجال میں ڈالے ، بعض کو یہ کد کہ حمایتِ مذہب کی تو صلح کلی نہ رہے گی الخ

اتفاقِ علماء کا حال کہ ::

1- حسد کا بازار گرم ۔

2- ایک کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہیترے سچے اس کے مخالف ہوگئے ۔

3- اس کی توہین تشنیع میں گمراہوں کے ہم زبان بنے کہ "ہیں” لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے ۔

4- اب فرمائیں کہ وہ قوم کہ اپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکے ، اپنے ناقصوں کو کامل ، قاصروں کو ذی فضل بنانے میں کیا کوشش کرے گی ؟ حاشا یہ کلیہ نہیں مگر للاکثر حکم الکل۔

اعلی حضرت کا اپنا کردار ::

5- فقیر میں لاکھوں عیب ہیں مگر میرے رب نے مجھے حسد سے بالکل پاک رکھا ہے ، اپنے سے جسے زیادہ پایا اگر دنیا کے مال و منال میں زیادہ ہے قلب نے اندر سے حقیر جانا ، پھر حسد کیا حقارت پر؟ اور اگر دینی شرف و افضال میں زیادہ ہے اس کی دست بوسی و قدم بوسی کو اپنا فخر جانا ، پھر حسد کیا معظم بابرکت پر؟ اپنے میں جسے حمایتِ دین پر دیکھا اس کے نشرفضائل اور خلق کو اس کی طرف مائل کرنے میں تحریرا و تقریرا ساعی رہا ، اس کے لئے عمدہ القاب وضع کرکے شائع کئے جس پر میری کتاب "المعتمد المستند” وغیرہ شاہد ہیں ۔

ہمارے امیروں کی حالت ::

————————–

1- ہمارے اغنیاء نام چاہتے ہیں۔

2- معصیت بلکہ صریح ضلالت میں ہزاروں اڑادیں ، خزانوں کے منہ کھول دیں ، یونیورسٹی کے لئے کتنی جلد تیس لاکھ جمع ہوگیا۔ مدرسہ دیوبند کو ایک عورت نے پچاس ہزار روپے دے دیا ، مگر کسی سنی مدرسہ کو بھی یہ دن نصیب ہوا ؟

3- اول تو تائیدِ دین و مذہب جن کا نام لئے گھبرائیں گے ، میاں ! یہ ان مولویوں کے جھگڑے ہیں۔

4- اور شرما شرمی خفیف و ذلیل (معمولی) چندہ بھی مقرر کیا تو:

جب تک سر پر سوار نہ ہوا جائے، وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا (سورۂ آل عمران ۔ آیۃ 75)

یعنی معمولی رقم بھی ادا کرنے سے جی چراتے ہیں ۔

5- بلکہ تقاضا کیجئے تو بگڑیں۔

6- ڈھیل دیجئے تو سَو رہیں (یعنی چندہ کے نام پر سوتے رہتے ہیں)

ہمارے کارکنوں کی حالت ::

————————–

1- ادھر ہمارے کارکنوں کو وہ چال و جال معلوم نہیں جس سے وہابیہ خذلہم اللہ تعالی (اللہ تعالی انہیں رسوا کردے) بندگانِ خدا کو چھل کر نہ صرف اپنے ہم مذہبوں بلکہ اپنے ہم مشربوں سے روپیہ اینٹھتے ہیں ۔

2- اسکے لئے ریا و نفاق و مکر و خداع (فریب و دھوکہ دہی) و بے حیائی و بے عزتی لازم ہے ، وہ نہ آپ میں ہے نہ آپ کی شریعت اس کی اجازت دے ، پھر کہیئے کام کیوں کر چلے ۔

بالجملہ اہلسنت سے امورِ ثلثہ مفقود ہیں، پھر فرمائیں صورت کیا ہو۔

(خلاصہ و ترمیم : فتاوی رضویہ جلد 29 ، ص 597 – 598)

ابو محمد عارفین القادری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.