نبیذ

حدیث نمبر :455

روایت ہے ابو زید سے وہ عبداﷲ ابن مسعود سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کی رات ۱؎ ان سے فرمایا کہ تمہارے برتن میں کیا ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا نبیذ ہے۲؎ فرمایا کھجور پاک ہے اور پانی پاک کرنے والا۳؎ ابوداؤد،احمد،ترمذی نے زیادہ کیا کہ پھر اس سے وضو فرمایا۔ترمذی کہتے ہیں کہ ابو زید مجہول ہے۴؎حضرت علقمہ بروایت صحیح حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے نقل ہے فرماتے ہیں میں جنات کی رات حضور کے ساتھ تھا ہی نہیں ۵؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی جس رات جنات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے لیے حاضر ہوئے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تبلیغ کرنے کے لئے ابن مسعود کو اپنے ساتھ لےکر شہر سے باہرتشریف لے گئے حضرت ابن مسعود کے پاس حسب عادت پانی کا لوٹا تھا۔

۲؎ یعنی کھجور کا زلال(نتھرا ہوا شربت)کہ رات کو کھجوریں پانی میں بھگودی جائیں،صبح کو نتھارلیا جائے۔

۳؎ یہ فرماکرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سے وضو کیا جیسا کہ مصابیح کی روایت میں ہے۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ کھجور کے شربت سے وضو جائز ہے بشرطیکہ گاڑھا نہ پڑا ہو بلکہ خوب پتلا ہو۔

۴؎ یعنی ان کے حالات کا علم نہ ہوسکا کہ کیسے تھے۔لیکن امام ابن ہمام فرماتے ہیں کہ ابو زیدعمروابن حریث کے آزادکردہ غلام ہیں،ان سے راشد ابن کیسان اورابو رقاق نے روایت لی ہے اور جس راوی سے ایسے محدثین روایت لے لیں وہ مجہول نہیں رہتا۔توریشتی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بہت سی ضعیف اسنادوں سے مروی ہے لیکن بہت ضعیف اسنادیں مل کر قوی ہوجاتی ہیں دیکھو کتب اصول حدیث۔۵؎ خیال رہے کہ لیلۃ الجن چھ ہیں:ایک باربقیع الغرقد میں جنات کو تبلیغ اسلام کی اس میں حضرت ابن مسعود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے،دوبار مکہ معظمہ میں ایک بارمدینہ طیبہ میں زبیر ابن عوام ہمراہ تھے۔لہذا علقمہ کی یہ روایت بھی درست ہے کہ ابن مسعود ہمراہ نہ تھے،اور وہ بھی درست ہے کہ ہمراہ تھے اور نبیذ کا واقع پیش آیا۔یا علقمہ کی روایت کا یہ مطلب ہے کہ حضرت ابن مسعود "لیلۃ الجن”میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبلیغ کے وقت نہ تھے کیونکہ حضور ان کو دور چھوڑ گئے تھے اور آپ کے اردگرد حصار کے لئے گول خط کھینچ کر فرما گئے تھے کہ اس سے آگے نہ نکلنا جیسا کہ دوسری روایات میں ہے،اسی سے صوفیائے کرام حصار کے مسائل مستنبط کرتے ہیں۔لہذا حضرت علقمہ کی یہ حدیث اس دوسری حدیث کے خلاف نہیں۔(مرقاۃ و اشعۃ)خیال رہے کہ کھجور کے نبیذ سے وضوجائزہونا خلاف قیاس ہے کیونکہ نبیذ مطلق پانی نہیں اور وضو صرف مطلق پانی سے ہی ہوسکتا ہے مگرچونکہ حدیث پاک میں واردہوگیالہذا سواء کھجور کی نبیذ کے اور کسی نبیذ سے وضو جائز نہیں جیسے کشمش وغیرہ کا نبیذ۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ امام اعظم حدیث کے مقابل قیاس پرعمل کرتے ہیں۔نعوذ با ﷲ!

یہ بھی خیال رہے کہ کھجور کے نبیذ سے وضو جب ہی درست ہے جب کہ گاڑھا نہ ہو پانی کے اجزاء غالب ہوں اگر کھجور کے اجزاء غالب ہوگئے ہوں اورپانی گاڑھا پڑ گیاہوتو وضو جائزنہیں،تیمم کیا جائے۔اوراگر اس غلبہ میں شک ہو تو وضو بھی کرے اورتیمم بھی۔لہذا امام صاحب سے جو مروی ہے کہ آپ نے کبھی تو نبیذسے وضو کا حکم دیا،کبھی وضو سے منع فرمایا،تیمم کا حکم دیا اورکبھی دونوں کا،یہ مختلف حالات میں ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.